Sign In Sign In

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Don't have account, Sign Up Here

Forgot Password Forgot Password

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.

Have an account? Sign In Now

Sorry, you do not have permission to ask a question, You must login to ask a question.

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Need An Account, Sign Up Here

Sorry, you do not have permission to ask a question, You must login to ask a question.

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Need An Account, Sign Up Here

Please briefly explain why you feel this question should be reported.

Please briefly explain why you feel this answer should be reported.

Please briefly explain why you feel this user should be reported.

Sign InSign Up

Nuq4

Nuq4 Logo Nuq4 Logo
Search
Ask A Question

Mobile menu

Close
Ask a Question
  • Nuq4 Shop
  • Become a Member

Ali1234

Researcher
Ask Ali1234
0 Followers
1k Questions
  • About
  • Questions
  • Answers
  • Best Answers
  • Favorites
  • Groups
  • Joined Groups
  1. Asked: July 22, 2025

    نیپوکڈز کی دائی جان! کرن جوہر سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 22, 2025 at 11:16 pm

    ہدایتکار موہت سوری کی نئے اداکاروں کو لے کر بنائی گئی فلم "سیارہ" نے باکس آفس پر دھوم مچادی ہے۔ سیارہ کی کامیابی کو اس لیے بھی سراہا جا رہا ہے کہ کیوں کہ فلم کے مرکزی کردار نبھانے والے آہان پانڈے اور انیت شرما کسی سپر اسٹارز کے بچے نہیں ہیں۔ فلم ساز کرن جوہر بھی اس فلم کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے اRead more


    ہدایتکار موہت سوری کی نئے اداکاروں کو لے کر بنائی گئی فلم “سیارہ” نے باکس آفس پر دھوم مچادی ہے۔

    سیارہ کی کامیابی کو اس لیے بھی سراہا جا رہا ہے کہ کیوں کہ فلم کے مرکزی کردار نبھانے والے آہان پانڈے اور انیت شرما کسی سپر اسٹارز کے بچے نہیں ہیں۔

    فلم ساز کرن جوہر بھی اس فلم کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے اور نے انسٹاگرام پر فلم کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ نوآموز فنکاروں کی تعریف کی اور ڈائریکٹر کو مبارکباد دی۔

    جس ایک صارف نے کرن جوہر کو نشانے پر لیتے ہوئے کمنٹ لکھا کہ “آ گیا نیپو کڈ کی دائی جان”۔

    صارف نے کمنٹ اس لیے کیا کیوں کہ کرن جوہر کو بھارتی فلم انڈسٹری میں نیپوٹزم یعنی صرف سپر اسٹارز کو ڈیبیو کرانے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

    کرن جوہر بھی کہاں خاموش رہنے والے تھے فوراً جواب دے مارا کہ “چپ کرو، گھر بیٹھ کر منفی باتیں مت پالو، فلم میں دونوں بچوں کا کام دیکھو اور خود بھی کچھ اچھا کام کرو۔

    خیال رہے کہ کرن جوہر جنہیں کسی دور میں “روم کومز” کا بادشاہ کہا جاتا تھا، اب وہ “نیپو کڈز کے گاڈ فادر” کے نام سے مشہور ہیں۔

    چاہے عالیہ بھٹ اور ورون دھون کی بات ہو یا اننیا پانڈے اور جھانوی کپور کی، ان سب کو کرن جوہر نے بالی وڈ کی دنیا میں متعارف کرایا۔

    حال ہی میں انھوں نے سیف علی خان کے بیٹے ابراہیم علی خان اور سری دیوی کی بیٹی خوشی کپور کو فلم “نادانیاں” کے ذریعے لانچ کیا۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  2. Asked: July 22, 2025

    اگلے 10 برسوں تک بھی "جوان" نظر آنے کیلیے انجلینا جولی کیا تیاری کر رہی ہیں

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 22, 2025 at 11:15 pm

    انجلینا جولی نے اگلی دہائی تک بھی اسی طرح جوان اور دلکش نظر آنے کے لیے خصوصی تیاری شروع کردی۔ لاس اینجلس کی چمکتی دنیا میں جب سبھی بڑھتی عمر کے اثرات سے بچنے کے لیے مہنگے کریموں اور فلٹرز کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ ہالی وڈ کی اسٹائل کوئین انجلینا جولی نے تو جیسے وقت کو روک دینے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ غیرRead more


    انجلینا جولی نے اگلی دہائی تک بھی اسی طرح جوان اور دلکش نظر آنے کے لیے خصوصی تیاری شروع کردی۔

    لاس اینجلس کی چمکتی دنیا میں جب سبھی بڑھتی عمر کے اثرات سے بچنے کے لیے مہنگے کریموں اور فلٹرز کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔

    ہالی وڈ کی اسٹائل کوئین انجلینا جولی نے تو جیسے وقت کو روک دینے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 50 سالہ انجلینا جولی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اگلے دس سال تک جوان اور دلکش نظر آئیں گی جیسی وہ “مسٹر اینڈ مسز اسمتھ” کے دور میں تھیں۔

    اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نے لیزر ٹریٹمنٹ کا سہارا لیا ہے۔

    انجلینا جولی کے قریبی حلقوں نے تصدیق کی ہے کہ لیزر ٹریٹمنٹ کے نتائج دیکھ کر خود انجلینا بھی خوشگوار حیرت میں مبتلا ہیں۔ جس کی مدد سے ان کا چہرہ تروتازہ نظر آ رہا ہے۔

    اس لیزر ٹریٹمنٹ کی یہ خصوصیت صرف ابھی نہیں بلکہ اگلے دس برسوں تک برقرار رہے گی۔ انجلینا اپنی غذا پر بھی پوری توجہ دے رہی ہیں۔

    ان کا روزمرہ کا کھانا پروٹین، سبزیوں اور تازہ پھلوں سے بھرپور ہوتا ہے۔

    یاد رہے کہ انجلینا کو حال ہی میں فلم “ماریا” میں اوپیرا گلوکارہ ماریا کالاس کا کردار نبھاتے دیکھا گیا۔ اب وہ ایک فرانسیسی ڈرامے میں جلوہ گر ہونے جا رہی ہیں، جو ستمبر میں ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں ریڈ کارپٹ پر تہلکہ مچائے گا۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  3. Asked: July 22, 2025

    کومل میر کی کاسمیٹک سرجری سے متعلق سوشل میڈیا پر تبصرے

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 22, 2025 at 11:14 pm

    اداکارہ کومل میر جنہوں نے ڈرامہ عہدِ وفا سے شہرت حاصل کی، ان دنوں نئے ڈرامہ سیریل گونج میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ان کا پہلا بڑا پروجیکٹ ہے جس میں وہ ممکنہ کاسمیٹک سرجری اور وزن میں اضافے کے بعد نظر آئی ہیں۔ ڈرامہ کی پہلی قسط کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی ظاہری شکل اور اداکاری پر تنقید کی جا رہRead more


    اداکارہ کومل میر جنہوں نے ڈرامہ عہدِ وفا سے شہرت حاصل کی، ان دنوں نئے ڈرامہ سیریل گونج میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ان کا پہلا بڑا پروجیکٹ ہے جس میں وہ ممکنہ کاسمیٹک سرجری اور وزن میں اضافے کے بعد نظر آئی ہیں۔

    ڈرامہ کی پہلی قسط کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی ظاہری شکل اور اداکاری پر تنقید کی جا رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ کومل میر کی موجودہ شکل ان کی سابقہ شخصیت سے بےحد مختلف لگ رہی ہے۔

    کئی مداحوں نے دعویٰ کیا کہ سرجری کے بعد ان کی خوبصورتی متاثر ہوئی ہے جبکہ اس ڈرامے میں اداکاری کے حوالے سے بھی ناظرین نے مایوسی کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، “کومل اوور ایکٹنگ کر رہی ہے”، جبکہ دوسرے نے طنزیہ انداز میں کہا، “یہ بوٹاکس فیس کیوں ہے؟”

    Komal Meer’s Cosmetic Surgery & Acting in Goonj Under Discussion

    بعض افراد نے ان کی اداکاری کو غیر فطری اور جذباتی مناظر کو حد سے زیادہ قرار دیا۔ کچھ صارفین نے ان کے چہرے میں تبدیلی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے زیادہ خوبصورت لگتی تھیں۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  4. Asked: July 22, 2025

    رجب بٹ کے مسائل کے پیچھے کونسی مشہور شخصیت ہے؟ ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کا دعویٰ

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 22, 2025 at 11:13 pm

    ٹک ٹاکر کاشف ضمیر نے ساتھی ٹک ٹاکر رجب بٹ کے مسائل کی وجہ کا انکشاف کردیا۔ ماضی میں مختلف اسکینڈلز اور ترک اداکار انگین التان سے جڑے متنازع معاملات کی وجہ سے خبروں میں رہنے والے ٹک ٹاکر کاشف ضمیر نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں دعویٰ کیا ہے کہ رجب بٹ کے مسائل کے پیچھے ایک مشہور شخصیت کا ہاتھRead more


    ٹک ٹاکر کاشف ضمیر نے ساتھی ٹک ٹاکر رجب بٹ کے مسائل کی وجہ کا انکشاف کردیا۔

    ماضی میں مختلف اسکینڈلز اور ترک اداکار انگین التان سے جڑے متنازع معاملات کی وجہ سے خبروں میں رہنے والے ٹک ٹاکر کاشف ضمیر نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں دعویٰ کیا ہے کہ رجب بٹ کے مسائل کے پیچھے ایک مشہور شخصیت کا ہاتھ ہے،

    کاشف ضمیر نے کہا کہ رجب بٹ اب ایک بڑا نام بن چکا ہے اور اسے کافی شہرت حاصل ہوئی ہے، جسے بعض لوگ برداشت نہیں کر پا رہے۔ ان کے مطابق حسد کی وجہ سے رجب بٹ کی پرانی ویڈیوز کو وائرل کر کے اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    انہوں نے رجب بٹ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ویڈیوز میں محتاط انداز اختیار کریں کیونکہ ان کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے جس سے وہ مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    کاشف ضمیر نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کسی شخص نے، جو فہد مصطفیٰ کو جانتا ہے، انہیں بتایا کہ رجب بٹ پر دائر قانونی مقدمات کے پیچھے فہد مصطفیٰ کا ہاتھ ہے، اور اس حوالے سے اسے شواہد بھی دکھائے گئے۔

    تاہم کاشف ضمیر نے یہ شواہد پروگرام میں ظاہر کرنے سے انکار کردیا۔ ٹک ٹاکر کے اس دعوے نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ صارفین ان کے دعوے پر بےحد حیران ہیں اور اس کے شواہد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  5. Asked: July 22, 2025

    حمیرا کا مالک مکان سے کیا تنازع تھا، واجبات کتنے تھے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 22, 2025 at 10:47 pm

    معروف اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر کی تقریباً 10 ماہ پُرانی گلی سڑی لاش کراچی میں 8 جولائی 2025 کو ان کے کرائے کے فلیٹ سے ملی تھی۔ اداکارہ کی پُراسرار موت سے کئی سوالات کھڑے ہوگئے تھے جن کے اب جوابات ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ ایسا ہی ایک سوال اداکارہ کا مالک مکان کے ساتھ تنازع سے متعلق تھا۔ خیال رہے کہ ادRead more


    معروف اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر کی تقریباً 10 ماہ پُرانی گلی سڑی لاش کراچی میں 8 جولائی 2025 کو ان کے کرائے کے فلیٹ سے ملی تھی۔

    اداکارہ کی پُراسرار موت سے کئی سوالات کھڑے ہوگئے تھے جن کے اب جوابات ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ ایسا ہی ایک سوال اداکارہ کا مالک مکان کے ساتھ تنازع سے متعلق تھا۔

    خیال رہے کہ اداکارہ کی لاش بھی اُس وقت ملی تھی جب عدالتی بیلف فلیٹ خالی کروانے پہنچا تھا اور بار بار دستک کے باجود دروازہ نہیں کھلا تھا۔

    پولیس جب دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی تو اداکارہ کی لاش اوندھی منہ پڑی تھی۔ لاش بالکل گَل چکی تھی اور ناقابل شناخت تھی۔

    اب تک دستیاب معلومات کے مطابق حمیرا اور ان کے مالک مکان کے درمیان کرائے کا تنازع کئی سالوں سے چل رہا تھا۔

    حمیرا اصغر اس فلیٹ میں دسمبر 2018 سے رہ رہی تھیں۔ کرائے داری معاہدے کی تجدید کے وقت مالک مکان نے کرایے میں اضافہ کا کہا تھا۔

    تاہم مبینہ طور پر اداکارہ نے کرایہ میں اضافہ نہیں کیا تھا جس کے بعد سے بقایاجات کی رقم میں اضافہ ہوتا رہا۔ مالک مکان نے پہلے یونین اور پھر عدالت سے رجوع کیا۔

    مالک مکان کی جانب سے اداکارہ حمیرا کو کئی بار نوٹسز بھی بھیجے گئے لیکن وہ کسی نوٹس پر کہیں حاضر نہیں ہوئیں۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق حمیرا اصغر پر نے 2019 سے 2023 کے دوران تقریباً 5 لاکھ 35 ہزار روپے کے قریب کرایہ چڑھ چکا تھا۔

    دوسری جانب اداکارہ کے والدین اور بھائی کا کہنا ہے کہ حمیرا خودکفیل تھی اور اُسے مالی تنگی کا سامنا نہیں تھا۔

    پولیس کی جانب سے اداکارہ کے بینک اکاؤنٹس کی جانچ سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ انھیں پیسوں کی کمی نہیں تھی۔

    پھر کیا وجہ ہے کہ اداکارہ پر اتنا کرایہ چڑھ گیا تھا۔ اس پر حمیرا کا مؤقف اب کبھی سامنے نہیں آسکے گا۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  6. Asked: July 22, 2025

    حمیرا اصغر کی موت یا قتل؟ اسٹائلسٹ نے مزید تہلکہ خیز انکشافات کردیے

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 22, 2025 at 10:45 pm

    مرحوم اداکارہ حمیرا اصغر کے اسٹائلسٹ دانش مقصود نے اداکارہ کی گمشدگی اور موت سے متعلق نئے تہلکہ خیز انکشافات کردیئے جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ حمیرا اصغر کے اسٹائلسٹ دانش مقصود نے دعویٰ کیا ہے کہ اداکارہ کے فون پر 5 فروری 2025 کے بعد سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں۔ دانش مقصود کے مطابق حمRead more


    مرحوم اداکارہ حمیرا اصغر کے اسٹائلسٹ دانش مقصود نے اداکارہ کی گمشدگی اور موت سے متعلق نئے تہلکہ خیز انکشافات کردیئے جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

    حمیرا اصغر کے اسٹائلسٹ دانش مقصود نے دعویٰ کیا ہے کہ اداکارہ کے فون پر 5 فروری 2025 کے بعد سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں۔ دانش مقصود کے مطابق حمیرا سے ان کی آخری گفتگو 2 اکتوبر 2024 کو ہوئی تھی، جبکہ ان کا واٹس ایپ لاسٹ سین 7 اکتوبر کو دیکھا گیا تھا۔

    دانش کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے بعد انہوں نے متعدد بار اداکارہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر نہ کالز کا جواب ملا اور نہ ہی بھیجے گئے پیغامات پڑھے گئے۔ جب طویل عرصے تک اداکارہ کی کوئی اطلاع موصول نہ ہوئی، تو انہوں نے 5 فروری 2025 کو سوشل میڈیا پر حمیرا کی گمشدگی سے متعلق پوسٹ کی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ 6 فروری کو جب دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو واٹس ایپ پر اداکارہ کی ڈی پی غائب تھی اور لاسٹ سین بھی بند ہو چکا تھا جو کہ مشکوک ہے۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے تصدیق کی ہے کہ پولیس نے دانش مقصود سے رابطہ کر کے اسکرین شاٹس حاصل کر لیے ہیں اور تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  7. Asked: July 22, 2025

    نادرا نے قومی شناختی قوانین میں بڑی تبدیلیاں کردیں

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 22, 2025 at 10:42 pm

    ڈائریکٹر میڈیا نادرا سید شباہت علی نے کہا ہے کہ عوام کی مشکلات کے حل کے لیے قومی شناختی قوانین میں کئی تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔ اپنے ایک جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پیدائش، موت، شادی اور طلاق کے سرٹیفکیٹ یونین کونسل جاری کرتے ہیں، بے فارم میں بچوں کی تصاویر شامل کی ہیں، چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ  تین سRead more

    ڈائریکٹر میڈیا نادرا سید شباہت علی نے کہا ہے کہ عوام کی مشکلات کے حل کے لیے قومی شناختی قوانین میں کئی تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔

    اپنے ایک جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پیدائش، موت، شادی اور طلاق کے سرٹیفکیٹ یونین کونسل جاری کرتے ہیں، بے فارم میں بچوں کی تصاویر شامل کی ہیں، چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ  تین سال کے بچوں تک پرانے طریقے پر ہو گا، اس پر تصویر نہیں ہو گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ تین سال سے بڑے بچوں کے سی آر سی پر تصویر اور بائیو میٹرک ہوگی، یہ دس سال کی عمر تک ہوگا، دس سال سے 18 سال تک نیا سی آر سی تصویر اور بائیومٹرک ہوگا، پہلے سے بنے بے فارم برقرار رہیں گے۔

    سید شباہت علی نے کہا کہ پاسپورٹ بنانے کیلئے نیا سی آر سی بنوانا ہو گا، پرانے بے فارم پر پاسپورٹ نہیں بنے گا، ہر بچے کیلئے الگ ب فارم جاری ہوگا، نادرا کی اپلیکیشن کے ذریعے فیملی کی تمام تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایف آر سی میں اگر کوئی غلطی یا کمی ہے تو اسے درست کیا جاسکتا ہے، غیر قانونی طریقے سے کارڈ حاصل کرنے والے اپنے کارڈ رضاکارانہ طور پر واپس کر سکتے ہیں۔

    سید شباہت علی نے کہا کہ رضاکارانہ طور پر کارڈ واپس کرنے والوں کے خلاف فی الحال کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوگی، ایف آر سی کو قانونی دستاویز کا درجہ دے دیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ ایف آر سی اب وراثتی معاملات اور اہم قانونی امور کیلئے قابل قبول ہوگا، ایف آر سی خاندان کی مختلف کیٹیگریز کے مطابق ہوگا۔ مثلا بہن بھائیوں اور والدین پر مشتمل خاندان، شوہر بیوی اور بچوں پر مشتمل خاندان، ایک سے زائد شادی شدہ مردوں کے خاندان کے مکمل کوائف ایف آر سی میں درج ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شادی شدہ خواتین کو اب یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ شناختی پر اپنی مرضی سے والد یا شوہر کا نام درج کرا سکتے ہیں، نادرا کا رکارڈ مکمل محفوظ ہے حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں نادرا  کے رکارڈ سے متعلق کوئی شکایت نہیں آئی۔

    سید شباہت علی نے کہا کہ  سابق چیئرمین نادرا سمیت بدعنوانیوں میں ملوث تمام ملازمین کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، نادرا میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالیرنس ہے۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  8. Asked: July 22, 2025

    کیا سیاست میں رواداری کی کوئی گنجائش نہیں؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 22, 2025 at 10:41 pm

    ہم اتنا کیوں سخت دل ہو گئے ہیں کہ رحم دلانہ رویوں سے ہی ناطہ توڑ لیا ہے اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے ہی عاری ہو گئے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ میں عمران خان کے طرزِ سیاست اور ان کی غیر جمہوری سوچ کا ناقد ہوں مگر میں پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بھی غلط کہتا ہوں۔ کئی بار کہہ چکا ہوں کہ ہندوستانRead more

    ہم اتنا کیوں سخت دل ہو گئے ہیں کہ رحم دلانہ رویوں سے ہی ناطہ توڑ لیا ہے اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے ہی عاری ہو گئے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ میں عمران خان کے طرزِ سیاست اور ان کی غیر جمہوری سوچ کا ناقد ہوں مگر میں پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بھی غلط کہتا ہوں۔

    کئی بار کہہ چکا ہوں کہ ہندوستان کے خلاف جنگ میں اﷲ نے ہمیں جو فتح نصیب کی ہے، اسے پوری قوم کو اکٹھا کرنے، اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور اس ضمن میں پہلے قدم کے طور پر پی ٹی آئی کی تمام خواتین کو رہا کر دینا چاہیے۔

    اخبار میں پڑھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ جیل میں زیادہ بیمار ہو گئی ہیں تو میں نے لکھا کہ ڈاکٹر صاحبہ خاتون بھی ہیں، عمر رسیدہ بھی ہیں اور علیل بھی ہیں لہٰذا انھیں انسانی بنیادوں پر رہا کر دیا جائے۔ میرا خیال تھا کہ سیاسی اختلاف کے باوجود حکمران پارٹی کے لوگ بھی اس تجویز سے اتفاق کریں گے، مگر یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ پی ٹی آئی کے مخالفین نے میری تجویز پر نہ صرف تنقید کی بلکہ اس معمّر خاتون کے بارے میں توہین آمیز زبان استعمال کی، جو افسوسناک ہے۔

    کچھ لوگوں نے ان کے 9 مئی کے جرم کا ذکر کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 9 مئی کو جب پی ٹی آئی کے ورکر لاہور میں جناح ہاوس جلارہے تھے اور ہمارے شہداء کی شبیہوں اور یادگاروں کو تباہ کررہے تھے تو میرا خون کھول رہا تھا، اُس وقت میں نے فوری طور پر لکھا تھا کہ جناح ہاؤس کی سیکیوریٹی کے ذمّے داروں کو فوری طور پر برخاست کردینا چاہیے۔

    اگر میں موقعہ پر سیکیوریٹی کا ذمّے دار ہوتا تو شرپسندوں کے خلاف ہر قسم کی فورس استعمال کرکے انھیں منتشر ہونے پر مجبور کرتا۔ بہرحال جو شرپسند موقعہ پر موجود تھے ان کا ٹرائیل مکمل کرکے انھیں عبرتناک سزا دلوائی جائے۔ مگر اس سلسلے میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، مجرموں کے درمیان ان کے اثرورسوخ اور contacts کی بنیاد پر کوئی فرق روا نہ رکھا جائے۔

    کون نہیں جانتا کہ موقعۂ واردات پر موجودگی بڑا جرم قرار پاتی ہے، پی ٹی آئی ہی کی دو اہم خواتین تو کور کمانڈر ہاؤس کے اندر موجود تھیں۔مگر وہ دونوں اِس وقت آزاد ہیں۔ اور ایک تو پھر سے سیاست میں پوری طرح متحرّک ہے، مگر ڈاکٹر یاسمین راشد معمّر بھی ہیں اور بیمار بھی۔ اس کے باوجود جیل میں ہیں۔ اس کا کیا جواز ہے؟ کیا فراخدلی اور رواداری کا یہ تقاضا نہیں تھا کہ ڈاکٹر صاحبہ کو ان کی عمر اور بیماری کے پیشِ نظر رہا کردیا جاتا۔ آخر ایسا کیوں نہیں کیا جارہا۔ کیا سیاست میں انسانی ہمدردی کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔ کیا سیاست میں رواداری کی کوئی گنجائش نہیں ہے؟

    اس ملک میں پہلے تو ایسا نہیں ہوتا تھا، ایوب خان نے جماعتِ اسلامی پر پابندی لگا دی اور اس کے امیر مولانا مودودیؒ کو جیل میں بند کردیا۔ مگر جب دشمن ملک کے خلاف جنگ میں اُسی ایوب خان نے سیاسی قیادت کا تعاون مانگا تو مولانا مودودی ؒنے ایک لمحے کے لیے بھی ذاتی رنجش کو آڑے نہ آنے دیا۔ اور فوری طور پر اپوزیشن راہنماؤں کے ساتھ ایوب خان کے ساتھ ملاقات کی اور مکمل تعاون فراہم کیا۔

    اگر پچھلی نصف صدی میں کسی کو بابائے جمہوریت یا سیاست کا استاد مانا جاتا ہے تو وہ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے نوابزادہ صاحب کو پانچ سال گھر میں نظر بند رکھّا مگر انھوں نے جب بھی ضیاء الحق کا نام لیا، جمع کا صیغہ استعمال کیا اور نام کے ساتھ ہمیشہ صاحب بھی لگایا۔ وہ سیاست کے نوواردوں کو بتایا کرتے تھے کہ سیاست میں آپ کا حریف دشمن نہیں ہوتا۔ سیاسی مخالفت کبھی مستقل نہیں ہوتی، اور اس میں کل کا مخالف آج کا اتحادی بھی بن سکتا ہے۔

    نوابزادہ صاحب سیاسی مخالفین کے بارے میں کبھی اوئے توئے نہیں کرتے اور نہ کبھی توہین آمیز زبان استعمال کرتے تھے، وہ اپنے کٹڑ مخالفین کے بارے میں بھی انتہائی شائستہ اور شُستہ زبان استعمال کیا کرتے تھے۔ موجودہ سیاستدانوں میں سے اگر نوابزادہ صاحب سے سیاست کی اعلیٰ اقدار کسی نے سیکھی ہیں تو وہ مولانا فضل الرحمن صاحب ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنا نقطۂ نظربڑے عمدہ دلائل اور جرأت کے ساتھ بیان کرتے ہیں مگر الفاظ کا بہترین چناؤ کرتے ہیں اور ہمیشہ شائستہ زبان استعمال کرتے ہیں۔

    ابھی چند سال پہلے جب ایک انتخابی مہم کے دوران عمران خان گر کر زخمی ہوگئے تھے اور اسپتال میں داخل ہوگئے تو ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف میاں نواز شریف صاحب نے اپنی انتخابی مہم معطل کردی اور وہ عمران خان صاحب کی تیمارداری کے لیے خود اسپتال پہنچ گئے تھے۔

    2024کے انتخابات میں پی ٹی آئی زیرِ عتاب تھی۔ نہ جانے ’کس کی‘ ہدایات پر پولیس اُن کے امیدواروں کے گھروں پر ریڈ کررہی تھی اور امیدواروں کو گرفتار کیا جارہا تھا۔ میرے آبائی شہر وزیرآباد میں میرے بھائی ڈاکٹر نثار احمد چیمہ مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے۔ ان کے مخالف امیدوار کو پولیس جب ہراساں کررہی تھی تو ڈاکٹر نثار چیمہ نے میڈیا کے ذریعے اور میں نے کالموں کے ذریعے مخالف امیدوار کے خلاف ہونے والی پولیس کارروائیوں کی سخت مذمّت کی۔ ڈاکٹر صاحب نے تو واضح طور پر کہا کہ اگر انھیں گرفتاری کا خطرہ ہوتو وہ اپنے انتخابی کاغذات (Nomination papers) مجھے بھجوادیں، میں خود ان کے کاغذات منظور کراؤں گا۔ اسی طرح انتخابی نتائج آنے کے بعد انھوں نے جعلی کامیابی حاصل کرنے سے انکار کردیا اور اپنے سیاسی حریف محترم حامد ناصر چٹھہ کو کامیابی کی مبارکباد دی۔

    سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کو مذکورہ بالا واقعات سے سبق سیکھنا چاہیے اور اپنے طرزِ عمل میں بہتری لانی چاہیے۔ سیاسی مخالفین کو اپنا دشمن ہرگز نہ سمجھیں، ان کی خوشی، غمی میں شریک ہوا کریں اور ان کے ساتھ اچھے سماجی مراسم قائم رکھیں۔ ڈاکٹر نثار چیمہ صاحب انتخابی مہم کے دوران پولیس افسروں کو جب پی ٹی آئی کے امیدواروں کو تنگ کرنے، اور ان کے خلاف کیس درج کرنے یا ان کے گھروں پر ریڈ کرنے سے منع کرتے تو وہ جواب دیتے کہ ’’ہمیں اوپر سے ہدایات ہیں‘‘ اوپر سے اگر غیر قانونی ہدایات ملیں تو سول سرونٹس کا فرض ہے کہ اوپر والوں کو عزّت اور احترام کے ساتھ بتائیں کہ یہ غیر قانونی ہدایات ہیں، ان پر ہم عمل نہیں کرسکیں گے۔ کسی کی بھی ہدایات ہوں مگر کسی سیاسی کارکن کے گھر میں گھس کر ان کا فرنیچر توڑ دینا اور خواتین کی بے حرمتی کرنا انتہائی شرمناک حرکت ہے۔جس پولیس افسر کا ضمیر بالکل مردہ نہیں ہوگیا، وہ ایسی حرکت کبھی نہیں کرتا اور سینئر افسروںسے ملکر اپنا تبادلہ کرالیتا ہے مگر شہریوں کے ساتھ کوئی ایسی زیادتی نہیں کرتا جس سے اس کی یونیفارم پر داغ لگے اور اس کا پورا محکمہ بدنام ہو۔

    ایک بار لاہور پولیس نے ایسی ہی مہم کے دوران ریڈ لائن کراس کردی اور مفکّرِ پاکستان حضرت علّامہ اقبالؒ کے گھر گھس گئی۔ جس پر ہمارے عظیم محسن علّامہ اقبالؒ کی بہو ڈاکٹر جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے شدید احتجاج کیا۔ اس پر میں نے اس وقت کے آئی جی کو بڑا سخت میسج بھیجا کہ ’’تمہیں اور پوری پنجاب پولیس کو شرم آنی چاہیے۔ جانتے ہو تم نے اُس گھر کی چاردیواری کی حرمت پامال کی ہے کہ یہ ملک پاکستان جن کے خواب کی تعبیر ہے۔ اگر آزادی نہ ملتی تو زیادہ تر پولیس افسرآر ایس ایس کے گھروں میں نوکر ہوتے یا ہندو پولیس افسروں کے اردلی ہوتے‘‘ اُس وقت کے آئی جی کوفوراً غلطی کا احساس ہوگیا اور اس نے جسٹس صاحبہ سے معافی مانگ لی۔

    بہت سے لوگوں کی طرح مجھے بھی توقّع تھی کہ میاں نواز شریف صاحب اپنی پرانی وضعداری اور رواداری کے باعث اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ کو رہا کروائیں گے۔ اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ حیران کن ہے ۔ پی ٹی آئی کے مخالفین نے بھی ڈاکٹر صاحبہ کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کی ہے، جب کہ پی ٹی آئی کے حامی اور ورکر بھی مریم نواز صاحبہ کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کرتے ہیں، جس پر انھیں شرم آنی چاہیے۔

    عدم برداشت، تنگدلی، بیہودگی ، غیراخلاقی اور غیرشائستہ زبان نے پاکستانی سیاست کا چہرہ مکروہ اور بدصورت بنادیا ہے۔ سیاست کا حُسن، وقار اور اعتبار بحال کرنے کے لیے سیاسی قائدین اور ورکروں کو اس کا چہرہ ، برداشت، تحمّل، رواداری، فراخدلی، باہمی احترام اور انسانی ہمدردی کے پھولوں سے کشید کیے گئے پانی سے دھونا ہوگا۔ سیاسی قائدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے ورکروں کی صحیح تربیّت کریں۔

    آج کے حکمران ٹھنڈے دل سے سوچیں اور یہ ذہن میں رکھّیں کہ ہم اس عظیم ترین راہبر و راہنماؐ کے پیروکار ہیں جس نے اپنے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے والوں سے بدلے نہیں لیے۔انھیں معاف کردیا تھا۔ اﷲ اور رسولؐ اﷲ نے معاف کردینے کو زیادہ پسند فرمایا ہے، کیا ہم بیمار اور معمّر خواتین کے معاملے میں بھی اﷲ اور رسولؐ کے احکامات ماننے اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار نہیں؟

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  9. Asked: July 22, 2025

    Pakistani runway receives international award; Which city's airport received the honor?

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 22, 2025 at 10:39 pm

    The Pakistani airport that recently received an international award for its runway is Quetta International Airport. Its newly reconstructed runway was honored with the prestigious FIDIC Asia-Pacific Engineering Excellence Award. This award recognized the Pakistan Airports Authority and project consuRead more

    The Pakistani airport that recently received an international award for its runway is Quetta International Airport.

    Its newly reconstructed runway was honored with the prestigious FIDIC Asia-Pacific Engineering Excellence Award. This award recognized the Pakistan Airports Authority and project consultancy teams for their exceptional planning, technical skill, and safety record during the project. The runway was completed without closing the airport and is now considered one of the longest and strongest rigid runways in the region.

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  10. Asked: July 22, 2025

    لیجنڈز لیگ: پاک بھارت فائنل پر کیا ہوگا؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 22, 2025 at 10:37 pm

    یجنڈز لیگ کرکٹ (یا ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز) میں پاک بھارت فائنل کی صورتحال کافی پیچیدہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر حالیہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے۔ حالیہ صورتحال: حالیہ ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز (WCL) 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک طے شدہ میچ پہلے ہی منسوخ ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیRead more

    یجنڈز لیگ کرکٹ (یا ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز) میں پاک بھارت فائنل کی صورتحال کافی پیچیدہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر حالیہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے۔

    حالیہ صورتحال:

    حالیہ ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز (WCL) 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک طے شدہ میچ پہلے ہی منسوخ ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اپریل میں ہونے والے پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارتی کھلاڑیوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار ہے۔ شیکھر دھون سمیت کئی بھارتی کھلاڑیوں نے اس میچ میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ منتظمین کو اس منسوخی پر معذرت بھی کرنی پڑی ہے۔

    اگر فائنل میں پاک بھارت ٹکراؤ ہوتا ہے تو کیا ہو سکتا ہے؟

    اگر بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں فائنل میں پہنچ جاتی ہیں تو کئی ممکنہ صورتحال سامنے آ سکتی ہیں:

    • میچ کی منسوخی: سب سے زیادہ امکان یہ ہے کہ سیاسی کشیدگی کی وجہ سے میچ کو ایک بار پھر منسوخ کر دیا جائے۔
    • مشترکہ فاتح: منتظمین دونوں ٹیموں کو مشترکہ چیمپئن قرار دے سکتے ہیں تاکہ کسی بھی ملک کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور ٹورنامنٹ کا اختتام ہو سکے۔
    • ٹورنامنٹ میں بحران: اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ لیجنڈز لیگ کے لیے ایک بڑا بحران ہوگا، اور اس سے مستقبل میں ایسے ایونٹس کے انعقاد پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    ماضی میں کیا ہوا؟

    گزشتہ ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز 2024 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فائنل کھیلا گیا تھا، جسے انڈیا چیمپئنز نے 5 وکٹوں سے جیت لیا تھا۔ لیکن اس وقت صورتحال حالیہ جتنی کشیدہ نہیں تھی۔

    آگے کیا ہو سکتا ہے؟

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
1 … 96 97 98 99 100 … 161

Sidebar

[the_ad_group id="2732"]

[the_ad id="17089"]

Explore

  • Nuq4 Shop
  • Become a Member

Footer

Get answers to all your questions, big or small, on Nuq4.com. Our database is constantly growing, so you can always find the information you need.

Download Android App

© Copyright 2024, Nuq4.com

Legal

Terms and Conditions
Privacy Policy
Cookie Policy
DMCA Policy
Payment Rules
Refund Policy
Nuq4 Giveaway Terms and Conditions

Contact

Contact Us
Chat on Telegram
We use cookies to ensure that we give you the best experience on our website. If you continue to use this site we will assume that you are happy with it.