Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Please briefly explain why you feel this question should be reported.
Please briefly explain why you feel this answer should be reported.
Please briefly explain why you feel this user should be reported.
یو اے ای نے فلسطینیوں کیلئے صاف پانی کی فراہمی کا بڑا قدم اٹھا لیا
یہ پانی غزہ اور مصر کی سرحد پر واقع رفح کے قریب قائم اماراتی ڈیسالینیشن پلانٹس سے سپلائی کیا جائے گا
یہ پانی غزہ اور مصر کی سرحد پر واقع رفح کے قریب قائم اماراتی ڈیسالینیشن پلانٹس سے سپلائی کیا جائے گا
See lessیو اے ای نے فلسطینیوں کیلئے صاف پانی کی فراہمی کا بڑا قدم اٹھا لیا
متحدہ عرب امارات نے غزہ میں محصور فلسطینیوں کو روزانہ 20 لاکھ گیلن پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کا مستقل انتظام کر دیا ہے۔ یہ پانی غزہ اور مصر کی سرحد پر واقع رفح کے قریب قائم اماراتی ڈیسالینیشن پلانٹس سے سپلائی کیا جائے گا۔ اماراتی حکام کے مطابق 6.7 کلومیٹر طویل نئی پائپ لائن کے ذریعے یہ پانی رفح سےRead more
متحدہ عرب امارات نے غزہ میں محصور فلسطینیوں کو روزانہ 20 لاکھ گیلن پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کا مستقل انتظام کر دیا ہے۔
یہ پانی غزہ اور مصر کی سرحد پر واقع رفح کے قریب قائم اماراتی ڈیسالینیشن پلانٹس سے سپلائی کیا جائے گا۔ اماراتی حکام کے مطابق 6.7 کلومیٹر طویل نئی پائپ لائن کے ذریعے یہ پانی رفح سے خان یونس تک پہنچایا جا رہا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے 85 فیصد سے زائد پانی کی لائنیں تباہ ہو چکی ہیں، جس کے بعد لاکھوں فلسطینی پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔
امارات کی جانب سے نئی پائپ لائنز بچھا کر پانی کی فراہمی دوبارہ بحال کی جا رہی ہے، جو متاثرہ آبادی کے لیے زندگی کی امید بن چکی ہے۔
یہ تمام اقدامات “آپریشن الفارس الشہم 3” کے تحت کیے جا رہے ہیں، جو یو اے ای کی غزہ کے لیے انسانی ہمدردی پر مبنی امدادی مہم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی امداد کے لیے “طیور الخیر” سروس بھی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
See lessتیراکی سیکھئے، ایسے فوائد جو بہت کم لوگ جانتے ہیں
روزانہ صرف 30 منٹ تیراکی کرنے سے بے خوابی اور بے چینی کی نیند میں کمی آتی ہے
روزانہ صرف 30 منٹ تیراکی کرنے سے بے خوابی اور بے چینی کی نیند میں کمی آتی ہے
تیراکی سیکھئے، ایسے فوائد جو بہت کم لوگ جانتے ہیں
تیراکی صرف ایک مشغلہ یا کھیل نہیں بلکہ ایک مکمل جسمانی، ذہنی اور جذباتی ورزش ہے۔ زیادہ تر لوگ اس کے ظاہری فوائد جیسے وزن کم کرنا یا جسم کو فِٹ رکھنا جانتے ہیں مگر تیراکی کے کچھ ایسے فائدے بھی ہیں جو بہت کم لوگوں کو معلوم ہوتے ہیں۔ آئیے ان پر نظر ڈالتے ہیں: تیراکی دورانِ خون کو بہتر بناتی ہے جس سے دمRead more
تیراکی صرف ایک مشغلہ یا کھیل نہیں بلکہ ایک مکمل جسمانی، ذہنی اور جذباتی ورزش ہے۔
زیادہ تر لوگ اس کے ظاہری فوائد جیسے وزن کم کرنا یا جسم کو فِٹ رکھنا جانتے ہیں مگر تیراکی کے کچھ ایسے فائدے بھی ہیں جو بہت کم لوگوں کو معلوم ہوتے ہیں۔ آئیے ان پر نظر ڈالتے ہیں:
تیراکی دورانِ خون کو بہتر بناتی ہے جس سے دماغ کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے۔ یہ دماغ میں نئے خلیات بننے کو فروغ دیتی ہے، خاص طور پر ہِپوکیمپس میں جو یادداشت اور سیکھنے سے متعلق ہے۔ یہ تناؤ، اضطراب اور ڈپریشن میں نمایاں کمی لاتی ہے خاص طور پر جب آپ پانی میں “فلو موشن” میں ہوتے ہیں۔
روزانہ صرف 30 منٹ تیراکی کرنے سے بے خوابی اور بے چینی کی نیند میں کمی آتی ہے۔ پانی کا تھراپیوٹک اثر جسم و ذہن کو سکون دیتا ہے، جس سے نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔
تیراکی دورانِ خون، دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھتی ہے۔ دل کی دھڑکن کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ یہ آرتھروسکلروسیس (شریانوں کا تنگ ہونا) کو کم کرتی ہے۔
تیراکی “low-impact” ورزش ہے، مطلب یہ ہے کہ جوڑوں پر دباؤ نہیں پڑتا۔ آرتھرائٹس، ریڑھ کی ہڈی کے مسائل یا موٹاپے کے مریض بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
تیراکی کے دوران سانس لینے کا کنٹرول سیکھا جاتا ہے، جو lung capacity بڑھاتا ہے۔ دمہ کے مریضوں کے لیے خاص طور پر فائدہ مند، بشرطیکہ کلورین فری یا صاف پانی استعمال ہو۔
بچوں کی جسمانی نشوونما، قد بڑھانے اور توانائی کے اخراج میں مدد دیتی ہے۔ بزرگ افراد کے لیے توازن بہتر بناتی ہے، گرنے کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
پانی میں ایک مخصوص “ریدم” اور سکون ہوتا ہے، جو مائنڈفلنیس جیسا اثر پیدا کرتا ہے۔ تنہائی میں تیراکی کرتے ہوئے ذہن صاف ہوتا ہے، تخلیقی صلاحیت بڑھتی ہے۔
تیراکی انسولین کے ردعمل کو بہتر بناتی ہے، جو شوگر کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔
تیراکی سے پورے جسم کی حرکت ہوتی ہے، جس سے systemic inflammation کم ہوتی ہے۔ یہ ہارٹ، جگر اور دیگر اندرونی اعضاء کے لیے مفید ہے۔
اگرچہ تیراکی وزن بردار ورزش نہیں، مگر یہ ہڈیوں کے گرد عضلات کو مضبوط بناتی ہے، خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کے لیے۔
See lessزمین پر زندگی کی شروعات کیسے ہوئی، جواب مریخ پر مخفی
ابتدائی نظامِ شمسی میں مریخ نسبتاً زیادہ مستحکم اور ٹھنڈا تھ
ابتدائی نظامِ شمسی میں مریخ نسبتاً زیادہ مستحکم اور ٹھنڈا تھ
زمین پر زندگی کی شروعات کیسے ہوئی، جواب مریخ پر مخفی
یہ ایک دلچسپ اور سائنسی طور پر سنجیدہ خیال ہے کہ زمین پر زندگی کی شروعات کا راز مریخ پر چھپا ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ اب تک مکمل طور پر ثابت نہیں ہوا، مگر مختلف سائنسی مشاہدات، تجربات اور نظریات اس خیال کو تقویت دیتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق، زمین پر زندگی تقریباً 3.5 سے 4 ارب سال پہلے شروع ہوئی، جب زمیRead more
یہ ایک دلچسپ اور سائنسی طور پر سنجیدہ خیال ہے کہ زمین پر زندگی کی شروعات کا راز مریخ پر چھپا ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ اب تک مکمل طور پر ثابت نہیں ہوا، مگر مختلف سائنسی مشاہدات، تجربات اور نظریات اس خیال کو تقویت دیتے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق، زمین پر زندگی تقریباً 3.5 سے 4 ارب سال پہلے شروع ہوئی، جب زمین پر ماحول انتہائی گرم، آتش فشانی اور کیمیکل سے بھرپور تھا۔
زمین پر کیمیکل (میتھین، امونیا، پانی، ہائیڈروجن) کے امتزاج سے زندگی کی بنیادی اکائیاں (amino acids) بنیں۔ گہرے سمندری وینٹس سے نکلنے والی توانائی اور معدنیات نے زندگی کی ابتدا میں کردار ادا کیا اور زندگی کے خلیات زمین پر کسی بیرونی ذریعے سے آئے، جیسے شہاب ثاقب یا دم دار ستارے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ابتدائی نظامِ شمسی میں مریخ نسبتاً زیادہ مستحکم اور ٹھنڈا تھا۔ مریخ پر پانی، آتش فشاں، اور مناسب کیمیکل موجود تھے جو زندگی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔ زمین پر ایسے شہاب ثاقب ملے ہیں جن کے کیمیائی اجزا مریخ جیسے ہیں (مثلاً ALH84001)۔
ان میں زندگی جیسے امائنو ایسڈز اور magnetite crystals پائے گئے ہیں۔ اسی طرح آر این اے کو وجود دینے والے کیمیکل بھی مریخ پر زیادہ تھے۔ ایک تحقیق کے مطابق، RNA کے لیے ضروری بوریٹس اور مولیبیڈنم مریخ پر زمین سے زیادہ تھے۔
ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی کے مشاہدات کے مطابق مریخ پر تقریباً 4.3 ارب سال پہلے تک پانی موجود تھا جب کہ زمین اس وقت آتش فشاں کی لپیٹ میں تھی۔
See lessکیا آپ جانتے ہیں پرانے ٹی وی میں رنگ برنگی لکیریں کیوں آتی تھیں؟
سی آر ٹی ٹی وی میں ایک مقناطیسی فیلڈ الیکٹران بیم کو اسکرین پر پھیلانے کے لیے استعمال ہوتی تھی
سی آر ٹی ٹی وی میں ایک مقناطیسی فیلڈ الیکٹران بیم کو اسکرین پر پھیلانے کے لیے استعمال ہوتی تھی
کیا آپ جانتے ہیں پرانے ٹی وی میں رنگ برنگی لکیریں کیوں آتی تھیں؟
پرانے ٹی وی سیٹس (خاص طور پر سی آر ٹی والے ٹی وی میں جو رنگ برنگی لکیریں آتی تھیں، یہ تو سب جانتے ہیں کہ ان کے پیچھے الیکٹرانک اور سگنلنگ کی خرابی ہوتی تھی۔ لیکن رنگین لکیریں ہی کیوں آتی تھیں؟ اس سے بہت کم لوگ واقف ہونگے۔ یہ مسئلہ آج کل کے ایل ای ڈی یا اسمارٹ ٹی وی میں نہیں آتا، لیکن سی آر ٹی کےRead more
پرانے ٹی وی سیٹس (خاص طور پر سی آر ٹی والے ٹی وی میں جو رنگ برنگی لکیریں آتی تھیں، یہ تو سب جانتے ہیں کہ ان کے پیچھے الیکٹرانک اور سگنلنگ کی خرابی ہوتی تھی۔ لیکن رنگین لکیریں ہی کیوں آتی تھیں؟ اس سے بہت کم لوگ واقف ہونگے۔
یہ مسئلہ آج کل کے ایل ای ڈی یا اسمارٹ ٹی وی میں نہیں آتا، لیکن سی آر ٹی کے زمانے میں عام تھا۔
پرانے ٹی وی پر رنگین لکیروں کی بڑی وجوہات:
جب سگنل کمزور یا خراب ہوتے تھے تو تصویر ٹوٹ جاتی تھی اور رنگ برنگی لکیریں بن جاتی تھیں۔ یہ اکثر “static” یا “noise” کی شکل میں ہوتا تھا۔
دراصل سی آر ٹی ٹی وی میں ایک مقناطیسی فیلڈ الیکٹران بیم کو اسکرین پر پھیلانے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اگر ٹی وی کے آس پاس کوئی مقناطیسی چیز آ جاتی تو رنگ بگڑ جاتے، خاص طور پر جامنی، سبز یا نیلے رنگ بننے لگتے۔
اس کے لیے ٹی وی میں ڈیگاسنگ کوائل ہوتا تھا جو آن ہوتے ہی مسئلہ ٹھیک کرتا ورنہ رنگین داغ یا لکیریں موجود ہوتیں۔ اور یہ لکیریں اندرونی سرکٹ یا “electron gun” کے کمزور ہونے کی صورت میں اسکرین پر افقی یا عمودی شکل میں ظاہر ہوتیں۔
بعض اوقات یہ لکیریں صرف ایک ہی رنگ کی ہوتی تھیں، جیسے سفید یا سبز لکیر۔ چینل یا سگنل ٹیوننگ ٹھیک نہ ہونے کی صورت میں مکس سگنلز آتے، جن سے اسکرین پر رنگین لہریں بنتیں۔
See lessچیٹ جی پی ٹی سے دل کی باتیں کرنے والے ہوجائیں ہوشیار!
چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ گفتگو کسی تھراپسٹ، وکیل یا ڈاکٹر کے ساتھ ہونیوالی گفتگو کی طرح قانونی تحفظ نہیں رکھتی: سی ای او
چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ گفتگو کسی تھراپسٹ، وکیل یا ڈاکٹر کے ساتھ ہونیوالی گفتگو کی طرح قانونی تحفظ نہیں رکھتی: سی ای او
See lessچیٹ جی پی ٹی سے دل کی باتیں کرنے والے ہوجائیں ہوشیار!
ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمن نے خبردار کیا ہے کہ وہ افراد جو چیٹ جی پی ٹی کو ڈیجیٹل ڈائری یا تھراپسٹ سمجھتے ہیں وہ یہ سمجھنا چھوڑ دیں کہ ان کے ظاہر کیے گئے راز محفوظ ہیں۔ ایک انٹرویو میں سیم آلٹمن نےخبردار کیا کہ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ گفتگو بالکل ویسی ہی قانونی تحفظ نہیں رکھتیRead more
ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمن نے خبردار کیا ہے کہ وہ افراد جو چیٹ جی پی ٹی کو ڈیجیٹل ڈائری یا تھراپسٹ سمجھتے ہیں وہ یہ سمجھنا چھوڑ دیں کہ ان کے ظاہر کیے گئے راز محفوظ ہیں۔
ایک انٹرویو میں سیم آلٹمن نےخبردار کیا کہ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ گفتگو بالکل ویسی ہی قانونی تحفظ نہیں رکھتی جیسی کسی تھراپسٹ، وکیل یا ڈاکٹر کے ساتھ رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ چیٹ جی پی ٹی کو اپنی زندگی کے انتہائی نجی معاملات بتاتے ہیں۔ کمپنی ابھی تک اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکال سکی ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کی جانب سے معلومات صیغہ راز میں رکھنے کے مسئلے پر کڑی نظریں ہیں جس کا سہرا نیو یارک ٹائمز کے اوپن اے آئی کے خلاف جاری کاپی رائٹ مقدمے میں عدالت کے آرڈر کے سر بندھتا ہے۔
عدالت نے کمپنی کو حکم دیا ہے کہ وہ تمام صارفین کے چیٹ لاگز (بشمول ڈیلیٹ کیے گئے) غیر معینہ مدت تک کے لیے محفوظ کرے۔
اس عدالتی حکم کا اطلاق چیٹ جی پیٹی فری، پلس، پرو اور ٹیمز صارفین کے ساتھ ’ٹیمپورری چیٹ‘ موڈ استعمال کرنے والے صارفین پر بھی ہوتا ہے جس میں عموماً 30 دن بعد گفتگو تلف کردی جاتی ہے۔ وہ تمام چیٹس اپ ممکنہ قانونی جائزوں کے لیے علیحدہ محفوظ کی جائیں گی۔
See less