Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Please briefly explain why you feel this question should be reported.
Please briefly explain why you feel this answer should be reported.
Please briefly explain why you feel this user should be reported.
’بینائی بچانی ہے تو سگریٹ نوشی سے جان چھڑانی ہو گی‘
اگرچہ تمباکو نوشی کا بینائی پر اثر ہونا ایک معلوم حقیقت ہے تاہم ایسوسی ایشن آف آپٹومیٹرسٹس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق ہر پانچ تمباکو نوش افراد میں سے صرف فرد اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی اندھے پن کا بھی باعث بن سکتی ہے۔ برطانیہ کے رائل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلائنڈ پیپل (آر این آئی بی) کا کہنا ہےRead more
اگرچہ تمباکو نوشی کا بینائی پر اثر ہونا ایک معلوم حقیقت ہے تاہم ایسوسی ایشن آف آپٹومیٹرسٹس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق ہر پانچ تمباکو نوش افراد میں سے صرف فرد اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی اندھے پن کا بھی باعث بن سکتی ہے۔
برطانیہ کے رائل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلائنڈ پیپل (آر این آئی بی) کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں بینائی کھو دینے کی شرح ایسے نہ کرنے والے افراد کی نسبت دگنی ہوتی ہے۔
How to protect eyes?
Protecting your eyes—especially from digital strain—is essential for long‑term vision and comfort. Here are evidence-backed tips drawn from health authorities and real-world advice: 🖥️ Prevent Digital Eye Strain (Computer Vision Syndrome) Follow the 20‑20‑20 rule: Every 20 minutes, look at somethingRead more
Protecting your eyes—especially from digital strain—is essential for long‑term vision and comfort. Here are evidence-backed tips drawn from health authorities and real-world advice:
🖥️ Prevent Digital Eye Strain (Computer Vision Syndrome)
💡 Take Breaks & Practice Eye Exercises
🥗 Nourish Your Eyes from Within
👀 Get Professional Eye Care
🔄 Community Insights & Simple Reminders
Some users share practical strategies such as:
✅ Quick Eye Care Checklist
By adopting these habits—especially if you spend hours on screens—you’ll help prevent discomfort, support long-term vision health, and reduce the risk of strain-related vision problems. If symptoms persist, consult an eye-care professional for evaluation and personalized advice.
See lessWhy do we need glasses?
We need glasses because many of us have imperfections in how our eyes bend and focus light—scientifically known as refractive errors. Here’s a clear breakdown: 🌈 What causes the need for glasses? 1. Refractive errors — the core reasons glasses are needed: Myopia (nearsightedness): When the eyeball iRead more
We need glasses because many of us have imperfections in how our eyes bend and focus light—scientifically known as refractive errors. Here’s a clear breakdown:
🌈 What causes the need for glasses?
1. Refractive errors — the core reasons glasses are needed:
👀 What symptoms signal you might need glasses?
If you’re exhibiting any of these signs, consider visiting an eye care professional:
🛠 Why use glasses (and not always contacts or surgery)?
🧠 Extra note
While glasses help with the most common vision problems, they cannot cure eye diseases like cataracts, glaucoma, or macular degeneration—those require specific medical interventions (Wikipedia, Wikipedia, health.com). However, correcting refractive error even in older adults may improve mental well‑being—some studies suggest poorer vision could be linked to increased dementia risk if left uncorrected (thesun.ie).
✅ Summary
Need help choosing frames or understanding lens types like bifocals, transition, or blue‑light filters?
See lessآنکھوں کا یوگا: کیا ورزش بینائی کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے؟
تو آنکھوں کا یوگا کیا ہے؟ اور کیا آپ کی آنکھوں کی ورزش واقعی عینک پہننے کی ضرورت کو کم سے کم کرسکتی ہے؟




تو آنکھوں کا یوگا کیا ہے؟ اور کیا آپ کی آنکھوں کی ورزش واقعی عینک پہننے کی ضرورت کو کم سے کم کرسکتی ہے؟
See lessآنکھوں کا یوگا: کیا ورزش بینائی کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے؟
کیا آپ نظر کی کمزوری کے باعث چشمہ لگاتے ہیں لیکن چشمے کے بوجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خواہش آپ کے دل میں بھی بار بار ہوتی ہے۔ موسیقار پال میک کارٹنی نے حال ہی میں ٹائمز میگزین کو بتایا کہ وہ عینک سے چھٹکارا پانے اور بینائی کی مزید کمزوری سے بچنے کے لیے آنکھوں کے یوگا (ورزش) کی مشق کرتے ہیں۔ اس انٹروRead more
کیا آپ نظر کی کمزوری کے باعث چشمہ لگاتے ہیں لیکن چشمے کے بوجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خواہش آپ کے دل میں بھی بار بار ہوتی ہے۔
موسیقار پال میک کارٹنی نے حال ہی میں ٹائمز میگزین کو بتایا کہ وہ عینک سے چھٹکارا پانے اور بینائی کی مزید کمزوری سے بچنے کے لیے آنکھوں کے یوگا (ورزش) کی مشق کرتے ہیں۔
اس انٹرویو میں دی بیٹلز کے سابق رکن پال میک نے انکشاف کیا کہ انھوں نے چند سال انڈیا میں آنکھوں کی خاص مشقوں کے بارے میں سیکھا تھا اور تب سے وہ ان پر عمل کرتے ہیں۔
گلوکار کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے پٹھوں کی ورزش کر کے عینک پہننے کی ضرورت کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ میک کارٹنی نے یوٹیوب پر آنکھوں کے یوگا سے متعلق کچھ عملی مشقوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
آپ کی صحت، خطرناک بیماریوں کے امکان میں کمی اور روزانہ صرف 7000 قدم چلنے کا سوال!
ایک نئی تحقیق میں یہ کہا گیا ہے
ایک نئی تحقیق میں یہ کہا گیا ہے
آپ کی صحت، خطرناک بیماریوں کے امکان میں کمی اور روزانہ صرف 7000 قدم چلنے کا سوال!
یک نئی تحقیق میں یہ کہا گیا ہے کہ روزانہ 7000 قدم چلنا آپ کے دماغ کو طاقت دینے اور آپ کو مختلف قسم کی بیماریوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ شاید عملی طور پر روزانہ 10 ہزار قدم کے ٹارگٹ کی نسبت زیادہ آسان ہے جسے ایک معیار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ تحقیق لانسٹ پبلک ہیلتھ کی جانب سے شائع ہوئیRead more
یک نئی تحقیق میں یہ کہا گیا ہے کہ روزانہ 7000 قدم چلنا آپ کے دماغ کو طاقت دینے اور آپ کو مختلف قسم کی بیماریوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
یہ شاید عملی طور پر روزانہ 10 ہزار قدم کے ٹارگٹ کی نسبت زیادہ آسان ہے جسے ایک معیار کے طور پر جانا جاتا ہے۔
یہ تحقیق لانسٹ پبلک ہیلتھ کی جانب سے شائع ہوئی ہے۔ یہ تعداد صحت کے خطرناک مسائل بشمول کینسر، ڈمینشیا اور دل کے امراض کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج زیادہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی صحت کی بہتری کے لیے عملی طور پر یہ ریکارڈ رکھیں کہ وہ روزانہ کتنے قدم چلتے ہیں۔ ڈاکٹر میلوڈی ڈنگ کہتی ہیں کہ ہمارا خیال یہ ہوتا ہے کہ ہمیں 10 ہزار قدم اٹھانے چاہییں لیکن یہ کسی ثبوت پر مبنی سوچ نہیں ہے۔
ایک ساتھ تین طلاق پر تین سال جیل؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images ،تصویر کا کیپشنیہ بل فی الحال پارلیمان کے ایوان بالا میں اٹکا ہوا ہے انڈیا میں مسلمان عورتوں کے مسائل اب بس ختم ہونے کو ہیں۔ حکومت ایک نیا سخت قانون وضع کرنا چاہتی ہے جس کے بعد ایک ہی نشست میں تین طلاق کہہ کر فوراً شادی ختم کرنے والے مسلمان شوہر تین سال کے لیے جیل جا سکتےRead more
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنیہ بل فی الحال پارلیمان کے ایوان بالا میں اٹکا ہوا ہے
انڈیا میں مسلمان عورتوں کے مسائل اب بس ختم ہونے کو ہیں۔ حکومت ایک نیا سخت قانون وضع کرنا چاہتی ہے جس کے بعد ایک ہی نشست میں تین طلاق کہہ کر فوراً شادی ختم کرنے والے مسلمان شوہر تین سال کے لیے جیل جا سکتے ہیں۔
یا بس یوں سمجھ لیجیے کہ ایک مرتبہ طلاق کہنے کے عوض ایک سال کی جیل! بس مسئلہ یہ ہے کہ اب انڈیا میں تین بار طلاق کہہ دینے سے طلاق نہیں ہوتی کیونکہ طلاق بدت یا فوری طلاق کو سپریم کورٹ پہلے ہی غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون منظور ہو جانے کے بعد آپ تین بار طلاق کہتے ہیں تو طلاق بھی نہیں ہوگی اور جیل بھی جانا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ’طلاق شدہ خاتون‘ کو گزر بسر کے لیے خرچ بھی دینا ہوگا اور شوہر پر جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔
اور اس دوران آپ کی بیوی آپ کی بیوی ہی رہے گی! اور بیوی بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی آپ کی ہی ہوگی۔ بس فرق یہ ہوگا کہ جو کام آپ پہلے گھر میں رہ کر آرام سے کرتے تھے یا کر سکتے تھے، اب جیل میں رہ کر کرنا ہوگا۔
بی جے پی کی حکومت کے اس نئے مجوزہ قانون پر سب سے زیادہ تنقید اسی وجہ سے ہو رہی ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب طلاق ہوئی ہی نہیں تو سزا کس بات کی؟
اور اگر شوہر کو جیل بھیج دیا جائے گا تو وہ گزر بسر کے لیے پیسے کہاں سے دے گا؟ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ جیل شوہر جائے گا اور سزا بیوی بچوں کو ملے گی کیونکہ متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت کم مسلمان گھرانوں کی عورتیں ہی باہر نکل کر کام کرتی ہیں۔
یہ بل فی الحال پارلیمان کے ایوان بالا میں اٹکا ہوا ہے جہاں کانگریس پارٹی نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اگر حکومت طلاق شدہ عورتوں کے گزر بسر کی ذمہ داری سنبھالنے کا وعدہ کرے تو وہ مجوزہ قانون کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی اقلیت میں ہے اور وہ حزب اختلاف کی حمایت کے بغیر قانون منظور نہیں کروا سکتی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنبی جے پی کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کو ان کے حقوق دلانا چاہتی ہے
بی جے پی کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کو ان کے حقوق دلانا چاہتی ہے، لیکن جیسا بہت سے تجزیہ نگاروں نے لکھا ہے کہ ان کے مسائل اور بھی ہیں اور ملک میں فی الحال ماحول کچھ ایسا ہے کہ بہت سے مسلمان خود کو محصور محسوس کر رہے ہیں، اور ایسے میں اس قانون کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔
مجوزہ قانون کے پیچھے صرف سیاست ہے یا مسلمان عورتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی سنجیدہ کوشش، اس سوال پر تو بحث جاری رہے گی۔ کوئی ایسا قابل اعتبار سروے تو موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ طلاق ثلاثہ پر مسلمانوں کی مجموعی رائے کیا ہے، اور عورتوں اور مردوں کے نظریہ میں کیا اور کتنا فرق ہے۔
لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا تھا کہ وہ خود اس طریقہ طلاق کے خلاف بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرتا ہے۔
زیادہ امکان یہ ہے کہ مجوزہ قانون اب چند مہینوں کے لیے ٹل جائے گا کیونکہ پارلیمان کا سرمائی اجلاس جمعہ تک ہی تھا، لیکن کچھ سوال ہیں جو باقی رہیں گے۔
مثال کے طور پر یہ کہ جو شوہر طلاق دیتا ہے وہ جیل جائے گا، جو نہیں دیتا بس بیوی بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے، اس کے خلاف بھی کیا کوئی کارروائی ہو سکتی ہے؟ غریب لوگوں میں یہ طلاق سے کہیں زیادہ بڑا مسئلہ ہے، اور صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔
سپریم کورٹ نے صرف طلاق ثلاثہ یا فوری طلاق کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ معینہ مدت کے فرق سے تین مرتبہ طلاق کہہ کر اب بھی شادی ختم کی جاسکتی ہے۔
جو لوگ فوری طلاق کی وکالت کرتے ہیں، ان سے بھی یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ بھائی اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ انڈیا میں ’فوری نوڈلز‘ بنانے والی کمپنیاں بھی کہتی ہے کہ نوڈلز کو دو منٹ ابالنا ضروری ہے۔
شادی ختم کرنے میں تو اس سے زیادہ وقت لگنا ہی چاہیے
دو بھائیوں کی ایک دلہن: ’جائیداد کی تقسیم روکنے‘ والی ہماچل کی روایتی شادی کے پیچھے کہانی کیا ہے
پردیپ نیگی ریاستی حکومت کے محکمہ جل شکتی میں کام کرتے ہیں اور کپل نیگی بیرون ملک مہمان نوازی کے شعبے میں کام کرتے ہیں
پردیپ نیگی ریاستی حکومت کے محکمہ جل شکتی میں کام کرتے ہیں اور کپل نیگی بیرون ملک مہمان نوازی کے شعبے میں کام کرتے ہیں



See lessدو بھائیوں کی ایک دلہن: ’جائیداد کی تقسیم روکنے‘ والی ہماچل کی روایتی شادی کے پیچھے کہانی کیا ہے
،تصویر کا ذریعہAlokChauhan ،تصویر کا کیپشنپردیپ نیگی ریاستی حکومت کے محکمہ جل شکتی میں کام کرتے ہیں اور کپل نیگی بیرون ملک مہمان نوازی کے شعبے میں کام کرتے ہیں انڈیا کی ریاست ہماچل پردیش کے سرمور ضلع کے شیلائی گاؤں میں حال ہی میں ہونے والی ایک انوکھی شادی پر کافی بحث و مباحثہ جاری ہے۔ کنہاٹ گاؤں کیRead more
،تصویر کا ذریعہAlokChauhan
،تصویر کا کیپشنپردیپ نیگی ریاستی حکومت کے محکمہ جل شکتی میں کام کرتے ہیں اور کپل نیگی بیرون ملک مہمان نوازی کے شعبے میں کام کرتے ہیں
انڈیا کی ریاست ہماچل پردیش کے سرمور ضلع کے شیلائی گاؤں میں حال ہی میں ہونے والی ایک انوکھی شادی پر کافی بحث و مباحثہ جاری ہے۔
کنہاٹ گاؤں کی سنیتا چوہان کی شادی دو حقیقی بھائیوں پردیپ نیگی اور کپل نیگی سے ہوئی ہے۔
یہ شادی ہٹی برادری کے پرانے رواج کے تحت ہوئی۔
اس برادری کو مقامی زبان میں ’جوڈیدرا‘ یا ’جدہ‘ کہا جاتا ہے۔ سرمور کے ٹرانس گیری علاقے میں ہونے والی اس شادی میں سینکڑوں گاؤں والوں اور رشتہ داروں نے شرکت کی۔ روایتی کھانوں، لوک گیتوں اور رقص نے اس تقریب کو مزید یاد گار بنا دیا