Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Please briefly explain why you feel this question should be reported.
Please briefly explain why you feel this answer should be reported.
Please briefly explain why you feel this user should be reported.
’اپنے ساتھ جنسی زیادتی کی ذمہ دار خود عورتیں ہی ہوتی ہیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images ،تصویر کا کیپشنہالی وڈ کے معروف فلم ساز وائن سٹین کے خلاف جنسی زیادتیوں کی شکایت کے بعد بالی وڈ میں بھی اس پر بحث نظر آئی پچھلے ہفتے ہالی وڈ کی معروف شخصیت ہاروی وائن سٹین کے خلاف مبینہ جنسی زیادتیوں اور ریپ کے الزامات کے بعد اس وقت یہ موضوع ٹرینڈ کر رہا ہے اور ہر کوئی اسRead more
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنہالی وڈ کے معروف فلم ساز وائن سٹین کے خلاف جنسی زیادتیوں کی شکایت کے بعد بالی وڈ میں بھی اس پر بحث نظر آئی
پچھلے ہفتے ہالی وڈ کی معروف شخصیت ہاروی وائن سٹین کے خلاف مبینہ جنسی زیادتیوں اور ریپ کے الزامات کے بعد اس وقت یہ موضوع ٹرینڈ کر رہا ہے اور ہر کوئی اس حوالے سے اپنی رائے دیتا نظر آتا ہے۔
بالی وڈ کی اداکارہ پوجا بھٹ کا کہنا ہے کہ ‘خود بالی وڈ میں کئی ہاروی وائن سٹین ہیں لیکن لوگ آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔’ لوگ دل کھول کر ہاروی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں ایسے میں اداکارہ ٹسکا چوپڑہ کہہ بیٹھیں کہ ’اپنے ساتھ جنسی زیادتی کی ذمہ دار خود عورتیں ہی ہوتی ہیں۔‘ پھر کیا تھا پورا سوشل میڈیا ہاروی کو چھوڑ کر ٹسکا کی لعنت ملامت میں لگ گیا۔
ٹسکا کا کہنا تھا کہ ان عورتوں کی اپنی ذاتی سکیورٹی کا خیال کیوں نہیں رہتا وہ خود کو ایسے حالات میں کیوں ڈالتی ہیں جہاں انھیں کسی مشکوک انسان سے ملنے ہوٹل جانا پڑے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنٹسکا چوپڑہ کئی درجن فلموں میں مختلف کردار ادا کر چکی ہیں
ٹسکا کہتی ہیں کہ عورت ہونے کے ناطے میں کہنا چاہوں گی کہ ’اولین ترجیح اپنی حفاظت کو دیں اورایسے مردوں کو بتا دیں نہیں کا مطلب نہیں ہوتا ہے۔‘
ٹسکا کہتی ہیں کہ ’اپنے کریئر کے لیے شارٹ کٹ نہ لیں محنت سے کام کریں۔ اگر آپ با صلاحیت ہیں تو دیر سے سہی لیکن کامیابی ضرور ملے گی۔‘
اس تمام بحث میں مجھے صرف ایک بات ہی سمجھ میں آتی ہے کہ جنسی زیادتی کے موضوع پر صرف اسی وقت بات نہ کریں جب یہ ٹرینڈ کر رہا ہو بلکہ اس مسئلے پر ایک مسلسل اور سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔
دیپکا کو ابھی تک مسٹر پرفیکٹ نہیں ملا شاید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشندیپکا پاڈوکون گذشتہ کئی برسوں سے مسلسل ہٹ فلمیں دے رہی ہیں اور ان کی اداکاری کو چہار جانب سراہا جا رہا ہے
کسی بھی مشہور شخصیت کے لیے کسی کے ساتھ دوستی، رشتہ یا شادی نبھانا یا چلانا عام لوگوں سے زیادہ دشوار ہوتا ہے اور غالباً کبھی کبھی اس کے لیے انھیں بڑی قیمت ادا کرنی پڑ جاتی ہے۔
ایسی ہی ایک شخصیت ہیں دپیکا پاڈوکون جو پہلے رنبیر کپور کے ساتھ تھیں اس کے بعد کچھ عرصے سدھارتھ مالیہ کے ساتھ ان کا نام جوڑا گیا اور پچھلے تین سال سے ان کا نام رنویر سنگھ کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔
بالی وڈ میں نو سال کی کامیابی کے اپنے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے دپیکا کا کہنا تھا کہ اس دوران انھوں کئی قریبی رشتے کھوئے ہیں اور کچھ رشتے مزید مظبوط ہوئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشندیپکا نے بالی وڈ کے علاوہ ہالی وڈ میں بھی قسمت آزمائی کی ہے
دپیکا پاڈوکون نے کئی سال کی افواہوں اور قیاص آرائیوں کے بعد آخر کار شادی اور محبت کے حوالے سے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا تو لوگوں کو نہ صرف حیرانی ہوئی بلکہ کچھ باتیں واضح بھی ہوئیں۔
دپیکا کا کہنا تھا کہ اگر آپ کامیابیوں کی بلندی پر ہوں تو ایسے جیون ساتھی کا ملنا بہت مشکل ہوتا ہے جو آپ کی کامیابی کو ہینڈل کر سکے اور اسے سمجھ سکے۔ دپیکا کہتی ہیں کہ جب آپ بلندی پر ہوں تو آپ کے رومینٹک رشتے پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
آج دپیکا کامیابیوں کی اس بلندی پر ہیں جو غالباً ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی لیکن شاید ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور بلندی پر پہنچنے کی قیمت شاید وہ اکیلا پن یا وہ کمی ہوتی ہے جسکا ذکر دپیکا نے کیا۔ دپیکا کے اس اعتراف سے یہ بات کسی حد تک واضح ہوتی ہے کہ انھیں ابھی تک ان کا ‘مسٹر رائٹ’ نہیں ملا۔
ریس تھری میں سلمان کی شرائط
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنریس سیریز میں ابھی تک سیف علی خان رفتار کا مظاہرہ کر رہے تھے لیکن اب اس میں سلمان خان ہوں گے
فلم ’ریس ٹو‘ کی اگلی سیریز کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں اور اس بار ’ریس تھری‘ کے ہیرو سلمان خان ہوں گے۔
اب تک کی اس سیریز کی خاص بات فلم میں تیز رفتار گاڑیاں، سٹیمی مناظراور نیم برہنہ ہیروئنز رہی تھیں۔ لیکن خبر ہے کہ سلمان خان نے فلم میکرز کے لیے کچھ گائیڈ لائنز دے ڈالی ہیں جن کے تحت فلم میں نہ تو کوئی ’سٹیمی سینز‘ ہونگے اور نہ ہی ’ڈرگز‘ اور نیم برہنہ ہیروئنز۔
سلمان کا خیال ہے اس سے بچوں اور نوجوانوں پر اچھا اثر نہیں پڑے گا۔ تو اس بار ’ریس تھری فل آن سلمان خان‘ کی فلم ہوگی!
: بالی وڈ میں جنسی ہراس حقیقت کیوں ہے؟
انڈیا میں ہر سال ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں فلمسٹار بننے کا خواب لیے ممبئی کا رخ کرتے ہیں لیکن بہت سوں کے لیے یہ تجربہ بھیانک خواب بن جاتا ہے۔ بی بی سی کے راجینی ویدیاناتھ اور پریتکشا نے متعدد اداکاراؤں سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ انھیں فلم ڈائریکٹروں اور کاسٹنگ ایجنٹس کی جانب سے جنسی ہراس کا نشانRead more
انڈیا میں ہر سال ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں فلمسٹار بننے کا خواب لیے ممبئی کا رخ کرتے ہیں لیکن بہت سوں کے لیے یہ تجربہ بھیانک خواب بن جاتا ہے۔
بی بی سی کے راجینی ویدیاناتھ اور پریتکشا نے متعدد اداکاراؤں سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ انھیں فلم ڈائریکٹروں اور کاسٹنگ ایجنٹس کی جانب سے جنسی ہراس کا نشانہ بنایا گیا۔
چھ برس قبل سجاتا (نام تبدیل کر دیا گیا) نے اپنے قدامت پسند والدین کو اس بات کے لیے قائل کر لیا کہ وہ انھیں انڈیا کے ایک چھوٹے گاؤں سے ممبئی جانے کی اجازت دیں تاکہ وہ وہاں بالی وڈ کی اداکارہ کی حیثیت سے قسمت آزمائی کر سکیں۔
س وقت سجاتا کی عمر صرف 19 سال تھی اور ان کے پاس اداکاری کا تجربہ اور روابط بہت کم تھے لیکن سجاتا کو ایسے لوگوں سے رابطہ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا جو انھیں اس صنعت میں داخل ہونے کا راستہ دکھانے کے لیے مشورہ دے رہے تھے۔
انھی لوگوں میں سے ایک کاسٹنگ ایجنٹ نے سجاتا کو اپنے اپارٹمنٹ میں ملنے کا کہا۔ سجاتا نے اس بارے میں کچھ غلط محسوس نہیں کیا کیونکہ بتایا گیا تھا کہ گھروں میں ایسی ملاقاتیں کرنا عام سی بات تھی۔
لیکن ان کے ساتھ وہاں کیا ہوا وہ درد ناک ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سجاتا نے بی بی سی کو بتایا ’اس نے مجھے ہر جگہ چُھوا جہاں وہ چھونا چاہتا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ میرے لباس میں ڈال دیا اور جب اس نے میرا لباس اتارنا شروع کیا تو میں منجمند ہو گئی۔‘
سجاتا کا کہنا ہے ’جب میں نے اس شخص کو ایسا کرنے سے منع کیا تو اس نے کہا کہ میرا انداز اس صنعت کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘
بی بی سی کے پاس سجاتا کے دعوے کی تصدیق کرنے کا کوئی آزادانہ طریقہ نہیں ہے لیکن سجاتا نے ہمیں بتایا کہ انھیں اداکاری کا کام حاصل کرنے کے لیے کئی مرتبہ جنسی ہراس کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک بار پولیس کے پاس گیئں لیکن ان کی شکایت نہیں سنی گئی. بلکہ حکام نے ان کی شکایت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ‘فلمی لوگ’ جو چاہے وہ کر سکتے ہیں۔
سجاتا نے بی بی بی سے سے اپنی شناخت چھپانے کو کہا کیونکہ وہ اس بارے میں بات کرنے سے خوفزدہ تھیں۔
سجاتا کا خیال ہے کہ اگر کوئی اداکارہ اس بارے میں بات کرتی ہے تو اس پر پبلسٹی یا پیسہ حاصل کرنے کا الزام عائد کر دیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی ساکھ برباد کر دی جاتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بہت سے لوگوں کو اس بات کا یقین ہے کہ انڈین فلم انڈسٹری میں کردار حاصل کرنے کے بدلے میں جنسی خواہشات کا مطالبہ عام ہے۔
بی بی سی نیوز نے تقرییاً ایک درجن نوجوان اداکاراؤں سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ انھیں بھی فلموں میں کردار حاصل کرنے کے لیے بھیانک تبصروں اور جنسی ہراس کا سامنا کرنا پڑا۔
ایسی لڑکیاں اپنی اصلیت ظاہر نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ انھیں اس بات کا خوف ہے کہ انھیں جھوٹا قرار دے دیا جائے گا اور انھیں انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اوشا جھادو ان چند خواتین میں سے ایک ہیں جو جنسی ہراس کے تجربات کے حوالے سے عوام میں بات کرنے پر رضا مند ہیں۔
اوشا اس انڈسٹری میں ایک دہائی سے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ نیشنل فلم ایوارڈ جیتنے کے باوجود انھیں ابھی تک جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔
انھیں امید ہے کہ ان کی کہانی سننے کے بعد دیگر اداکارائیں بھی اپنے تجربات شیئرکرنے کے لیے آگے آئیں گی۔
ان کا کہنا ہے کہ جب وہ پہلی بار بالی وڈ آئیں تو انھیں بتایا گیا کہ انھیں آگے جانے کے لیے ڈائریکٹروں اور پروڈیوسروں کے ساتھ سونا ہو گا۔
وہ اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں ’مجھے کہا گیا ہم آپ کو کچھ دے رہے ہیں آپ کو بھی ہمیں واپسی میں کچھ دینا ہو گا۔‘
اوشا نے بتایا کہ انڈین فلم انڈسٹری میں چند نوجوان خواتین کا یہ خیال ہے کہ ان کے پاس ہاں کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے ہمیشہ اس طرح کے جنسی پروپوزیشنز کو مسترد کر دیا لیکن انھوں نے چند پروڈیوسروں کی جانب سے ان دھمکیوں کا بھی سامنا کیا جس میں ایک شخص کی دھمکی بھی شامل ہے جس نے انھیں کہا کہ وہ انھیں اپنی فلم میں نہیں لے گا کیونکہ انھوں نے ان کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔
اوشا کے بقول ’اس نے مجھے کوسا اور کہا کہ آپ کو اچھے کردار نہیں ملیں گے، آپ کے ساتھ کچھ بھی اچھا نہیں ہوگا. پھر میں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ آپ کے پاس اتنی طاقت ہے۔‘
انڈین فلم سٹار رادیکھا نے فلم انڈسٹری میں جنسی ہراس کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ طاقت ایک ایسا عنصر ہے جو اس طرح کی چیزوں کو جنم دیتا ہے۔
اگرچہ بالی وڈ کے بڑے نام جنسی ہراس کے حوالے سے خاموش رہے لیکن رادیکھا ان میں سے ایک ہیں جنھوں نے اس مسئلے پر بات کی۔
رادیکھا نے حالیہ دنوں ریلیز ہونے والی بلاک بسٹر فلم ’پیڈ مین‘ میں کام کیا۔ ’ پیڈ مین کی کہانی ایک شخص کے بارے میں ہے جس نے خواتین کے لیے سستی سینیٹری پیڈ بنائے۔ رادیکھا آن اور آف اسکرین دونوں پر خواتین کے حقوق کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا ’میں نے اس موضوع پر کھل کر بات کرنی شروع کی۔ میں صنعت کی ان خواتین کی حالت سمجھتی ہوں جو ان مسائل پر بات کرنے سے ڈرتی ہیں۔‘
اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ بالی وڈ میں داخل ہونے کے لیے کوئی آسان یا واضح طریقہ نہیں ہے، لہذا ایسے واقعات میں خواتین اداکاروں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔
رادیکھا نے بتایا کہ انڈین فلموں میں کردار حاصل کرنے کا زیادہ دارومدار ذاتی تعلقات، سماج میں ہماری رسائی اور ہم کس طرح نظر آتے ہیں، یہ سب اہم ہے جبکہ ہالی وڈ میں یہ ایک رسمی عمل ہے جس میں اداکارہ کو ایکٹنگ میں داخلہ لینا پڑتا ہے۔
رادیکھا کی خواہش ہے کہ ہالی وڈ کی طرح بالی وڈ میں ’ #می ٹو‘ کی تحریک ہونی چاہیے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا تب تک نہیں ہو سکتا جب تک بالی وڈ کے بڑے نام آگے نہیں آتے ہیں۔
ایک اور معروف اداکارہ کالکی کوئچلن نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بھی ماضی میں اس حوالے سے کھل کر بات کی تھی جب انھیں اس وقت جنسی ہراس کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک بچی تھیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے بقول وہ ایسے نوجوان اداکار اور اداکاراؤں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہیں جو اپنی کہانیوں کو شیئر کرنے سے خوفزدہ ہیں۔
کالکی کوئچلن نے حالیہ دنوں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’اگر آپ کچھ نہیں ہیں تو لوگ آپ کی بات کو نہیں سنتے لیکن اگر آپ سیلبریٹی ہیں اور آپ اس حوالے سے بات کرتے ہیں تو یہ ہیڈ لائن بن جاتی ہے۔‘
انڈیا میں حالیہ دنوں فلم پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور اداکاروں کی جانب سے کام کے بدلے جنسی تعلقات کے مطالبے کے خلاف نیم برہنہ احتجاج کرنے والی اداکارہ سری ریڈی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
تیلگو فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی اداکارہ سری ریڈی کا کہنا تھا ‘میں اپنی جنگ میں بے بس ہوں کیونکہ میرا درد کسی کو نظر نہیں آتا اس لیے مجھے ایسا قدم اٹھانا پڑا۔’
واضح رہے کہ سری ریڈی نے تیلگو فلم انڈسٹری میں مبینہ طور پر جنسی ہراس کے خلاف بطور احتجاج حیدر آباد میں مووی آرٹسٹز ایسوسی ایشن کے سامنے اپنے کپڑے اتارے تھے جس کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا۔
سری ریڈی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا ’اگر فلم انڈسٹری کے لوگ چاہتے ہیں تو میں انھیں اپنی برہنہ تصاویر بھیج دیتی ہوں۔‘
حال ہی میں ایک نوجوان اداکارہ کو مبینہ طور پر گاڑی سے اغوا کر لیا گیا تھا جس کے بعد انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ نے فلم انڈسٹری میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے ایک گروپ بھی قائم کیا تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنسی ہراساں صرف خواتین تک محدود نہیں ہے۔
بالی وڈ کے معروف اداکاروں میں سے ایک رنویر سنگھ نے سنہ 2015 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں بھی کاسٹنگ کاؤچ کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ بالی وڈ کے چند منتخب کردہ اداکاروں میں سے ایک ہے جنھوں نے جنسی ہراس کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اسی طرح، اداکار، ڈائریکٹر اور گلوکار فرحان اختر نے بھی اس معاملے پر اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بالی وڈ میں ان خواتین کی حمایت کریں گے جو اس بارے میں بات کرنا چاہیں گی۔
فرحان کہتے ہیں ’جب خواتین کہتی ہیں کہ یہاں ایسا ہو رہا ہے، میں ان پر یقین کرتا ہوں۔‘
فرحان کو یقین ہے کہ بالی وڈ کی # می ٹو مومنٹ اپنے راستے میں ہے۔ ’یہ اس وقت تبدیل ہو گا جب خواتین اس پر کھل کر بات کریں گی۔
قیمت خواتین کو ہی کیوں چکانا پڑتی ہے؟
انڈیا اور پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس طرح کا الزام لگانے والی خواتین کو ہمدردی کی جگہ معاشرے سے نفرت اور الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صباحت ذکریہ کہتی ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس طرح کے الزامات کو ثابت کرنا انتہائی مشکل ہے، اور اگر کچھ خواتین سکرین شاRead more
انڈیا اور پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس طرح کا الزام لگانے والی خواتین کو ہمدردی کی جگہ معاشرے سے نفرت اور الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صباحت ذکریہ کہتی ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس طرح کے الزامات کو ثابت کرنا انتہائی مشکل ہے، اور اگر کچھ خواتین سکرین شاٹس وغیرہ کی صورت میں شواہد پیش بھی کرتی ہیں تب بھی ان پر یقین نہیں کیا جاتا۔
’لیکن میں پھر بھی پرامید ہوں۔ کوئی بھی تحریک ایک دم ہی کامیاب نہیں ہوتی، نتائج سامنے آنے میں وقت لگتا ہے۔ اب کم سے کم اس بارے میں بات ہو رہی ہے۔ خواتین ایک دوسرے کی مدد کر رہی ہیں، زیادہ پراعتماد ہیں اور مرد حضرات کو اس بارے میں سوچنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
How do women gain courage?
Gaining courage, especially in the face of adversity or deeply ingrained societal challenges, is a complex process. For women, particularly when speaking out against issues like harassment in patriarchal societies, it often involves a combination of internal fortitude and external support. Here's aRead more
Gaining courage, especially in the face of adversity or deeply ingrained societal challenges, is a complex process. For women, particularly when speaking out against issues like harassment in patriarchal societies, it often involves a combination of internal fortitude and external support. Here’s a breakdown of how women gain courage:
Internal Factors:
External Factors and Support Systems:
In essence, gaining courage is an ongoing journey that involves both personal development and a supportive environment. It’s about building inner strength while also finding external validation and advocacy that makes taking a stand feel less daunting and more achievable.
See lessWhen will #MeToo reach Pakistan?
The #MeToo movement has already reached Pakistan and has been a topic of public discussion for several years. It gained significant attention, particularly in 2018, when Pakistani singer Meesha Shafi publicly accused Ali Zafar, another prominent singer, of sexual harassment. However, the impact of #Read more
The #MeToo movement has already reached Pakistan and has been a topic of public discussion for several years. It gained significant attention, particularly in 2018, when Pakistani singer Meesha Shafi publicly accused Ali Zafar, another prominent singer, of sexual harassment.
However, the impact of #MeToo in Pakistan has been complex and met with mixed responses due to deeply rooted patriarchal societal norms and institutional challenges. Here’s a summary of its status and challenges:
Impact and Discussion:
Challenges and Mixed Responses:
In conclusion, #MeToo is not something that “will reach” Pakistan; it is already there and has been for several years. However, its trajectory is challenging, facing significant pushback and systemic obstacles in a deeply conservative and patriarchal society. While it has sparked crucial conversations and empowered some individuals to speak out, achieving widespread, sustained change and full societal acceptance for its goals remains an ongoing struggle.

See lessWho is Pakistan's new 'white fan' Cynthia Ritchie?
Cynthia D. Ritchie is an American filmmaker, analyst, and social media campaigner who has been living in Pakistan since 2010. She is known for her activities on social media to uplift the image of Pakistan and has also been involved in various controversies. Her background includes: Graduating fromRead more
Cynthia D. Ritchie is an American filmmaker, analyst, and social media campaigner who has been living in Pakistan since 2010. She is known for her activities on social media to uplift the image of Pakistan and has also been involved in various controversies.
Her background includes:
In Pakistan, she has engaged in various activities:
Cynthia Ritchie has been at the center of several controversies in Pakistan. These include:
- Allegations of sexual misconduct: In June 2020, she accused former Interior Minister Rehman Malik of rape and former Prime Minister Yousaf Raza Gilani, and another politician, of sexual misconduct, dating back to 2011. These politicians have denied the allegations.
- Comments about Benazir Bhutto: She also made comments on social media regarding late former Prime Minister Benazir Bhutto, which led to outrage and legal complaints from the Pakistan People’s Party (PPP).
- Claims of affiliation with military: She has claimed to be working with the military and security services to investigate “anti-state” links, though no formal confirmation or denial has been issued by the military.
- Questions about her presence and activities: Her continued presence and access to certain areas in Pakistan, given her activities, have raised questions among some observers.

See lessWhat is Eva Zubek doing in Pakistan?
Eva Zubek, also known as Eva zu Beck, is a Polish travel blogger, vlogger, and television host. She is known for traveling to less conventional destinations, including Pakistan, where she lived for over a year. Her activities in Pakistan have included: Hosting "A Place Called Pakistan": She hosted aRead more
Eva Zubek, also known as Eva zu Beck, is a Polish travel blogger, vlogger, and television host. She is known for traveling to less conventional destinations, including Pakistan, where she lived for over a year.
Her activities in Pakistan have included:
While she has gained recognition for her work in Pakistan, there was also a controversial dance video in 2018 that was believed to have “disgraced the national flag of Pakistan.”
It’s important to note that while she has a significant history of activities in Pakistan and has lived there, her current projects also include other regions. For example, in November 2024, she was featured in a video promoting Lower Silesia in Poland in partnership with the Polish Tourism Organisation. She has also recently competed in ultramarathons.


See lessکیا آپ نے بھی شہزاد غیاث عرف سمینتھا گیری کو اپنے گھر مدعو کیا تھا؟
Play video, "سمینتھا کون ہیں اور کہاں سے آئیں؟", دورانیہ 2,16 02:16 ،ویڈیو کیپشنسمینتھا کون ہیں اور کہاں سے آئیں؟ سنتھیا ڈی رچی کے بعد اب سمینتھا اے گیری بھی پاکستان آرہی ہیں! اگر آپ کو نہیں معلوم کہ یہ خواتین کون ہیں تو شاید آپ سوشل میڈیا باقاعدگی سے استعمال نہیں کرتے۔ کر رہے ہوتے تو آپ کو معلوم ہوRead more
02:16
،ویڈیو کیپشنسمینتھا کون ہیں اور کہاں سے آئیں؟
سنتھیا ڈی رچی کے بعد اب سمینتھا اے گیری بھی پاکستان آرہی ہیں!
اگر آپ کو نہیں معلوم کہ یہ خواتین کون ہیں تو شاید آپ سوشل میڈیا باقاعدگی سے استعمال نہیں کرتے۔ کر رہے ہوتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ گذشتہ ہفتے پاکستانی ٹوئٹر صارفین ان ہی دو سفید فام خواتین کے پیچھے ہاتھ پیر دھو کر پڑ گئے تھے۔
لیکن ان میں سے صرف ایک خاتون حقیقی ہیں۔ ٹوئٹر پر عوام نے جب یہ سنا کہ ایک اور غیر ملکی دوشیزہ سر زمینِ پاکستان پر قدم رکھنے لگی ہیں تو انھوں نے روایتی حُب الوطنی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے دل اور دروازے ان کے لیے وا کر دیے لیکن تعجب کی بات یہ تھی کہ سمینتھا اے گیری نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ گذشتہ ہفتے ہی بنایا گیا تھا اور اسے بہت ہی کم وقت میں کافی پذیرائی مل گئی
نہ صرف ان کے اکاؤنٹ پر دیا گیا نام غیر ملکی ہے بلکہ اکاؤنٹ پر موجود تصویر بھی ان کے سفید فام ہونے کا عندیہ دیتی ہے۔
پھر کیا تھا، سوشل میڈیا صارفین نے اکاؤنٹ کی مزید تصدیق کیے بغیر اصرار کیا کہ سمینتھا پاکستان آئیں اور انھیں یقین دلایا کہ وہ یہاں محفوظ رہیں گی۔ بلکہ کچھ لوگوں نے تو ان کی حفاظت کی ذاتی طور پر ضمانت بھی دے ڈالی۔
ھر چند لوگوں نے اس اکاؤنٹ کے جعلی ہونے کی نشاندہی کی۔ لیکن زیادہ تر لوگوں نے اس بات پر کان نہ دھرے۔ بلکہ سمینتھا کو اپنے گھر مدعو کرنے اور اپنا ذاتی موبائل نمبر بھیجنے میں مصروف رہے۔ سمینتھا کے اکاؤنٹ پر فالوورز کی تعداد برق رفتاری سے بڑھنے لگی۔
ایسا لگنے لگا کہ سمینتھا کے پاس ہی پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے اور ان کے آتے ہی ملک میں امن و امان کی صورتحال بحال ہو جائے گی، چڑیاں چہچہانے لگیں گی، بادل چھٹ جائیں گے اور نئے پاکستان کا سورج آخر کار طلوع ہو جائے گا۔
Why only rely on foreigners to promote tourism in Pakistan?
It's a common misconception that Pakistan only relies on foreigners to promote tourism. While the Pakistani government has certainly invested in inviting international social media influencers and travel bloggers to showcase the country's beauty, this is part of a broader, multi-faceted strategy. HeRead more
It’s a common misconception that Pakistan only relies on foreigners to promote tourism. While the Pakistani government has certainly invested in inviting international social media influencers and travel bloggers to showcase the country’s beauty, this is part of a broader, multi-faceted strategy. Here’s why and what else they are doing:
Why the Focus on Foreigners (Historically/Initially):
Why it’s NOT “Only” Foreigners and What Else Pakistan is Doing:
Pakistan’s National Tourism Strategy (2020-2030) and various initiatives demonstrate a comprehensive approach that includes:
In summary, while foreign influencers have played a crucial role in changing perceptions and generating international interest, Pakistan’s tourism strategy is far more comprehensive, encompassing significant efforts to promote domestic tourism, develop infrastructure, and enhance the overall tourism experience for everyone.
See less’بلوچستان، کراچی اور لاہور کے بعد اب کیا گلگت بلتستان کی باری ہے؟‘
پاکستان میں سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد نے وزارتِ داخلہ کی جانب سے گلگت بلتستان جانے والے غیر ملکی سیاحوں کے لیے این او سی یا پیشگی اجازت نامہ لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ چند روز قبل وزارت داخلہ نے گلگت بلتستان کو ایک خط میں کہا تھا کہ تمام غیر ملکی سیاحوں کو وزارت داخRead more
پاکستان میں سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد نے وزارتِ داخلہ کی جانب سے گلگت بلتستان جانے والے غیر ملکی سیاحوں کے لیے این او سی یا پیشگی اجازت نامہ لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
چند روز قبل وزارت داخلہ نے گلگت بلتستان کو ایک خط میں کہا تھا کہ تمام غیر ملکی سیاحوں کو وزارت داخلہ سے این او سی لینا ضروری ہے۔
٭ ’ویزے کی مشکلات سیاحوں کو راغب کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ‘
وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ‘یہ بات نوٹس میں آئی ہے کہ غیر ملکی سیاح وزارت داخلہ کی این او سی یا کلیئرنس کے بغیر گلگت بلتستان جا رہے ہیں جو قانون کے خلاف ہے۔ حکومت گلگت بلتستان اقدامات اٹھائے تاکہ ایسا نہ ہو۔’
‘غیر ملکی سیاحوں کے پروگرام کئی ماہ قبل بن چکے ہیں اور ان کو ویزے جاری ہو چکے ہیں۔ ہم گلگت بلتستان کونسل کے علم میں اس بات کو لائے ہیں کہ یہ خط گلگت بلتستان میں سیاحت کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔’
انھوں نے کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی غیر ملکی پاکستان آ کر این او سی حاصل کرے۔
‘جب بھی کوئی غیر ملکی گلگت بلتستان کے لیے ویزہ لینا چاہتا ہے تو وہ اپنے پاسپورٹ کے ساتھ یا تو ٹوئر آپریٹر کا خط لگاتا ہے یا اپنے سپانسر کا۔ اس کا ویزہ پاکستانی سفارتخانہ دو ہفتے تک رکھتا ہے اور جب سب کلیئر ہو جاتا ہے تو تب ویزہ دیا جاتا ہے۔’
انھوں نے کہا کہ اگر یہ سب کام سفارتخانے میں ہو جاتا ہے تو پاکستان آ کر این او س لینے کی سمجھ نہیں آتی۔
‘غیر ملکی سیاح اپنے پورے سفر کی منصوبہ بندی کر کے آیا ہوتا ہے اور پاکستان آمد پر اس کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ کوئی بھی غیر ملکی سیاح اپنی چھٹیوں میں این او سی کے لیے ایک دو دن یا تین کا وقت نہیں رکھے گا۔’
انھوں نے بتایا کہ ہر سال کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کے لیے ہزاروں غیر ملکی آتے ہیں۔ ‘کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کے باعث پاکستان میں زر مبادلہ آتا ہے۔’
‘ہنزہ آن فٹ’ کے نوید خان نے کہا کہ ایک طرف تو پاکستانی حکومت سیاحت کے فروغ کی باتیں کرتی ہے اور دوسری جانب اس قسم کی قدغنیں لگا رہی ہے۔
‘یہ نہ صرف ٹوئر آپریٹرز کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ پاکستانی حکومت کے لیے بھی۔ وہ غیر ملکی جو انٹرنیٹ پر پڑھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کتنا خوبصورت ہے، کتنا محفوظ ہے اور وہاں کے لوگ کتنے مہمان نواز ہیں اور پھر ان کو یہ معلوم چلے کے گلگت بلتستان کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے این او سی لینا ہو گا تو کون ہے جو اس جھنجھٹ میں پڑے۔ کیا ہم پاکستانی اس جگہ جانا پسند کریں گے جہاں پہلے ان کو این او سی لینا ہو۔ میرے خیال میں نہیں۔’
ان کا مزید کہنا تھا کہ جتنا پیسہ غیر ملکی پاکستان میں لاتے ہیں اتنا پیسہ پاکستانی اس علاقے میں نہیں خرچ کرتے۔
نوید خان نے مزید کہا کہ ان کے ساتھ سیاحت کے لیے ایک درجن سے زیادہ غیر ملکی آئندہ ایک دو ہفتے میں پاکستان پہنچ رہے ہیں۔
‘ان لوگوں کو ویزہ بھی مل گیا ہے، انھوں نے ٹکٹیں بھی لے لی ہیں اور انھوں نے اپنی رقم بھی دے دی ہے جو ناقابل واپسی ہے۔ اب اگر یک دم حکومت کی جانب سے ایسا نوٹیفیکیشن جاری ہو گیا ہے تو وہ آئندہ کیوں پاکستان آئیں گے۔’
پاکستان میں کوہ پیمائی کے ادارے الپائن کلب کے ترجمان قرار حیدری نے کہا کہ غیر ملکی سیاح کی ٹوئر آپریٹر کے ساتھ ایک ڈیل ہوئی ہوتی ہے۔
‘غیر ملکی سیاح نے واپس بھی جانا ہوتا ہے۔ اگر وہ این او سی کے لیے دو روز زیادہ پاکستان میں بیٹھ جائے تو اس کا خرچہ ٹوئر آپریٹر کو اٹھانا پڑے گا۔ ٹوئر آپریٹر تو مارا گیا۔’
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد کا دارومدار حالات پر ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جیسے ہی لاہور میں دھماکے ہوئے تو کئی سیاحوں نے اپنا ٹرپ منسوخ کر دیا۔ کراچی، لاہور، بلوچستان وغیرہ میں تو سیاحت ختم ہو چکی ہے اور اب رہ گئی ہے تو گلگت بلتستان میں، لیکن اگر اس قسم کی پابندیاں لگائی گئیں تو وہاں بھی سیاحت ختم ہو جائے گی۔