Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Please briefly explain why you feel this question should be reported.
Please briefly explain why you feel this answer should be reported.
Please briefly explain why you feel this user should be reported.
’ستارے زمین پر‘ اور عامر خان کا ’جوا‘: وہ فلم جس کے لیے ’مسٹر پرفیکشنسٹ‘ نے 120 کروڑ کی ڈیل ٹھکرا دی
’لال سنگھ چڈھا‘ کی ناکامی نے عامر خان کو نہ صرف تجارتی بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی ہلا کر رکھ دیا تھا
’لال سنگھ چڈھا‘ کی ناکامی نے عامر خان کو نہ صرف تجارتی بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی ہلا کر رکھ دیا تھا
’ستارے زمین پر‘ اور عامر خان کا ’جوا‘: وہ فلم جس کے لیے ’مسٹر پرفیکشنسٹ‘ نے 120 کروڑ کی ڈیل ٹھکرا دی
تین سال کی طویل خاموشی کے بعد عامر خان جمعہ کو بڑے پردے پر واپس آرہے ہیں۔ ان کی نئی فلم ’ستارے زمین پر‘ کو ان کی ’کم بیک‘ فلم کہا جا رہا ہے۔ تاہم ممبئی فلم انڈسٹری میں یہ سوال بہت زیر بحث ہے کہ کیا 60 سالہ عامر خان ایک بلاک بسٹر فلم سے واپسی کر پائیں گے جیسا کہ شاہ رخ خان نے دو سال قبل ’پٹھان‘ کے ذرRead more
تین سال کی طویل خاموشی کے بعد عامر خان جمعہ کو بڑے پردے پر واپس آرہے ہیں۔ ان کی نئی فلم ’ستارے زمین پر‘ کو ان کی ’کم بیک‘ فلم کہا جا رہا ہے۔
تاہم ممبئی فلم انڈسٹری میں یہ سوال بہت زیر بحث ہے کہ کیا 60 سالہ عامر خان ایک بلاک بسٹر فلم سے واپسی کر پائیں گے جیسا کہ شاہ رخ خان نے دو سال قبل ’پٹھان‘ کے ذریعے کیا تھا؟
اس موازنہ کے پیچھے ایک ٹھوس وجہ ہے۔ عامر کی طرح بالی وڈ سپر سٹار شاہ رخ خان کی شہرت کچھ سال قبل بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ ان کی فلم ’فین‘، ’جب ہیری میٹ سیجل‘ اور ’زیرو‘ جیسی بڑی فلمیں باکس آفس پر بری طرح فلاپ ہوئی تھیں۔
اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو عامر کی آخری ہٹ فلم ’دنگل‘ نو سال قبل ریلیز ہوئی تھی۔ اس کے بعد دو بڑی فلمیں، ’ٹھگز آف ہندوستان‘ اور ’لال سنگھ چڈھا‘ باکس آفس پر فلاپ ہوئیں اور عامر کے فلمی کیریئر پر بھی سوالات اٹھائے گئے خاص طور پر ’لال سنگھ چڈھا‘ کی ناکامی، جسے انھوں نے پروڈیوس بھی کیا تھا، نے عامر خان کو نہ صرف تجارتی بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی ہلا کر رکھ دیا تھا۔
عامر نے ماضی میں بھی ان حالات کا سامنا کیا
عامر خان نے بالی وڈ میں بطور ہیرو ڈیبیو 1988 کی بلاک بسٹر فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ سے کیا تھا۔ ان کا تعلق ایک فلمی گھرانے سے ہے۔
ان کے والد طاہر حسین ایک فلم پروڈیوسر تھے اور چچا ناصر حسین ایک کامیاب سکرین رائٹر، پروڈیوسر اور ہدایت کار تھے۔
لیکن ’قیامت سے قیامت تک‘ سے راتوں رات سٹار بننے والے عامر کی اگلی کئی فلمیں بری طرح فلاپ ہوئی تھیں۔
اس کے بعد انھوں نے بلاک بسٹر فلم ’دل‘ سے فملی دنیا میں واپسی کی۔ آنے والے سالوں میں، وہ ہٹ اور فلاپ کے سفر سے گزرے اور ’راجہ ہندوستانی‘، ’رنگیلا‘، ’غلام‘ اور ’سرفروش‘ جیسی کامیاب فلموں کے ذریعے ایک بڑے سٹار بنے
امریش پوری: بالی وڈ کے خطرناک ولن ’موگیمبو‘ جو فلم کے ہیرو سے بھی زیادہ مشہور ہوئے
’موگیمبو‘ کو بالی ووڈ کی تاریخ میں سنگ میل کردار سمجھا جاتا ہے
’موگیمبو‘ کو بالی ووڈ کی تاریخ میں سنگ میل کردار سمجھا جاتا ہے




See lessامریش پوری: بالی وڈ کے خطرناک ولن ’موگیمبو‘ جو فلم کے ہیرو سے بھی زیادہ مشہور ہوئے
1987 میں جب شیکھر کپور کی فلم ’مسٹر انڈیا‘ ریلیز ہوئی تو اس میں ولن کا کردار ادا کرنے والے امریش پوری نے ہیرو سے زیادہ سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ ’موگیمبو‘ کو بالی وڈ کی تاریخ میں سنگ میل کردار سمجھا جاتا ہے۔ بالاجی وٹل اپنی کتاب ’پیور ایول: دی بیڈ مین آف بالی وڈ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’موگیمبو نےRead more
1987 میں جب شیکھر کپور کی فلم ’مسٹر انڈیا‘ ریلیز ہوئی تو اس میں ولن کا کردار ادا کرنے والے امریش پوری نے ہیرو سے زیادہ سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔
’موگیمبو‘ کو بالی وڈ کی تاریخ میں سنگ میل کردار سمجھا جاتا ہے۔
بالاجی وٹل اپنی کتاب ’پیور ایول: دی بیڈ مین آف بالی وڈ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’موگیمبو نے اپنی شخصیت میں ولن کی تصویر کشی کی تھی لیکن وہ خواتین کے خلاف تشدد کو ناپسند کرتے تھے۔ ان کا اپنی طرف توجہ مبذول کروانے کا انداز بالکل بچگانہ تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو ہٹلر کے انداز میں ’ہیل موگیمبو‘ کہنے پر مجبور کرتے۔ سامعین کی نظروں میں شرارت تھی اور وہ موگیمبو کے انداز پر تالیاں بجانے پر مجبور ہو گئے۔‘
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے نوشہرہ میں پیدا ہونے والے امریش پوری نے اپنی ابتدائی تعلیم بی ایم کالج، شملہ سے حاصل کی۔ پچاس کی دہائی میں وہ بمبئی چلے گئے جہاں ان کے دو بھائی مدن پوری اور چمن پوری پہلے ہی فلموں میں کام کر رہے تھے۔ امریش پوری، جو اپنی ٹریڈ مارک ٹوپی، چوڑے کندھوں، لمبے قد اور بھاری آواز کے لیے مشہور ہیں، کو ان کا پہلا موقع انڈین تھیٹر کی مشہور شخصیت الکازی نے دیا۔
امریش پوری اپنی سوانح عمری ’دی ایکٹ آف لائف‘ میں لکھتے ہیں کہ ’الکازی نے مجھے پانچ منٹ کے اندر ایک سکرپٹ دے کر بے پناہ اعتماد سے بھر دیا، میں جانتا تھا کہ جب میں لمبی راہداری کے دوسرے سرے پر ان کی میز کی طرف بڑھ رہا تھا تو وہ مجھے غور سے دیکھ رہے تھے۔‘
’انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا مجھے تھیٹر میں دلچسپی ہے؟ جیسے ہی میں نے ہاں کہا انھوں نے فوراً مجھے ایک سکرپٹ نکال کر دیا اور کہا کہ میں آرتھر ملر کے ڈرامے ’اے ویو فرام دی برج‘ میں مرکزی کردار ادا کروں گا۔
اس کے بعد امریش پوری نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
ہائبرڈ نظام کی معاشی شکل اور فوج کا کردار: زراعت اور سیاحت سے متعلق ’ایس آئی ایف سی‘ کے منصوبوں پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
اُن کے مطابق چین کی طرف سے بھی ایسی ہی درخواست آئی تھی جس کے بعد ’ایس آئی ایف سی‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔
اُن کے مطابق چین کی طرف سے بھی ایسی ہی درخواست آئی تھی جس کے بعد ’ایس آئی ایف سی‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔
ہائبرڈ نظام کی معاشی شکل اور فوج کا کردار: زراعت اور سیاحت سے متعلق ’ایس آئی ایف سی‘ کے منصوبوں پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ عہدیداران کے درمیان ایک اہم ملاقات چل رہی تھی جہاں بات قرضوں کے رول اوور سے شروع ہوئی مگر پھر اچانک یو اے ای کے حکام نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہشمند کمپنیوں کی طرف سے شکایات پر بات شروع کر دی۔ پھر دونوں ممالک کے حکام نے اتفاق کیا کہ پاکستان ایک ایسا نظامRead more
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ عہدیداران کے درمیان ایک اہم ملاقات چل رہی تھی جہاں بات قرضوں کے رول اوور سے شروع ہوئی مگر پھر اچانک یو اے ای کے حکام نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہشمند کمپنیوں کی طرف سے شکایات پر بات شروع کر دی۔
پھر دونوں ممالک کے حکام نے اتفاق کیا کہ پاکستان ایک ایسا نظام تشکیل دے گا جس سے آئندہ سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹوں کو ’ون ونڈو‘ کے ذریعے دور کیا جائے گا۔
اسی نوعیت کی ہونے والی چند دیگر ملاقاتوں کے بعد پاکستان کی جانب سے ایک خصوصی کونسل تشکیل دی گئی جس کا نام ’ایس آئی ایف سی‘ یعنی سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل رکھا گیا۔
سینیئر ماہر معیشت ڈاکٹر وقار احمد بھی ماضی میں اِس کونسل کا حصہ رہ چکے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہ بات آئی تھی کہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے متعلق اُن کی کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا ایسی کوئی اتھارٹی ہونی چاہیے کہ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہو سکیں اُن کے مطابق چین کی طرف سے بھی ایسی ہی درخواست آئی تھی جس کے بعد ’ایس آئی ایف سی‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔
ایس آئی ایف سی نے زراعت و لائیو سٹاک، معدنیات، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام، صنعت، سیاحت و نجکاری جیسے پانچ اہم شعبوں کو ٹارگٹ کیا اور فیصلہ ہوا کہ ان شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔
وہ تمام پانچ شعبے جو ایس آئی ایف سی نے منتخب کیے اُن سب کے لیے ایک، ایک پرائیویٹ کمپنی رجسٹر کی گئی۔ ایس آئی ایف سی کے تحت بننے والی ان کمپنیوں کی سربراہی ریٹائرڈ آرمی افسران کر رہے ہیں جبکہ ایس آئی ایف سی کے سربراہان کی لِسٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ساتھ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا نام بھی شامل ہے۔
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دوسری جانب ناقدین اس ادارے میں فوج کی شمولیت اور فیصلہ سازی میں فوجی افسران کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایس آئی ایف سی کی وجہ سے سویلین معاملات میں سویلین اداروں کی طرف سے فیصلہ سازی کی سپیس مزید کم ہو رہی ہے؟
اس کے ساتھ ساتھ بی بی سی کی جانب سے کی گئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ ایس آئی ایف سی کے تحت بنائی جانے والی یہ کمپنیاں اِن شعبوں میں پہلے سے کام کرنے والے بعض مقامی افراد کے لیے مشکلات کا باعث بنی ہیں اور متاثرہ مقامی افراد اُن سے خوش نہیں ہیں۔
جبکہ اس بات کے بھی کوئی واضح شواہد نہیں ہیں کہ ایس آئی ایف سی کے قیام کے بعد سے گذشتہ دو برسوں میں اس ادارے کی وجہ سے پاکستان میں بڑے پیمانے پرکوئی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی ہو۔
بی بی سی نے دو شعبوں یعنی زراعت اور سیاحت سے متعلق معاملات جاننے کے لیے گلگت بلتستان اور سندھ کا دورہ کیا ہے۔
گلگت بلتستان میں بعض مقامی افراد ایس آئی ایف سی کی جانب سے سیاحت کے شعبے میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے ناخوش ہیں جبکہ سندھ میں کسان ’گرین انیشی ایٹیو‘ کے تحت زراعت کے منصوبوں اور پانی کے مسئلے پر سراپا احتجاج ہیں
چینی کی قیمت میں اضافے سے شوگر ملوں کو 300 ارب روپے کا منافع، ان ملز کے مالکان کون ہیں؟
نشاندہی کی گئی کہ مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں اضافے سے شوگر ملوں نے 300 ارب روپے کا منافع کمایا۔
نشاندہی کی گئی کہ مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں اضافے سے شوگر ملوں نے 300 ارب روپے کا منافع کمایا۔






See lessچینی کی قیمت میں اضافے سے شوگر ملوں کو 300 ارب روپے کا منافع، ان ملز کے مالکان کون ہیں؟
پاکستان میں پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی نے ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معامل پر بلائے گئے اجلاس میں گزشتہ مالی سال میں اس کی برآمد اور موجودہ مالی سال کے پہلے مہینے میں حکومت کی جانب سے اس کی درآمد کی اجازت کی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں گزشتہ مالی سال میں چینی برآمد کرنےRead more
پاکستان میں پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی نے ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معامل پر بلائے گئے اجلاس میں گزشتہ مالی سال میں اس کی برآمد اور موجودہ مالی سال کے پہلے مہینے میں حکومت کی جانب سے اس کی درآمد کی اجازت کی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا۔
اجلاس میں گزشتہ مالی سال میں چینی برآمد کرنے والی شوگر ملوں کی تفصیلات بھی جمع کرائی گئیں اور ملک میں چینی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے شوگر ملوں کو منافع کی تفصیلات سے بھی اجلاس کے شرکا کو آگاہ کیا گیا۔
کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر اور دوسرے اراکین کی جانب سے شوگر ملوں کے مالکان کے نام کی تفصیلات بھی مانگی گئیں تاہم حکومتی اداروں کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔
پاکستان میں گزشتہ چند مہینوں میں چین کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کی وجہ ملک سے چینی کی برآمد کو قرار دیا گیا تھا جب گزشتہ سال ساڑھے سات لاکھ ٹن کے لگ بھگ چینی برآمد کی گئی۔ حکومت کی جانب سے چینی برآمد کی وجہ اس کے سرپلس اسٹاک کو قرار دیا گیا تھا تاہم اس برآمد کے بعد مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ملک کے کچھ حصوں میں چینی کی قیمت دو سو روپے فی کلو تک پہنچ گئی
پی اے سی اجلاس میں ملک میں چینی کی برآمد کی تفصیلات جمع کرائی گئیں جس میں بتایا گیا کہ 67 شوگر ملوں نے چالیس کروڑ ڈالر یعنی 112 ارب روپے کی چینی برآمد کی تو دوسری جانب اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں اضافے سے شوگر ملوں نے 300 ارب روپے کا منافع کمایا۔
پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاسوں کی کوریج کرنے والے سینیئر صحافی ریاض الحق جو آخری اجلاس میں بھی موجود تھے، نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے والی شوگر ملوں کی تفصیلات جمع کرائی گئیں اور اس سے کمائے جانے والے زرمبادلہ کی تفصیلات بھی جمع کرائی گئیں۔
ریاض نے بتایا کہ اجلاس کے دوران آڈیٹر جنرل نے یہ ریمارکس دیے کہ مقامی قیمت میں اضافے کی وجہ سے شوگر ملوں نے تین سو ارب روپے کا منافع کمایا۔
چینی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے شوگر ملوں کو تین سو ارب روپے کے منافع کے بارے میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن سے رابطہ کیا گیا ۔ آڈیٹر جنرل کے ریمارکس کے بارے میں ایسوسی ایشن کے ترجمان نے اپنے مختصر جواب میں کہا کہ تین سو ارب روپے کے منافع کی بات صحیح نہیں ہے اور یہ بغیر کسی ثبوت کے ہے
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان خان اب تک پاکستان کیوں نہیں آ سکے
علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بچوں میں سے ایک کا نائیکوپ (اوورسیز پاکستانیوں کا شناختی کارڈ) گُم ہو گیا ہے اور دوسرے کو مل نہیں رہا۔
علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بچوں میں سے ایک کا نائیکوپ (اوورسیز پاکستانیوں کا شناختی کارڈ) گُم ہو گیا ہے اور دوسرے کو مل نہیں رہا۔



See lessسابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان خان اب تک پاکستان کیوں نہیں آ سکے
اگرچہ پاکستان تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے ان کے بیٹوں کی مدد سے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا تاہم اس سلسلے میں پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک طرف عمران خان کی بہن علیمہ خان کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے قاسم خان اور سلیمان خان کو ویزRead more
اگرچہ پاکستان تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے ان کے بیٹوں کی مدد سے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا تاہم اس سلسلے میں پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ایک طرف عمران خان کی بہن علیمہ خان کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے قاسم خان اور سلیمان خان کو ویزے جاری نہیں کیے جا رہے۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے بیٹوں کو ویزے درکار ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ’پاکستانی شہری نہیں ہیں۔‘
ایک حالیہ انٹرویو میں قاسم اور سلیمان نے بتایا ہے کہ وہ اپنے والد سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان جا کر ان سے ملاقات کر سکیں۔
ایکس پر ایک پیغام میں پاکستان کے وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت نے ایسا کبھی نہیں کہا کہ قاسم اور سلیمان کو ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے یا پھر انھیں پاکستان آمد پر گرفتار کر لیا جائے گا۔
علیمہ خان اور پاکستانی وزرا کے متضاد دعوے
علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بچوں میں سے ایک کا نائیکوپ (اوورسیز پاکستانیوں کا شناختی کارڈ) گُم ہو گیا ہے اور دوسرے کو مل نہیں رہا۔
سنیچر کو اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ قاسم اور سلیمان کو پاکستان آنے کے لیے نائیکوپ یا پاکستانی ویزا درکار ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ قاسم اور سلیمان نے برطانیہ میں پاکستانی حکام سے دو درخواستیں کی ہیں جن میں سے ایک نائیکوپ کے دوبارہ اجرا کی ہے اور دوسری ویزے سے متعلق ہے۔
علیمہ نے کہا کہ عمران خان کے بیٹوں کے نائیکوپ کی میعاد اگلے چھ، سات سال تک ہے اور اگر حکام چاہیں تو انھیں شناختی کارڈ نمبر کی بنیاد پر پاکستان آنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کے بیٹوں کے پاس نائیکوپ اور برٹش پاسپورٹ دونوں کی آپشن ہے۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ اس کے باوجود قاسم اور سلیمان کو ویزے جاری کیوں نہیں کیے جا رہے۔
عمران خان کی بہن نے دعویٰ کیا کہ دونوں درخواستوں کے ٹریکنگ نمبر ان کے پاس موجود ہیں۔ انھوں نے ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ اس معاملے میں پاکستانی وزارت داخلہ کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔