Sign In Sign In

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Don't have account, Sign Up Here

Forgot Password Forgot Password

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.

Have an account? Sign In Now

Sorry, you do not have permission to ask a question, You must login to ask a question.

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Need An Account, Sign Up Here

Sorry, you do not have permission to ask a question, You must login to ask a question.

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Need An Account, Sign Up Here

Please briefly explain why you feel this question should be reported.

Please briefly explain why you feel this answer should be reported.

Please briefly explain why you feel this user should be reported.

Sign InSign Up

Nuq4

Nuq4 Logo Nuq4 Logo
Search
Ask A Question

Mobile menu

Close
Ask a Question
  • Nuq4 Shop
  • Become a Member

Ali1234

Researcher
Ask Ali1234
0 Followers
1k Questions
  • About
  • Questions
  • Answers
  • Best Answers
  • Favorites
  • Groups
  • Joined Groups
  1. Asked: July 29, 2025

    جاپانی یوٹیوبر اپنی نوکیلی ٹھوڑی کیوجہ سے سوشل میڈیا پر وائرل

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 29, 2025 at 3:43 am

    انہوں نے اپنی بچپن کی تصاویر بھی شیئر کیں جہاں تین سال کی عمر تک ٹھوڑی معمولی تھی

    انہوں نے اپنی بچپن کی تصاویر بھی شیئر کیں جہاں تین سال کی عمر تک ٹھوڑی معمولی تھی


    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  2. Asked: July 29, 2025

    جاپانی یوٹیوبر اپنی نوکیلی ٹھوڑی کیوجہ سے سوشل میڈیا پر وائرل

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 29, 2025 at 3:42 am

    جاپان میں جونوچی نامی یوٹیوبر نے اپنی لمبی اور نوکیلی ٹھوڑی کی وجہ سے آن لائن شہرت حاصل کرلی ہے۔ یوٹیوبر کی اس منفرد ظاہری شکل نے اسے مزاق کا نشانہ بننے کے بجائے ایک منفرد برانڈ میں تبدیل کر دیا ہے۔ جونوچی خود کو "world’s longest chin" کے نام سے پیش کرتے ہیں اور اس کی ٹھوڑی واقعی نمایاں حد تک لمبی اRead more

    جاپان میں جونوچی نامی یوٹیوبر نے اپنی لمبی اور نوکیلی ٹھوڑی کی وجہ سے آن لائن شہرت حاصل کرلی ہے۔

    یوٹیوبر کی اس منفرد ظاہری شکل نے اسے مزاق کا نشانہ بننے کے بجائے ایک منفرد برانڈ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    جونوچی خود کو “world’s longest chin” کے نام سے پیش کرتے ہیں اور اس کی ٹھوڑی واقعی نمایاں حد تک لمبی اور نوکیلی ہے جسے ان کے سوشل میڈیا پر فالوورز جاپانی کارٹونز کے کردار کے جیسا قرار دیتے ہیں۔

    اس منفرد خصوصیت نے انہیں تقریباً 350,000 سبسکرائبرز کی تعداد تک پہنچا دیا ہے اور ایکس اور ٹک ٹاک پر مزید فالوونگ حاصل ہوئی ہے۔ ان کے کل فالوورز 750,000 سے زائد بتائے جا رہے ہیں۔

    جونوچی کے مطابق ان کی ٹھوڑی پانچ سال کی عمر کے بعد نمایاں طور پر بڑھنے لگی۔ انہوں نے بچپن میں زیادہ دودھ پینا شروع کیا بڑی عمر میں ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ زیادہ دودھ پینا اس کا سبب نہیں ہے، بلکہ غالباً جینیاتی عوامل ہیں۔

    انہوں نے اپنی بچپن کی تصاویر بھی شیئر کیں جہاں تین سال کی عمر تک ٹھوڑی معمولی تھی، مگر پانچ سال کی عمر تک نوکیلی ہو چکی تھی۔

    اسکول کے دنوں میں انہیں ٹھوڑی کی وجہ سے مذاق کا سامنا کرنا پڑا تھا مگر جونوچی نے اس کو اپنی منفرد پہچان بنایا اور اسے قبول کرتے ہوئے سوشل میڈیا کی دنیا میں برانڈ بیلڈنگ کیلئے استعمال کیا۔

    وہ اپنی چین پر شوخی سے بات کرتے ہیں اور اسے اپنی content کا محور بناتے ہیں، جس نے انہیں ہزاروں لوگوں کے لیے ایک متاثر کن شخصیت میں بدل دیا ہے

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  3. Asked: July 29, 2025

    کاروباری دنیا میں مفت کچھ نہیں

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 29, 2025 at 3:40 am

    اس دنیا کا کاروبار ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کے اصول پر چلتا ہے اور یہی برابری کا اصول ہے

    اس دنیا کا کاروبار ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کے اصول پر چلتا ہے اور یہی برابری کا اصول ہے


    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  4. Asked: July 29, 2025

    کاروباری دنیا میں مفت کچھ نہیں

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 29, 2025 at 3:40 am

    کہتے ہیں کہ کاروباری دنیا میں مفت کچھ بھی نہیں ہوتا۔ کوئی نہ کوئی اس کی قیمت ضرور ادا کرتا ہے، چاہے اس کےلیے ادائیں اور کچھ اور بھی کیوں نہ دکھانا پڑے۔ میرے نزدیک تو کاروباری دنیا کا مفت ظہرانہ ہو یا عشائیہ، کاروباری نہیں بلکہ کاروکاری ہے اور یہ وقت بتاتا ہے کہ کون کارو ہے اور کون کاری ہے۔ کاروباریRead more

    کہتے ہیں کہ کاروباری دنیا میں مفت کچھ بھی نہیں ہوتا۔ کوئی نہ کوئی اس کی قیمت ضرور ادا کرتا ہے، چاہے اس کےلیے ادائیں اور کچھ اور بھی کیوں نہ دکھانا پڑے۔ میرے نزدیک تو کاروباری دنیا کا مفت ظہرانہ ہو یا عشائیہ، کاروباری نہیں بلکہ کاروکاری ہے اور یہ وقت بتاتا ہے کہ کون کارو ہے اور کون کاری ہے۔

    کاروباری دنیا میں مفت ظہرانہ یا عشائیہ کیوں نہیں ہوتا؟ اور اس بات کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا ہے؟

    پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ کاروباری دنیا مفادات کی دنیا ہے اور جس کا مطمع نظر صرف اور صرف منافع ہوتا ہے۔ عام طور پر ایک فریق کا نقصان ہی دوسرے فریق کا فائدہ یا منافع ہوتا ہے۔ اس کی بالکل سامنے کی مثال اسٹاک ایکسچینج ہے کیونکہ وہاں یہی ہوتا ہے کہ جس کو جوا تو کہا جاسکتا ہے مگر کاروبار قطعی نہیں۔ لیکن ہمارے یہاں اب بھی اس کو کاروبار سمجھا اور بولا جاتا ہے۔

    آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں کہ دنیا کے تمام بڑے جوئے خانوں میں جواری حضرات کےلیے کھانے اور پینے کے لوازمات بظاہر بالکل مفت ہوتے ہیں۔ ان کی قیمت جوئے کی رقم میں نظر تو نہیں آتی مگر شامل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جوئے خانے کے مالکان یہ نہیں چاہتے کہ ان کے یہاں کھیلنے والے کھانے کےلیے بھی باہر جائیں، کیونکہ اگر ایک دفعہ وہ باہر چلے گئے تو پھر ہوسکتا ہے کہ وہ پلٹ کر واپس اسی جوئے خانے میں نہ آئیں اور کہیں اور چلے جائیں۔

    اب ہم ہمارے دوسرے سوال کی جانب آتے ہیں کہ کاروباری دنیا میں کوئی چیز ایسی کیوں نہیں ہوتی کہ جس کو مفت قرار دیا جاسکے؟ اور اس کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا ہے؟

    اس بات کے آغاز کے بارے میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر عام خیال یہ ہے کہ اس کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا ہے کہ جب کچھ بار (شراب خانے) والوں نے اپنے صارفین کو ایک بیئر کی بوتل کے ساتھ مفت کھانے کی ترغیب دینی شروع کی تھی۔ مفت کھانے کے لالچ میں لوگ بیئر کا آرڈر دیتے تھے۔ کھانے میں نمک کا تناسب عام سے تھوڑا زیادہ ہوتا تھا، نتیجتاً گاہک کو زیادہ پیاس لگتی تھی اور یوں صارف بیئر کی مزید بوتلوں کا آرڈر دیتا تھا کہ جس سے کھانے کی قیمت وصول ہوجاتی تھی اور یوں اس کہاوت کا آغاز ہوا۔

    اب تو آپ کو یقین آگیا ہوگا کہ مفت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی اور یہی بات ول اسمتھ فلم ’کنگ رچرڈ‘ میں اپنی دونوں بیٹیوں وینس ولیم اور سرینا ولیم کو بتاتا ہے، جب وہ ایک کلب میں گئے ہوتے ہیں اور بچیوں نے مفت سمجھ کر برگر آرڈر کیے تھے۔ اگر آپ نے یہ فلم نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیے یہ ایک بہت شاندار فلم ہے۔

    اس مفت کھانے کی پوری کہانی میں مزے کی بات یہ ہوتی ہے کہ جو کھانا کھا رہا ہوتا ہے صرف اسی کو قیمت نظر نہیں آرہی ہوتی، ورنہ باقی سب کو تو اس کھانے کی قیمت بڑی بڑی لکھی نظر آرہی ہوتی ہے۔ آپ بس اس تھوڑے لکھے کو بہت جانیے۔

    اس کائنات اور دنیا کا کاروبار ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کے اصول پر چلتا ہے اور یہی برابری کا اصول ہے۔ اگر آپ کچھ خدمات دیے بغیر صرف وصول کرنے پر یقین رکھتے ہیں تو اسے بھیک، صدقہ، خیرات یا امداد ہی کہہ سکتے اور اس کی بھی قیمت ہوتی ہے کہ جو غیرت، وقار، عزت نفس، قدر و منزلت، حشمت، حرمت، آبرو اور خودداری کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے اور من حیث القوم ہم سے زیادہ اس کا ادراک اور کس کو ہوگا؟

    آخر میں حسب روایت ایک کہانی اور اختتام۔ ایک صاحب کہ جن کا نام ڈونلڈ ڈک تھا ان کے پاس یکایک بہت بہت زیادہ پیسہ آگیا اور انھوں نے اپنی امارت کا اظہار کرنے کےلیے اپنے دوستوں عربی، عجمی، یورپی، پوربی، چینی غرضیکہ اپنے تمام حامیوں کی ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ دعوت کے اختتام پر انھوں نے اپنے تمام مہمانوں کو اپنے محل نما گھر جو کہ پورا سفید ماربل کا بنا ہوا تھا اس کا دورہ کرایا۔ ایک بڑے کمرے میں ایک بہت ہی بارعب شخص کی بڑی سی تصویر لگی ہوئی تھی۔ تمام مہمانوں نے استفسار کیا کہ یہ صاحب کون ہے؟ اس پر ڈونلڈ ڈک نے کہا کہ یہ میرے جد امجد ہے اور ان سے ہمارا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے جد امجد کی بہادری اور سخاوت کی مبالغہ آرائی بلکہ دروغ گوئی کی حد تک کی کہانیاں سنانی شروع کردی۔ اب ان سب مہمانوں نے ان کا (مفت) ظہرانہ کھایا تھا اس لیے چپ کرکے سنتے رہے مگر ایک مہمان سے برداشت نہ ہوا اور اس نے کہا کہ تھوڑے سے پیسوں کی وجہ سے میرا سودا ٹوٹ گیا تھا ورنہ آج یہ میرے جد امجد ہوتے۔

    اگر اس کہانی کا کوئی تعلق آپ کو بین الاقوامی سیاست سے لگتا ہے تو یہ آپ کے اپنے ذہن کا فتور ہے اور اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ ہاں اس میں سمجھنے والوں کےلیے نشانیاں ہیں، اگر وہ سمجھنا چاہے

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  5. Asked: July 29, 2025

    سوشل میڈیا اور ہم موجودہ دور سماجی ذرائع ابلاغ کا ہے

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 29, 2025 at 3:38 am

    انگریز نے جب ہندوستان میں اپنے قدم جما لیے اور حکمران بن بیٹھا تو چونکہ وہ اپنے دوست اور دیگر رشتے دار پیچھے چھوڑ آیا تھا تو یہ ثابت کرنے کےلیے کہ وہ بھی سماجی حیوان ہے، اس نے ہندوستان میں جم خانے اور کلب بنائے تاکہ وہ اپنے ہم رنگ، ہم نسل، ہم منصب، ہم نوالہ، ہم پیالہ کے ساتھ وقت گزار سکے اور سماجی سRead more


    انگریز نے جب ہندوستان میں اپنے قدم جما لیے اور حکمران بن بیٹھا تو چونکہ وہ اپنے دوست اور دیگر رشتے دار پیچھے چھوڑ آیا تھا تو یہ ثابت کرنے کےلیے کہ وہ بھی سماجی حیوان ہے، اس نے ہندوستان میں جم خانے اور کلب بنائے تاکہ وہ اپنے ہم رنگ، ہم نسل، ہم منصب، ہم نوالہ، ہم پیالہ کے ساتھ وقت گزار سکے اور سماجی سرگرمیاں کرسکے۔ اس کو صرف اپنے لوگوں تک محدود کرنے کےلیے اس نے باہر بورڈ لگوا دیے کہ ’’کتوں اور ہندوستانیوں‘‘ کا داخلہ ممنوع ہے۔

    انگریز چلے گئے، قوم آزاد ہوگئی اور جم خانوں اور کلبوں سے بورڈ اتر گئے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ بورڈ آج بھی آویزاں ہیں بس نظر نہں آتے۔ کیونکہ آج بھی صرف ایک مخصوص سماجی حیثیت کے لوگ ہی ان جم خانوں اور کلبوں میں جلوہ گر ہوتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر ان کے رشتے دار خاص طور پر وہ جو سماجی حیثیت میں اُن کے ہم پلہ نہ ہوں، اگر وہ ان سے ملنے کے خواستگار ہوں تو یہ انکار کر دیتے ہیں کہ ہم مصروف ہیں اور کلب جارہے ہیں۔ اس صورتحال میں نوٹس تو اب بھی موجود ہے لیکن اب وہ مقامی ضروریات پوری کرتے ہیں۔

    جیسا کہ ہم سب جانتے ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے اور اس میں سے سماجی نکال دوں تو صرف حیوان رہ جاتا ہے۔ انسان کی سماجی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے ہر دور میں کچھ نہ کچھ نئی چیزیں اور طریقے متعارف کرائے جاتے رہے۔ موجودہ دور سماجی ذرائع ابلاغ کا ہے، بدقسمتی سے اس سماجی ذرائع ابلاغ نے ملاقات کے معنی بدل دیے ہیں۔ اب ملنا بھی آن لائن ہوگیا ہے کہ جس کے نتیجے میں ملاقات تو آن لائن ہوجاتی ہے لیکن موت تنہائی یا اکیلے میں ہوتی ہے۔

    جس تواتر سے اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے لگتا ہے کہ قوم جلد ہی اس کو بھی قبول کرلے گی اور ابھی جو تھوڑا بہت اثر ہم دیکھ رہے ہیں وہ بھی وقت کے ساتھ ختم ہوجائے گا اور ہم بالکل احساس سے عاری لوگوں کا ہجوم بنے ہوئے تو ہیں ہی بس یہ سب کچھ اور پکا ہوجائے گا۔ جب بھی کوئی نئی چیز یا طریقہ متعارف کرایا گیا تو یہ خیال رکھا گیا کہ نئی چیز یا طریقہ انسان کے تابع ہوں۔ یہ پہلی بار ہے کہ انسان اس سوشل میڈیا کا عادی بلکہ ’’غلام‘‘ بن گیا ہے۔ بے شمار ایسی تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں کہ جس میں ہم نے دیکھا کہ لوگ اس قدر سوشل میڈیا پر منہمک تھے کہ حادثے کا شکار ہوگئے لیکن کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔

    ہمارا مذہب ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تم اگر کچھ اچھا کھاتے یا پیتے ہو لیکن کسی بھی وجہ سے اسے اپنے ہمسایے کے ساتھ بانٹ نہیں سکتے تو اس کی باقیات کو باہر مت پھینکو کہ تمہارے ہمسایے کو اپنی کم مائیگی کا احساس نہ ہو۔ لیکن آج سوشل میڈیا پر کیا ہو رہا ہے، ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کی نمائش کی جاتی ہے، جیسے میں پیزا کھا رہا ہوں، میں نے حلوہ پوری کھائی اور دیگر چیزوں میں کہ میں طیران گاہ سے ملکی اور غیر ملکی سفر پر روانہ ہورہا ہوں اور لوگ کھانے کی چیزوں پر yummy اور دیگر چیزوں پر مختلف تاثرات دیتے ہیں۔ ایک اور طریقہ “like” کا ہے جس میں مختلف اشکال بھی ہیں، جیسے دل یا انگوٹھا۔ اگر فیس بک کا بٹن دلی کیفیت بتا سکتا تو دل کے ساتھ ’’چھریاں‘‘ بھی ہوتیں اور ’’انگوٹھے‘‘ کے ساتھ بقایا انگلیاں بھی ہوتیں، باقی آپ سب سمجھدار ہیں۔

    خدا کےلیے ہوش کے ناخن لیجیے۔ یہ موجودہ دور کا فتنہ ہے۔ ہر دور کے اپنے فتنے ہوتے ہیں اور اگر ان فتنوں کا وقت پر سدِباب نہیں کیا گیا تو یہ قوموں کو تباہ کردیتے ہیں اور قرآن میں اس قسم کے واقعات کی بہت مثالیں ہے۔ انتہا تو یہ کہ میں نے مسجد میں داخلے کے (check in) کے پیغامات بھی پڑھے ہیں۔ اگر یہ خدا کےلیے ہے تو کیا اس کو پتہ نہیں ہے؟ ہمارا تو ایمان ہے کہ وہ دلوں کے حال جانتا ہے اور اگر لوگوں کےلیے ہیں تو پھر اسے دکھاوے کے سوا کیا نام دوں۔

    ہم سب جانتے ہیں کہ آخرت میں ہر چیز بشمول ہمارے اپنے اعضا ہمارے اعمال کی گواہی دیں گے، تو کہیں اس فیس بک کے چکر میں ہم کہیں فیس دکھانے کہ لائق نہ رہے اور یہ فیس بک والا like نہیں، آگے اپ کی مرضی اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین۔

    آخر میں ہماری قومی ذہنیت پر ایک کہانی اور اختتام۔

    ایک گھر کے دروازے پر دستک ہوئی، دروازہ کھولا تو سامنے پیزا ڈلیوری والا لڑکا کھڑا تھا۔ گھر کے مکین نے کہا کہ ہم نے تو کوئی پیزا کا آرڈر نہیں دیا ہے۔ پیزا ڈلیوری والے نے کہا کہ معلوم ہے اور یہ کہہ کر پیزا کا ڈبہ کھول کر انھیں پیزا دکھایا اور کہا کہ یہ آپ کے پڑوسیوں کا آرڈر ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کو دکھا دوں کیونکہ ان کے یہاں بجلی نہیں ہے اور اس کو فیس بک پر پوسٹ نہ کرسکیں گے۔

    آپ پیزا دیکھ کر جل بھن کر کباب بنیں اور چاہے تو پھر وہی جلے بھنے کباب کھا لیجئے گا اور اپنے پڑوسیوں کو پیزا سے لطف اندوز ہونے دیں۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  6. Asked: July 29, 2025

    کمالیت پسندی: خوبی، خامی یا ایک نفسیاتی مرض!

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 29, 2025 at 3:37 am

    ہماری روزمرہ کی زندگی اور معاشرتی اقدار میں ’’کمالیت پسندی‘‘ یا "Perfectionism" کو اکثر ایک خوبی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو اپنے ہر کام کو نہایت نفاست، محنت اور بے عیب طریقے سے انجام دینے کی کوشش کرتا ہے، اسے قابلِ تعریف اور کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ اسکول کے ذہین ترین طالب علم سRead more


    ہماری روزمرہ کی زندگی اور معاشرتی اقدار میں ’’کمالیت پسندی‘‘ یا “Perfectionism” کو اکثر ایک خوبی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو اپنے ہر کام کو نہایت نفاست، محنت اور بے عیب طریقے سے انجام دینے کی کوشش کرتا ہے، اسے قابلِ تعریف اور کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ اسکول کے ذہین ترین طالب علم سے لے کر دفتر کے سب سے قابل ملازم تک، کمالیت پسندی کو کامیابی کا زینہ قرار دیا جاتا ہے۔

    لیکن کیا ہو اگر کامیابی کی یہ بظاہر چمکتی ہوئی سیڑھی درحقیقت ایک پھسلن بھری ڈھلوان ہو جو انسان کو ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کی گہری کھائی میں دھکیل دے؟ جدید نفسیاتی تحقیقات اور عالمی ماہرین کی آراء اس سکے کا ایک دوسرا، تاریک رُخ پیش کرتی ہیں، جس کے مطابق کمالیت پسندی ایک خوبی سے بڑھ کر ایک سنگین نفسیاتی مرض بھی بن سکتی ہے۔

    یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر قسم کی کمالیت پسندی نقصان دہ نہیں۔ ماہرینِ نفسیات صحت مند (Adaptive) اور غیر صحت مند (Maladaptive) کمالیت پسندی میں واضح فرق کرتے ہیں۔ صحت مند کمالیت پسندی میں انسان اپنی ذات سے بہترین کارکردگی کی توقع رکھتا ہے، محنت کرتا ہے، اور ناکامی کو سیکھنے کا ایک موقع سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس، غیر صحت مند کمالیت پسندی ایک جنون کی شکل اختیار کر لیتی ہے جہاں انسان خود سے غیر حقیقی اور ناقابلِ حصول معیار وابستہ کر لیتا ہے۔ یہاں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، اور ہر چھوٹی سی خامی بھی ذاتی ناکامی اور بے وقعتی کے شدید احساسات کو جنم دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ خوبی ایک مرض کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

    نفسیات کے موضوع پر دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹ ’’سائیکالوجی ٹوڈے‘‘ (Psychology Today) کا کہنا کہ غیر صحت مند کمالیت پسندی محض ایک بری عادت نہیں، بلکہ یہ کئی ذہنی بیماریوں کی جڑ ہے۔

    ’’سائیکالوجی ٹوڈے‘‘ کے ایک مضمون بعنوان “The Dangers of Perfectionism” میں بتایا گیا ہے کہ کمالیت پسند افراد اپنی زندگی کو ایک ایسی رپورٹ کارڈ کی طرح دیکھتے ہیں جس میں ہر حال میں ’’A+‘‘ گریڈ حاصل کرنا لازمی ہے۔ اس مضمون میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’کمال‘‘ یا “Perfection” حقیقت میں ایک ناممکن الحصول تصور ہے۔ اس کے پیچھے بھاگنے والے افراد شدید ذہنی دباؤ، اضطراب (Anxiety)، ڈپریشن، اور Obsessive-Compulsive Disorder (OCD) جیسی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    مضمون کے مطابق کمالیت پسندوں کی سب سے بڑی جنگ کامیابی حاصل کرنا نہیں، بلکہ ناکامی سے بچنا ہوتی ہے۔ ناکامی کا خوف ان پر اس قدر حاوی ہو جاتا ہے کہ وہ اکثر کام شروع ہی نہیں کر پاتے، اس کیفیت کو نفسیات میں “Procrastination” یا ٹال مٹول کی عادت کہا جاتا ہے۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ کام شروع کریں گے اور اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے تو یہ ان کی ذات پر ایک بدنما داغ ہوگا۔

    ایک اور تجزیے میں، جو “What Is Maladaptive Perfectionism?”  میں بتایا گیا ہے کہ اس مرض کی بنیاد اکثر بچپن کے تلخ تجربات، والدین کی بے جا توقعات اور احساسِ کمتری پر ہوتی ہے۔ ایسے افراد اپنی قدر و قیمت کا تعین اپنی کامیابیوں اور کارکردگی کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ وہ غیر مشروط محبت پر یقین نہیں رکھتے اور انہیں ہر وقت یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر وہ کامل نہیں ہوں گے تو لوگ انہیں قبول نہیں کریں گے۔ اس مضمون میں کمالیت پسندی کی چند واضح علامات کا ذکر کیا گیا ہے، جیسے “All-or-None Thinking” یعنی ’’سب کچھ یا کچھ نہیں‘‘ کی سوچ۔ ان کے لیے کوئی بھی کام یا تو مکمل طور پر بہترین ہوتا ہے یا مکمل طور پر ناکارہ۔ درمیان کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

    عالمی ماہرینِ نفسیات کی مستند آرا

    جب ہم کمالیت پسندی پر ہونے والی عالمی تحقیق پر نظر ڈالتے ہیں تو دو نام سب سے نمایاں نظر آتے ہیں: کینیڈا کے ماہرینِ نفسیات ڈاکٹر گورڈن فلیٹ (Dr. Gordon Flett) اور ڈاکٹر پال ہیوٹ (Dr. Paul Hewitt)۔ ان دونوں محققین نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کمالیت پسندی کی نفسیات کو سمجھنے اور اس کے علاج کے طریقے وضع کرنے میں صرف کیا ہے۔

    ڈاکٹر فلیٹ، جو کینیڈا کی یارک یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر ہیں، اور ڈاکٹر ہیوٹ، جو برٹش کولمبیا یونیورسٹی میں کلینیکل سائیکالوجی کے پروفیسر ہیں، نے اپنی دہائیوں پر محیط تحقیق کے بعد کمالیت پسندی کا ایک کثیر جہتی ماڈل (Multidimensional Model) پیش کیا۔ ان کی مشترکہ تصنیف “Perfectionism: A Relational Approach to Conceptualization, Assessment, and Treatment” کو اس میدان میں ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے مطابق، کمالیت پسندی کی تین بڑی اقسام ہیں:

    * ذات پر مبنی کمالیت پسندی (Self-Oriented Perfectionism): اس میں فرد خود اپنے لیے انتہائی بلند اور غیر حقیقی معیار مقرر کرتا ہے اور انہیں حاصل نہ کر پانے پر شدید خود تنقیدی کا شکار ہوتا ہے۔

    * دوسروں پر مبنی کمالیت پسندی (Other-Oriented Perfectionism): اس قسم میں فرد اپنے اردگرد کے لوگوں، جیسے خاندان، دوستوں یا ساتھ کام کرنے والوں سے کامل ہونے کی غیر حقیقی توقعات وابستہ کرتا ہے۔ جب دوسرے اس کے معیار پر پورا نہیں اترتے تو وہ غصے، مایوسی اور رشتوں میں تناؤ کا شکار ہوتا ہے۔

    * معاشرتی طور پر مسلط کردہ کمالیت پسندی (Socially Prescribed Perfectionism): ڈاکٹر فلیٹ اور ہیوٹ کے مطابق، یہ کمالیت پسندی کی سب سے خطرناک اور زہریلی قسم ہے۔ اس میں فرد یہ سمجھتا ہے کہ معاشرہ، یا اس کے اردگرد کے اہم لوگ اس سے کامل ہونے کی توقع رکھتے ہیں اور وہ ان توقعات کو پورا کرنے کے لیے شدید دباؤ محسوس کرتا ہے۔ اسے ہر وقت یہ خوف رہتا ہے کہ اگر اس سے کوئی غلطی ہوئی تو اسے شدید تنقید، مسترد کیے جانے یا سماجی بے وقعتی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپنی تحقیق میں ڈاکٹر فلیٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’’معاشرتی طور پر مسلط کردہ کمالیت پسندی کا تعلق براہِ راست ناامیدی، ڈپریشن اور یہاں تک کہ خودکشی کے خیالات سے پایا گیا ہے۔‘‘

    امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن (APA) کے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں، ڈاکٹر گورڈن فلیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ ’’کمالیت پسند افراد کامیابی سے لطف اندوز نہیں ہوپاتے، کیونکہ جیسے ہی وہ ایک ہدف حاصل کرتے ہیں، وہ فوراً اگلے، اس سے بھی زیادہ مشکل ہدف کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ وہ کبھی بھی اپنی کامیابی پر مطمئن نہیں ہوتے اور ایک مستقل بے چینی کی حالت میں رہتے ہیں۔‘‘

    کمالیت پسندی کے جسمانی اور ذہنی اثرات

    جب ذہن مسلسل ’’کامل‘‘ ہونے کی جنگ میں مبتلا ہو تو اس کے اثرات صرف نفسیات تک محدود نہیں رہتے بلکہ جسم پر بھی ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

    * دائمی ذہنی دباؤ (Chronic Stress): ہر وقت بہترین کارکردگی دکھانے کا دباؤ جسم میں کورٹیسول (Cortisol) جیسے اسٹریس ہارمونز کی سطح کو بلند رکھتا ہے، جس سے بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    * اضطراب اور ڈپریشن: ناکامی کا خوف اور مسلسل خود تنقیدی اضطراب کی کیفیات کو جنم دیتی ہے اور جب انسان اپنے غیر حقیقی معیار پر پورا نہیں اتر پاتا تو وہ شدید مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔

    * بے خوابی (Insomnia): کمالیت پسند افراد اکثر راتوں کو اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی نیند بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

    * سماجی تنہائی: دوسروں سے غیر حقیقی توقعات اور اپنی ذات میں ہر وقت نقص نکالنے کی عادت انہیں سماجی طور پر الگ تھلگ کر دیتی ہے۔ وہ رشتوں میں بھی کمال تلاش کرتے ہیں جو کہ ناممکن ہے، اور نتیجتاً تنہا رہ جاتے ہیں۔

    اس قید سے رہائی کیسے ممکن ہے؟

    اگر آپ خود میں یا اپنے کسی پیارے میں غیر صحت مند کمالیت پسندی کی علامات پاتے ہیں تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ کوئی ناقابلِ علاج مرض نہیں۔ چند ٹھوس اقدامات اور سوچ میں تبدیلی سے اس کے شکنجے سے آزاد ہوا جا سکتا ہے:

    * حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کریں: اپنے لیے قابلِ حصول اہداف مقرر کریں۔ سمجھیں کہ انسان ہونے کے ناتے غلطیاں اور خامیاں زندگی کا حصہ ہیں۔

    * خود پر رحم کریں (Self-Compassion): ناکامی پر خود کو کوسنے کے بجائے خود سے ہمدردی برتیں۔ اپنی کوشش کو سراہیں۔

    * عمل پر توجہ دیں، نتیجے پر نہیں: اپنی توجہ صرف حتمی نتیجے کے بجائے کام کے عمل سے لطف اندوز ہونے پر مرکوز کریں۔

    * غلطیوں کو سیکھنے کا موقع سمجھیں: ہر غلطی ایک سبق ہے۔ اسے اپنی بے وقعتی کا ثبوت سمجھنے کے بجائے مستقبل میں بہتر ہونے کا ایک ذریعہ سمجھیں۔

    * ماہرانہ مدد حاصل کریں: اگر یہ کیفیت آپ کی روزمرہ زندگی، کام اور رشتوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے تو کسی ماہرِ نفسیات یا کاؤنسلر سے رابطہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ کوگنیٹو بیہیویورل تھراپی (CBT) جیسی تکنیکس اس مرض پر قابو پانے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔

    بلاشبہ، بہتری کی جستجو اور اپنے کام میں نفاست پیدا کرنا ایک مثبت عمل ہے، لیکن جب ’’بہترین‘‘ کی تلاش ’’کامل‘‘ ہونے کے جنون میں بدل جائے اور انسان کی ذہنی سکون اور خوشی کو نگلنے لگے، تو یہ لمحہ فکریہ ہے۔ زندگی نام ہی نامکمل ہونے کا ہے اور اس کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ ہم اپنی خامیوں کو قبول کر کے آگے بڑھیں۔ کامل ہونے کی کوشش میں ایک بے چین اور ناخوش انسان بننے سے کہیں بہتر ہے کہ ایک خوش اور مطمئن ’’نامکمل‘‘ انسان بن کر جیا جائے۔
    نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

    اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  7. Asked: July 29, 2025

    مجھے اعتراض نہیں…بھارت ۔ پاکستان میچ کی حمایت میں سورو گانگولی ، عوام برہم

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 29, 2025 at 3:03 am

    IND vs PAK Asia Cup 2025:ٹیم انڈیا کے سابق کپتان سورو گانگولی نے ایشیا کپ 2025 کی حمایت کی ہے۔ان کے بیان پرملک بھر میں ناراضگی ہے۔ پہلگام دہشت گرد حملے کا زخم ابھی ہرا ہے اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ کھیلنے کے لیے تیار ہوگئی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایشیا کپ میں انڈیا اوRead more

    IND vs PAK Asia Cup 2025:ٹیم انڈیا کے سابق کپتان سورو گانگولی نے ایشیا کپ 2025 کی حمایت کی ہے۔ان کے بیان پرملک بھر میں ناراضگی ہے۔

    پہلگام دہشت گرد حملے کا زخم ابھی ہرا ہے اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ کھیلنے کے لیے تیار ہوگئی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایشیا کپ میں
    انڈیا اورپاکستان کے بیچ 14 ستمبر کومقابلہ ہوگا۔ اس میچ کے حوالے سےسوشل میڈیا پر لوگوں کا غصہ ابل رہا ہے۔

    ادھر ٹیم انڈیا کے سابق کپتان سورو گانگولی کے تازہ بیان نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا ہے۔
    سورو گانگولی کا کہنا ہے کہ انہیں ایشیا کپ پر کوئی اعتراض نہیں ہے، کھیل چلتے رہنا چاہیے۔ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ پہلگام جیسا واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔دہشت گردی نہیں ہونی چاہیے۔دہشت گردی کو روکنا ہوگا۔بھارت نے دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے لیکن کھیل جاری رہنا چاہیے

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  8. Asked: July 29, 2025In: Russia, Ukraine, War

    Russia Ukraine war: اگر پوتن نے 10-12 دن میں نہ مانی بات، ٹرمپ کی ڈیڈ لائن بھارت کے لیے بنی دھمکی، جانئے کیسے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 29, 2025 at 2:06 am

    Russia Ukraine war: اگر پوتن نے 10-12 دن میں نہ مانی بات، ٹرمپ کی ڈیڈ لائن

    Russia Ukraine war: اگر پوتن نے 10-12 دن میں نہ مانی بات، ٹرمپ کی ڈیڈ لائن

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  9. Asked: July 29, 2025In: Russia, Ukraine, War

    Russia Ukraine war: اگر پوتن نے 10-12 دن میں نہ مانی بات، ٹرمپ کی ڈیڈ لائن بھارت کے لیے بنی دھمکی، جانئے کیسے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 29, 2025 at 2:05 am

    Russia Ukraine war: بھارت اگرچہ روس-یوکرین جنگ میں اب تک غیر جانبدار رہا ہے، لیکن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اب اسے اس تنازع میں گھسیٹنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ وہ روس پر عائد پابندیوں کو سخت کرنے کا الٹی میٹم دے رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر بھارت کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ آخر ٹرRead more

    Russia Ukraine war: بھارت اگرچہ روس-یوکرین جنگ میں اب تک غیر جانبدار رہا ہے، لیکن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اب اسے اس تنازع میں گھسیٹنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ وہ روس پر عائد پابندیوں کو سخت کرنے کا الٹی میٹم دے رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر بھارت کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ آخر ٹرمپ کا منصوبہ کیا ہے اور وہ بھارت کو دھمکی کیوں دے رہے ہیں

    اسکاٹ لینڈ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر روس-یوکرین جنگ کے حوالے سے اپنی ڈیڈ لائن دہرا دی ہے۔ انہوں نے روس کو 10 سے 12 دن کی نئی بالواسطہ مہلت دی ہے کہ اگر وہ جنگ ختم نہیں کرتا تو سخت پابندیوں اور ٹیرِف کا سامنا کرے گا۔ یہ بیان انھوں نے اسکاٹ لینڈ میں برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر سے ملاقات کے دوران دیا۔

     ٹرمپ کی دھمکی: کیا ہے منصوبہ؟

    ٹرمپ نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا، کہا: “میں پوتن سے شدید مایوس ہوں۔ میں نے پہلے 50 دن کا وقت دیا تھا، لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ لہذا اب 10–12 دنوں کی نئی مہلت دے رہا ہوں۔ یہ انتظار بے معنی ہو چکا ہے۔”

    یہ بیان روس کیلئے ہی نہیں بلکہ پاکستان، چین اور بھارت جیسے ممالک کے لیے بھی ایک خطرہ ظاہر کرتا ہے جو روس سے توانائی کا تجارت کرتے ہیں۔

    روس کا رد عمل: “یہ مہلت خطرناک کھیل ہے”

    روسی حکام کی جانب سے ابھی تک واضح جواب سامنے نہیں آیا۔ تاہم سابق صدر دمیتری مدویڈیف نے X پر لکھا: “ٹرمپ کا یہ الٹی میٹم خطرناک کھیل ہے اور امریکہ کے ساتھ براہ راست جنگ کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ ہر نیا الٹی میٹم روس کے بجائے امریکہ کے ساتھ تصادم کی جانب قدم ہوتا ہے۔”

    14 جولائی کو، ٹرمپ نے پہلی بار 50 دن کی ڈیڈ لائن دی تھی، تب یہ دھمکی دی گئی کہ اگر صلح نہ ہوئی تو 100 فیصد ثانوی ٹیرِف عائد کیا جائے گا۔ اب اسے کم کر کے 10–12 دن کر دیا گیا ہے، اور ٹرمپ جلد اسے رسمی اعلان تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    اشتہار

    بھارت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

    بھارت اپنی توانائی کی تقریباً 40 فیصد ضروریات روس سے پوری کرتا ہے، اور جنوری–جون 2025 میں ایران سے تقریباً 17.5 لاکھ بیرل روزانہ درآمد کیے گئے، یہ گزشتہ سال سے 1% زیادہ ہے۔ اگر امریکہ بھارت پر 100 فیصد ٹیرِف عائد کر دے تو تیل کی قیمت دوگنی ہو سکتی ہے، جس کے باعث پٹرول-ڈیزل کی قیمتیں 8–12 روپے فی لیٹر تک بڑھ سکتی ہیں۔ اس سے مہنگائی اضافہ ہوگی، بنیادی ضروریات اور نقل و حمل مہنگی ہوں گی، نیز بھارت کی ادویات، ٹیکسٹائل، آئی ٹی سروسز اور آٹو پارٹس جیسی برآمدات میں بڑی رسک ہوگی۔ بھارت کا امریکہ سے $74 بلین کے برآمدات متاثر ہوں گے، جس سے روزگار اور سرمایہ کاری پر براہِ راست اثر پڑے گا۔

      امریکہ-روس توازن: بھارت کی سیاست کا دوراہا

    بھارت اور امریکہ 2030 تک $500 بلین تجارت اور مفت تجارت معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ٹیرِف کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ بھارت کا روس سے دفاع، تیل اور توانائی کے شعبے میں دیرینہ تعلق ہے، اور دباؤ میں آ کر بھارت روس سے دوری اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ بھارت نے دوہری معیارات کی حکمت عملی پر تنقید کی ہے، اور ممکن ہے کہ ٹیرِف کے سبب بھارت BRICS گروپ کی جانب پڑاو کرے یا امریکی جی پی ایس سسٹم سے بھی دوری اختیار کرے

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  10. Asked: July 29, 2025

    ’آہان پانڈے سیارہ کے لیے 100 کروڑ فیس کے مستحق ہیں‘ ، مشہور ہدایت کارنے ایساکیوں کہا؟جانئےپورا معاملہ

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 29, 2025 at 2:03 am

    ’آہان پانڈے سیارہ کے لیے 100 کروڑ فیس کے مستحق ہیں

    ’آہان پانڈے سیارہ کے لیے 100 کروڑ فیس کے مستحق ہیں

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
1 … 61 62 63 64 65 … 161

Sidebar

[the_ad_group id="2732"]

[the_ad id="17089"]

Explore

  • Nuq4 Shop
  • Become a Member

Footer

Get answers to all your questions, big or small, on Nuq4.com. Our database is constantly growing, so you can always find the information you need.

Download Android App

© Copyright 2024, Nuq4.com

Legal

Terms and Conditions
Privacy Policy
Cookie Policy
DMCA Policy
Payment Rules
Refund Policy
Nuq4 Giveaway Terms and Conditions

Contact

Contact Us
Chat on Telegram
We use cookies to ensure that we give you the best experience on our website. If you continue to use this site we will assume that you are happy with it.