Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Please briefly explain why you feel this question should be reported.
Please briefly explain why you feel this answer should be reported.
Please briefly explain why you feel this user should be reported.
اگست میں کونسے 3 ستاروں کی قسمت چمکے گی؟ ماہرین کی پیشگوئی
فوٹو: فائل ماہر علمِ نجوم نے رواں برس کے آٹھویں مہینے کے لیے تین ستاروں کا انتخاب کیا ہے
ماہر علمِ نجوم نے رواں برس کے آٹھویں مہینے کے لیے تین ستاروں کا انتخاب کیا ہے
See lessاگست میں کونسے 3 ستاروں کی قسمت چمکے گی؟ ماہرین کی پیشگوئی
ہیں۔ فلکیات کے ماہرین کے مطابق ان ستاروں کے لیے صحت، دولت اور رکے ہوئے کام اس ماہ ہونے کے امکانات روشن ہیں، آئیں دیکھتے ہیں کہ وہ تین ستارے کون سے ہیں۔ برج حمل: سب سے پہلے بات کریں گے برج حمل کی، اس برج کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے مالی حالات مضبوط ہوں گے اور زندگی میں خوشیاں دستک دیں گیRead more
ہیں۔
فلکیات کے ماہرین کے مطابق ان ستاروں کے لیے صحت، دولت اور رکے ہوئے کام اس ماہ ہونے کے امکانات روشن ہیں، آئیں دیکھتے ہیں کہ وہ تین ستارے کون سے ہیں۔
برج حمل:
سب سے پہلے بات کریں گے برج حمل کی، اس برج کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے مالی حالات مضبوط ہوں گے اور زندگی میں خوشیاں دستک دیں گی۔ مختلف ذرائع سے رقم کی آمد ہوگی۔
وہ افراد جو صحت کے حوالے سے پریشان ہیں، ان کے لیے مثبت نشانیاں ہیں۔
برج اسد:
ان افراد کو پیسوں کی طرف سے اس ماہ مشکلات کا سامنا نہیں ہوگا، کاروباری افراد کو اس مہینے منافع ہوسکتا ہے، اور نئے معاہدے جو کرنا چاہتے ہیں وہ کرسکتے ہیں، اس میں کامیابی کے زیادہ آثار ہیں۔
اس کے علاوہ ان افراد کو بچوں کی طرف سے اچھی خبر ملنے کے امکانات ہیں۔
طلباء کو مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے،کسی بھی بڑی صحت کی پریشانی کا سامنا کرنے کے امکانات کم ہیں لیکن اس ٹائم لائن کے دوران لوگوں کو صحت کی معمولی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
See lessحکومت کا حج پالیسی کا اعلان؛ اب حج پر کتنے اخراجات آئیں گے اور ادائیگی کس طرح ہوگی؟ مزید پڑھیں
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے 2026 کیلئے نئی حج پالیسی کی منظوری دے دی
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے 2026 کیلئے نئی حج پالیسی کی منظوری دے دی
حکومت کا حج پالیسی کا اعلان؛ اب حج پر کتنے اخراجات آئیں گے اور ادائیگی کس طرح ہوگی؟ مزید پڑھیں
دی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ کی جانب سے حج 2026 کیلیے نئی پالیسی کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے سرکاری کوٹے پر حج 2026 کی بکنگ کا آغاز اگست 2025 سے ہوگا، حاجیوں سے قسط وار پیسے لئے جائیں گے جبکہ پرائیویٹ ٹورآپریٹرزکو صرف 60 ہزارحاجی لے کرجانے کی اجازت ہوگی۔Read more
دی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ کی جانب سے حج 2026 کیلیے نئی پالیسی کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے سرکاری کوٹے پر حج 2026 کی بکنگ کا آغاز اگست 2025 سے ہوگا، حاجیوں سے قسط وار پیسے لئے جائیں گے جبکہ پرائیویٹ ٹورآپریٹرزکو صرف 60 ہزارحاجی لے کرجانے کی اجازت ہوگی۔
وزیراعظم نے پاکستان کیلئے حج کوٹہ بڑھانے کی منظوری بھی دیدی، پچھلے سال رہ جانیوالی پرائیویٹ حاجیوں کو لے کرجانا پرائیویٹ ٹورآپریٹرزکی ذمہ داری ہوگی۔
گزشتہ سال پاکستانیوں کیلئے حج کوٹہ 1لاکھ 79 ہزارتھا جس میں سے 50 فیصد کوٹہ سرکاری جبکہ 50 فیصد پرائیویٹ ٹورآپریٹرزکو دیا گیا تھا۔
حکومت پاکستان نے سعودی حکومت سے حاجیوں کا کوٹہ بڑھانے کی درخواست کررکھی ہے، امید ہے پاکستان کو اس سال 2 لاکھ 35 ہزارحاجیوں کا کوٹہ ملے گا۔
پالیسی کے مطابق حج کوٹہ 1 لاکھ 79 ہزار رہے یا 2 لاکھ 35 تک بڑھ جائے دونوں صورتوں میں نجی ٹورآپریٹرز کو 60 ہزارعازمین لے جانے کی ہی اجازت ہوگی۔
سرکاری حج کے اخراجات ساڑھے گیارہ سے ساڑھے بارہ لاکھ تک ہوں گے۔
کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئندہ برس پاکستان کا مجموعی ملکی حج کوٹا 70 فیصد حکومتی اور 30 فیصد نجی کوٹے کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا جبکہ گزشتہ برس نجی شعبے کی غفلت کی وجہ سے حج سے محروم رہ جانے والے افراد کا حج نجی کمپنیاں2026 میں یقینی بنائیں گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئی پالیسی کے تحت سرکاری اسکیم و نجی کمپنیوں کے تحت حج آپریشن کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے گی، پالیسی میں حج کے دوران حاجیوں کی سہولیات کے ساتھ ساتھ انہیں انکی رقوم کے متوازی سروسز فراہم کرنا شامل ہے۔
پالیسی میں آئندہ برس ایک ہزار نشستیں ہارڈ شپ کیسز کے تحت مختص کی گئی ہیں جبکہ کسی بھی نجی کمپنی کے لیے حاجیوں کی کم از کم تعداد 2 ہزار رکھی گئی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پالیسیوں کے مطابق نجی کمپنیوں کی حج آپریشن کے دوران کڑی نگرانی کی جائے گی، پالیسی کے اطلاق کے بعد نجی کمپنیوں کے تحت درخواست گزاروں کی رقوم و پراسیس کی ریئیل ٹائم مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ حج 2026 کیلئے گزشتہ برس کی طرح معاونین کا انتخاب شفاف انداز سے ٹیسٹ کے ذریعے ہوگا جبکہ حجاج کیلئے موبائل سمز، ڈیجیٹل رسٹ بینڈز، بہترین رہائش و طعام اور کسی بھی ہنگامی و حادثاتی صورتحال کے نتیجے میں معاوضے کو یقینی بنایا جائے گا۔
کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ رقم کی ادائیگیوں، تربیت، شکایات و دیگر سروسز کیلئے پاک حج موبائل ایپلی کیشن کو مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 کی متفقہ طور پر منظوری دی اور متعلقہ وزارتوں سمیت اداروں و پالیسی کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے افسران و اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا۔
وزیرِ اعظم نے وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو وزارت مذہبی امور کے ساتھ مل کر حج آپریشن کی مکمل ڈیجیٹائیزیشن کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حجاج کرام کو بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے آئندہ برس حج آپریشن کی مکمل ڈیجیٹائیزیشن خوش آئند ہے، حجاج کرام کو ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی
See lessروس میں 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد آنے والی سونامی کیا ہے اور یہ کیوں آتی ہیں؟
سونامی‘ ایک جاپانی لفظ ہے جو دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔ ’سو‘ کے معنی ساحل یا بندرگاہ کے ہیں.
سونامی‘ ایک جاپانی لفظ ہے جو دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔ ’سو‘ کے معنی ساحل یا بندرگاہ کے ہیں.
برطانیہ میں سیکس گرومنگ: الزام صرف برطانوی پاکستانیوں پر کیوں؟
،تصویر کا کیپشنمصنف سلیل ترپاٹھی کا کہنا تھا کہ ’گرومنگ گینگز ضروری نہیں کہ پاکستانی نژاد مرد ہو، یا ایشیئن ہی ہوں۔ مسئلہ برطانوی سوسائٹی میں ہے۔ حکومت کو اس سے نمٹنا ہوگا
،تصویر کا کیپشنمصنف سلیل ترپاٹھی کا کہنا تھا کہ ’گرومنگ گینگز ضروری نہیں کہ پاکستانی نژاد مرد ہو، یا ایشیئن ہی ہوں۔ مسئلہ برطانوی سوسائٹی میں ہے۔ حکومت کو اس سے نمٹنا ہوگا
برطانیہ میں سیکس گرومنگ: الزام صرف برطانوی پاکستانیوں پر کیوں؟
،تصویر کا کیپشنسویلا بریورمین نے بی بی سی کے ’سنڈے ود لورا کیونسبرگ‘ نامی پروگرام میں کہا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ان گینگز میں اکثریت برطانوی پاکستانی مردوں کی ہے۔‘ مضمون کی تفصیل مصنف,خدیجہ عارف عہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن 15 اپريل 2023 برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریورمین نے حال ہی میں بار بار ایRead more
،تصویر کا کیپشنسویلا بریورمین نے بی بی سی کے ’سنڈے ود لورا کیونسبرگ‘ نامی پروگرام میں کہا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ان گینگز میں اکثریت برطانوی پاکستانی مردوں کی ہے۔‘
مضمون کی تفصیل
برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریورمین نے حال ہی میں بار بار ایسے بیانات دیے کہ ملک میں کم عمر سفید فام لڑکیوں کو سیکس کے لیے استعمال کرنے والے گرومنگ گینگز کے پیچھے اکثریت پاکستانی نژاد برطانوی مردوں کی ہے۔
یہ بیانات ایک بڑے تنازع کی وجہ بن گئے ہیں۔ اس کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے یہ بیانات خود وزیر داخلہ کی 2020 کی اس رپورٹ کے برعکس ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ سیکس گرومنگ کے کیسز میں مجرم پائے جانے والوں میں سب سے زيادہ تعداد سفید فام برطانوی شہریوں کی ہے۔
وزیر داخلہ کے اس بیان سے برطانیہ میں رہنے والے پاکستانی افراد ناصرف ناراض ہیں بلکہ انھوں نے وزیراعظم رشی سونک سے معافی مانگنے کا مطالبہ ہے۔
برطانیہ میں درجنوں مسلم تنظیموں نے رشی سونک کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کا بیان ’نسل پرستی پر مبنی ہے اور سماج کو منقسم کرنے والا ہے
پانی کی قلت: کیا دنیا پانی پر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟
،تصویر کا کیپشنچلی سے لے کر میکسیکو تک، افریقہ سے لے کر جنوبی یورپ کے سیاحتی مقامات تک آبی مسائل میں اضافہ ہی ہو رہا ہے.
،تصویر کا کیپشنچلی سے لے کر میکسیکو تک، افریقہ سے لے کر جنوبی یورپ کے سیاحتی مقامات تک آبی مسائل میں اضافہ ہی ہو رہا ہے.
پانی کی قلت: کیا دنیا پانی پر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟
2019 واشنگٹن ڈی سی کے تھنک ٹینک ورلڈ ریسورسز انسٹیٹیوٹ (ڈبلیو آر آئی) کے مطابق پاکستان سمیت دنیا میں ایسے تقریباً 400 علاقے ہیں جہاں کے رہنے والے شدید آبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی، گوشت خوری میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں نے دنیا کے پانی کے ذخائر پر دباؤ بRead more
واشنگٹن ڈی سی کے تھنک ٹینک ورلڈ ریسورسز انسٹیٹیوٹ (ڈبلیو آر آئی) کے مطابق پاکستان سمیت دنیا میں ایسے تقریباً 400 علاقے ہیں جہاں کے رہنے والے شدید آبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی، گوشت خوری میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں نے دنیا کے پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پانی کی کمی لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دے گی اور اس کی وجہ سے کشیدگی اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہو گا۔
چلی سے لے کر میکسیکو تک، افریقہ سے لے کر جنوبی یورپ کے سیاحتی مقامات تک آبی مسائل میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ آبی مسائل سے درپیش علاقوں یعنی ’واٹر سٹریسڈ‘ علاقوں کا تعین اس معیار پر کیا جاتا ہے کہ وہاں موجود پانی کے وسائل کے مقابلے میں وہاں زیرِ زمین ذخائر اور دیگر سطحی ذخائر سے کتنا پانی استعمال کیا جا رہا ہے
ماحولیاتی تبدیلی اور کوپ 26: کیا دنیا میں پانی کی کمی نئی جنگوں کو جنم دے رہی ہے؟
،تصویر کا کیپشنپانی کی قلت صرف حشک سالی کا نام نہیں ہے بلکہ آلودگی کی وجہ سے پانی کا گرتا ہوا میعار بھی اس مسئلے کا حصہ ہے.
،تصویر کا کیپشنپانی کی قلت صرف حشک سالی کا نام نہیں ہے بلکہ آلودگی کی وجہ سے پانی کا گرتا ہوا میعار بھی اس مسئلے کا حصہ ہے.