Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Please briefly explain why you feel this question should be reported.
Please briefly explain why you feel this answer should be reported.
Please briefly explain why you feel this user should be reported.
ہمارا دماغ ہمیں غریب کیسے بناتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے
آپ انٹرنیٹ پر کسی آن لائن سٹور پر ہیں اور آپ کا کچھ خریدنےکا دل کر رہا ہے۔ اور وہ چیز آپ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کے حساب سے کچھ مہنگی ہے لیکن اس وقت وہ آپ کے لیے دنیا کی سب سے اہم چیز بن چکی ہے۔ اور آپ سوچتے ہیں کہ اگر اس کی قیمت بڑھ گئی اور آپ اسے خریدنے کا موقع گنوا بیٹھے تو کیا ہوگا۔ یا یہ کRead more
آپ انٹرنیٹ پر کسی آن لائن سٹور پر ہیں اور آپ کا کچھ خریدنےکا دل کر رہا ہے۔ اور وہ چیز آپ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کے حساب سے کچھ مہنگی ہے لیکن اس وقت وہ آپ کے لیے دنیا کی سب سے اہم چیز بن چکی ہے۔
اور آپ سوچتے ہیں کہ اگر اس کی قیمت بڑھ گئی اور آپ اسے خریدنے کا موقع گنوا بیٹھے تو کیا ہوگا۔ یا یہ کہ یہ ختم ہو گئی تو کیا ہو گا؟
اس جذباتی کیفیت میں آپ اپنے دماغ میں حساب کتاب لگاتے ہیں اور اسے خریدنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو اپنے بینک کارڈ کے نمبر کا انداراج بھی نہیں کرنا کیونکہ وہ آپ کے کمپیوٹر براؤزر میں پہلے سے ہی محفوظ ہے۔
بس آپ نے بٹن دبانا ہے۔ مگر اس کے کچھ دنوں بعد پچھتاوا شروع ہو جاتا ہے یا اس سے بھی برا یہ کہ آپ قرض میں چلے جاتے ہیں حالیہ برسوں میں بیہویرل اکنامکس اور نیورو اکنامکس کے شعبے میں ہونے والی تحقیق اور مطالعے میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ایسے حالات جن میں ہم غیر معقول فیصلے کرتے ہیں یہ اکثر ہماری مالی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
لیکن اس حوالے سے ہماری سب سے عام مالی غلطیاں کون سی ہیں اور کیسے ہم اپنے ‘دماغ’ کے جھانسے میں آنے سے بچ سکتے ہیں؟
اس کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں کن عادتوں کو اپنا کر اس سے بچ سکتے ہیں۔
کیا آپ ایک ذی شَعُور شخص ہیں؟
فاؤنڈیشن انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریشن آف برازیل میں نیور سائنس اور نیور اکنامکس کے مضامین کی کورڈینٹر پروفیسر ریناتا تاویروس کا کہنا ہے کہ ‘روایتی معاشیات نے طویل عرصے سے انسان کو منطقی، سرد اور معروضی سمجھا ہے اور جو اپنی فلاح و بہبود ، اپنے معاشی فائدے اور اپنے مفاد کو زیادہ سے زیادہ بہتر کرنا چاہے گا۔
40 سال کی عمر کے بعد انسانی دماغ میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں اور اسے صحت مند کیسے رکھا جا سکتا ہے؟
40 سال کی عمر کے بعد سے انسانی دماغ کی ترتیب میں بڑی تبدیلی ہوتی ہے
40 سال کی عمر کے بعد سے انسانی دماغ کی ترتیب میں بڑی تبدیلی ہوتی ہے


See less40 سال کی عمر کے بعد انسانی دماغ میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں اور اسے صحت مند کیسے رکھا جا سکتا ہے؟
جیسے جیسے انسان کی عمر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اس کی جسمانی صلاحیتوں میں بھی کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ خاص طور پر 40 سے 50 سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے اور عمر کے اس حصے میں ہمارے جسم کے مختلف اعضا میں بگاڑ آنا شروع ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اِس عمر میں ہمارے پٹھوں کا حجم کم ہو جاتا ہے، بینائی کمRead more
جیسے جیسے انسان کی عمر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اس کی جسمانی صلاحیتوں میں بھی کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ خاص طور پر 40 سے 50 سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے اور عمر کے اس حصے میں ہمارے جسم کے مختلف اعضا میں بگاڑ آنا شروع ہو جاتا ہے۔
مثال کے طور پر اِس عمر میں ہمارے پٹھوں کا حجم کم ہو جاتا ہے، بینائی کم ہو جاتی ہے اور جوڑوں میں خرابی آنا شروع ہو جاتی ہے۔
لیکن دماغ کے لیے یہ عمل تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔
بگاڑ کے بجائے کہا جا سکتا ہے کہ عمر کے اس حصے میں ہمارے دماغ کے اندر کی ’وائرنگ‘ دوبارہ ہوتی ہے یہ کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی سے منسلک محققین کی ایک ٹیم کا جنھوں نے انسانی جسم اور دماغ پر بڑھتی ہوئی عمر کے باعث پڑنے والے اثرات ہر ہونے والے 150 مطالعات کا جائزہ لیا ہے۔
موناش یونیورسٹی کی نیوروسائنٹسٹ شرنا جمادار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگرچہ دماغ انسانی جسم کا صرف 2 فیصد ہے، لیکن یہ ہمارے جسم میں داخل ہونے والی گلوکوز کا 20 فیصد حصہ اپنے اندر جذب کرتا ہے۔ لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ گلوکوز کو جذب کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔‘
وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’دماغ اپنے نظام کی ایک طرح سے ری-انجینیئرنگ کرتا ہے تاکہ جن اجزا کو وہ جذب کر رہا ہے اس کا بہترین استعمال ہو۔‘
سائنسدانوں کے مطابق یہ عمل انقلابی ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں آنے والے سالوں میں نیورانز کا نظام جسم کے ساتھ مزید ہم اہنگ ہوتا ہے جس سے ذہنی سرگرمیوں پر اثر پڑتا ہے
ورزش کرنے کے لیے دن کا بہترین وقت کون سا ہے؟
ہماری جسمانی کارکردگی اور جسم ورزش کا اثر کیسے لیتے ہیں اس کا دارومدار ہماری سرکیڈین تالوں سے ہے
ہماری جسمانی کارکردگی اور جسم ورزش کا اثر کیسے لیتے ہیں اس کا دارومدار ہماری سرکیڈین تالوں سے ہے


See lessورزش کرنے کے لیے دن کا بہترین وقت کون سا ہے؟
اس بات کے بڑھتے ہوئے ثبوت مل رہے ہیں کہ دن کے جس وقت ہم ورزش کرتے ہیں اس سے ہماری کارکردگی اور صحت پر فرق پڑتا ہے، لیکن کیا ہم اپنے جسم کو دن کے مختلف اوقات میں بہترین نتائج کے لیے تربیت دے سکتے ہیں؟ چند ہی مہینوں میں، دنیا کے چوٹی کے کھلاڑی پیرس میں جمع ہوں گے تاکہ دنیائے کھیل کے سب سے بڑے انعام کےRead more
اس بات کے بڑھتے ہوئے ثبوت مل رہے ہیں کہ دن کے جس وقت ہم ورزش کرتے ہیں اس سے ہماری کارکردگی اور صحت پر فرق پڑتا ہے، لیکن کیا ہم اپنے جسم کو دن کے مختلف اوقات میں بہترین نتائج کے لیے تربیت دے سکتے ہیں؟
چند ہی مہینوں میں، دنیا کے چوٹی کے کھلاڑی پیرس میں جمع ہوں گے تاکہ دنیائے کھیل کے سب سے بڑے انعام کے لیے مقابلہ کر سکیں، یعنی اولمپک گولڈ میڈلز۔ ان لوگوں کے لیے جو ریکارڈ توڑ کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں، وہ شاید اپنی ورزش اور مقابلے کے اوقات پرغور کرنا چاہییں گے۔
ایک سائنسی تحقیق کے مطابق کم از کم تیراکوں کے لیے ایسا کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ایتھنز (2004)، بیجنگ (2008)، لندن (2012) اور ریو (2016) میں ہونے والے چار اولمپک کھیلوں میں، 144 تمغے جیتنے والے تیراکوں کے تیراکی کے اوقات کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ اُن میں سے شام کے اوائل میں مقابلہ کرنے والے سب سے تیز پائے گئے۔ خاص طور پر وہ جنھوں نے شام 5:12 بجے کے قریب مقابلوں میں حصہ لیا۔ اس بات کے بڑھتے ہوئے شواہد مل رہے ہیں کہ جسمانی کارکردگی دن کے وقت سے متاثر ہوتی ہے۔
اور یہ صرف اولمپینز میں نہیں پایا جاتا ہے – تفریحی سائیکل سوار بھی شام کے وقت ہی سب سے تیز ٹائم ٹرائل مکمل کرتے ہیں۔پٹھوں کی طاقت کو بڑھانے والی ورزشوں کے نتائج پرخصوصی طور پر اثر پڑتا ہے کہ وہ دن کے کس وقت کی جاتی ہیں۔ ان ورزشوں کے لیے موزوں ترین وقت تقریباً شام چار بجے سے رات آٹھ بجے کے درمیان ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ورزش کرنے کے اوقاتِ کار مردوں اور عورتوں کو مختلف انداز سے متاثر کرتے ہیں۔
تمباکو نوشی پر پابندی: ملک کیسے تبدیل ہوا؟
تمباکو نوشی کرنے والوں میں کمی
تمباکو نوشی کرنے والوں میں کمی



See lessتمباکو نوشی پر پابندی: ملک کیسے تبدیل ہوا؟
انگلینڈ میں کام کرنے کی بند جگہوں جیسے عمارتیں اور دفاتر میں تمباکو نوشی پر لگائی جانے والی پابندی کو دس برس ہوگئے ہیں۔ ’پب سموکنگ بین‘ کے نام سے مشہور اس پابندی نے ملک کو کیسے تبدیل کیا ہے؟ کیا آپ کو وہ وقت یاد ہے جب پب یعنی شراب خانوں میں ہر وقت سگریٹ کا دھواں بھرا ہوتا تھا؟ یا جب ریسٹورنٹ میں کھاRead more
انگلینڈ میں کام کرنے کی بند جگہوں جیسے عمارتیں اور دفاتر میں تمباکو نوشی پر لگائی جانے والی پابندی کو دس برس ہوگئے ہیں۔ ’پب سموکنگ بین‘ کے نام سے مشہور اس پابندی نے ملک کو کیسے تبدیل کیا ہے؟
کیا آپ کو وہ وقت یاد ہے جب پب یعنی شراب خانوں میں ہر وقت سگریٹ کا دھواں بھرا ہوتا تھا؟ یا جب ریسٹورنٹ میں کھانے کے بعد لوگ سگریٹ جلا لیا کرتے تھے؟ اور لوگوں کو سگریٹ پینے کے لیے باہر نہیں جانا پڑتا تھا۔
تمباکونوشی کے متعلق ہمارے رویوں میں بنیادی تبدیلی لانے والا یہ قانون اب دس برس پرانا ہوچکا ہے۔ انگلینڈ میں یہ قانون جولائی 2007 میں متعارف کرایا گیا جبکہ سکاٹ لینڈ اور ویلز میں یہ قانون اس سے 18 ماہ قبل ہی نافذ ہوچکا تھا۔
اس کے حامیوں کا موقف تھا کہ تمباکو نوشی کرنے والے لوگ دیگر لوگوں کی صحت کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔ مخالفین کا موقف تھا کہ یہ خطرہ اتنا بڑا نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے عمارتوں میں مکمل طور پر تمباکو نوشی پر پابندی عائد کر دی جائے۔
لوگوں نے اسے قبول کر لیا
جب یہ قانون نافذ کیا گیا تو اس وقت اسے متنازع سمھجا جا رہا تھا۔ لیکن اس کے نافذ ہونے کے بعد عوام کی جانب سے اسے قبول کر لیا گیا۔ اس قانون پر عملدرآمد کروانے کی ذمہ داری مقامی حکومتوں کی تھی
انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن: دنیا میں سب سے زیادہ اور سب سے کم سگریٹ نوشی کہاں ہوتی ہے؟
ایک سال کے دوران سگریٹ پینے والے فرانسیسی باشندوں کی تعداد میں 10 لاکھ کی کمی ہوئی
ایک سال کے دوران سگریٹ پینے والے فرانسیسی باشندوں کی تعداد میں 10 لاکھ کی کمی ہوئی










See lessانسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن: دنیا میں سب سے زیادہ اور سب سے کم سگریٹ نوشی کہاں ہوتی ہے؟
فرانس میں صحت کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں روزانہ کی بنیاد پر لوگ سگریٹ پینا چھوڑ رہے ہیں۔ گذشتہ ایک برس کے دوران سگریٹ پینے والوں کی تعداد کم وپیشں میں دس لاکھ کی کمی آئی ہے۔ لیکن گذشتہ برس سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں کی مجموعی تعداد اس کے انسداد کیRead more
فرانس میں صحت کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں روزانہ کی بنیاد پر لوگ سگریٹ پینا چھوڑ رہے ہیں۔ گذشتہ ایک برس کے دوران سگریٹ پینے والوں کی تعداد کم وپیشں میں دس لاکھ کی کمی آئی ہے۔
لیکن گذشتہ برس سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں کی مجموعی تعداد اس کے انسداد کی پالیسیوں کے باوجود بڑھی ہے۔
انسداد تمباکو کے عالمی دن کے موقع پر ہم نے ان ممالک کی فہرست مرتب کی ہے جہاں سب سے زیادہ اور سب سے کم سگریٹ پی جاتی ہے
حرالکاہل کے جزائر میں شامل اس جزیرے کی کل آبادی فقط ایک لاکھ تیس ہزار افراد پر مشتمل ہے۔
انھیں سگریٹ باآسانی دستیاب ہے کیونکہ وہاں اس پر بہت کم ٹیکس لاگو ہے
’بینائی بچانی ہے تو سگریٹ نوشی سے جان چھڑانی ہو گی‘
ماہرین صحت نے تنبیہ کی ہے کہ ایسے لاکھوں افراد جو تمباکو نوشی کی علت میں مبتلا ہیں وہ اپنی بینائی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔
ماہرین صحت نے تنبیہ کی ہے کہ ایسے لاکھوں افراد جو تمباکو نوشی کی علت میں مبتلا ہیں وہ اپنی بینائی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔

See less