Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Please briefly explain why you feel this question should be reported.
Please briefly explain why you feel this answer should be reported.
Please briefly explain why you feel this user should be reported.
سابق روسی صدر کے بیان کا ردعمل، ٹرمپ نے امریکی جوہری آبدوزیں روس کے قریب تعینات کردیں
امریکا کی جوہری آبدوزیں روس کے قریب تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔.
امریکا کی جوہری آبدوزیں روس کے قریب تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔.
See less
سابق روسی صدر کے بیان کا ردعمل، ٹرمپ نے امریکی جوہری آبدوزیں روس کے قریب تعینات کردیں
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق روسی صدر دمتری میدویدیف کے بیان کے ردعمل میں امریکا کی جوہری آبدوزیں روس کے قریب تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔ سماجی رابطےکے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل میں اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے روس کے سابق صدر اور روس کی سکیورٹی کونسل کے موجودہ سربراہ دمتری میدویدیفRead more
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق روسی صدر دمتری میدویدیف کے بیان کے ردعمل میں امریکا کی جوہری آبدوزیں روس کے قریب تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔
سماجی رابطےکے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل میں اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے روس کے سابق صدر اور روس کی سکیورٹی کونسل کے موجودہ سربراہ دمتری میدویدیف کے ’اشتعال انگیز‘ بیانات کے ردعمل میں 2 جوہری آبدوزوں کو ’مناسب علاقوں‘ میں متعین کرنے کا حکم دے دیا ہے تاکہ اگریہ بیانات محض الفاظ سے بڑھ کر کچھ نکلیں تو امریکا اس کے لیے تیار ہو.
رمپ نے کہا کہ الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں اور بعض اوقات غیر ارادی نتائج کا سبب بن سکتے ہیں، امید ہے کہ یہ موقع ان میں سے ایک نہیں ہوگا۔
ٹرمپ کا یہ بیان سابق روسی صدر دمتری میدویدیف کے اس بیان کے ردعمل میں آیا ہے جس میں انہوں ٹرمپ کی جانب سے روسی مشیعت کو مردہ قرار دینے پر سویت دور کے ’ڈیڈ ہینڈ‘ کا ذکر کیا تھا۔
’ڈیڈ ہینڈ‘ سوویت دور کے اس خفیہ اور نیم خودکار نظام کا نام ہے جسے دشمن کے کسی حملے میں روسی قیادت کے خاتمے کی صورت میں بھی روس کی جانب سے جوہری میزائل لانچ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا
See lessملتان میں کمنٹیٹرز کی چھتریوں والی تصویر انڈیا اور پاکستان میں کیوں وائرل ہے؟
اس تصویر میں انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین، پاکستان کے سابق کپتان عامر سہیل اور میزبان زینب.
اس تصویر میں انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین، پاکستان کے سابق کپتان عامر سہیل اور میزبان زینب.
ملتان میں کمنٹیٹرز کی چھتریوں والی تصویر انڈیا اور پاکستان میں کیوں وائرل ہے؟
10 اکتوبر 2024 پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ کے دوران جہاں پاکستان کی بری کارکردگی اور انگلش بلے بازوں کی جانب سے رنز کے انبار لگانے پر بات ہوتی رہی وہیں اس ٹیسٹ میچ کی براڈکاسٹ کے دوران انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین، پاکستان کے سابق کپتان عامر سہیل اور میزبان زینب عباس کی ایک تصویر سوشلRead more
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ کے دوران جہاں پاکستان کی بری کارکردگی اور انگلش بلے بازوں کی جانب سے رنز کے انبار لگانے پر بات ہوتی رہی وہیں اس ٹیسٹ میچ کی براڈکاسٹ کے دوران انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین، پاکستان کے سابق کپتان عامر سہیل اور میزبان زینب عباس کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
اس تصویر میں انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین، پاکستان کے سابق کپتان عامر سہیل اور میزبان زینب عباس پری میچ تبصرے کے لیے گراؤنڈ پر ہی موجود سیٹ پر بیٹھے ہیں۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید اس شو کے دوران کسی نے کوئی ایسی متنازع بات کی ہو گی جس کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا ہو گا، لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہوا بلکہ اس تصویر میں ہی ایک حرکت اکثر افراد کو بری لگی جس کے بعد انھوں نے اس پر تنقید شروع کر دی
احمد آباد کا تاریخی ٹیسٹ میچ: جب عمران خان نے انڈین شائقین کے پتھراؤ پر فیلڈرز کو ہیلمٹ پہنا دیے
انڈیا کا دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم.
انڈیا کا دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم.
احمد آباد کا تاریخی ٹیسٹ میچ: جب عمران خان نے انڈین شائقین کے پتھراؤ پر فیلڈرز کو ہیلمٹ پہنا دیے
نومبر 2024 یہ سنہ 1987 کا واقعہ ہے جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم عمران خان کی قیادت میں انڈیا کا دورہ کر رہی تھی۔ دونوں ٹیمیں کسی بھی صورت ہارنا نہیں چاہتی تھیں اور پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے تین میچ بغیر کسی فیصلے کے ختم ہو چکے تھے۔ سیریز کا چوتھا ٹیسٹ انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میںRead more
یہ سنہ 1987 کا واقعہ ہے جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم عمران خان کی قیادت میں انڈیا کا دورہ کر رہی تھی۔ دونوں ٹیمیں کسی بھی صورت ہارنا نہیں چاہتی تھیں اور پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے تین میچ بغیر کسی فیصلے کے ختم ہو چکے تھے۔
سیریز کا چوتھا ٹیسٹ انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں چار مارچ کو شروع ہوا۔ عمران خان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور پاکستان نے انتہائی سست رفتاری سے بیٹنگ کی۔ اس میچ میں جاوید میانداد کمر میں تکلیف کی وجہ سے نہیں کھیل رہے تھے۔
پہلے دن کا کھیل ختم ہونے پر پاکستان نے چار وکٹوں کے نقصان پر 86 اوورز میں محض 130 رنز بنائے تھے اور سلیم ملک 17 رنز پر جبکہ منظور الہی 19 رنز پر کھیل رہے تھے۔
دوسرے دن بھی پاکستان کی بیٹنگ جاری رہی۔ سلیم ملک جلدی آؤٹ ہو گئے اور پھر عمران خان آئے اور وہ بھی اسی سست روی کے ساتھ کھیلتے رہے۔ منظور الہی قدرے تیز 52 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو ان کی جگہ اعجاز فقیہ کھیلنے آئے اور دونوں نے 154 رنز کی پارٹنر شپ کی۔
عمران خان 72 رنز بنا کر آوٹ ہوئے جس میں آٹھ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ دوسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان کی ٹیم نے 379 رنز بنائے تھے اور اعجاز فقیہ سنچری بنا چکے تھے جبکہ عبدالقادر 20 رنز پر بیٹنگ کر رہے تھے.
جمعہ آرام کا دن تھا اور کھیل کے تیسرے دن یعنی سنیچر کو پاکستان کی پوری ٹیم 187 اوورز اور تین گیندوں پر 395 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تو انڈین ٹیم بیٹنگ کرنے کے لیے میدان میں اتری۔
یہ میچ انڈیا کے مایہ ناز بیٹسمین سنیل گواسکر کے 10 ہزار رنز مکمل ہونے کی وجہ سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلے بیٹسمین تھے جو دس ہزار کا ہندسہ عبور کر رہے تھے
مانچسٹر ٹیسٹ کے اختتام پر ’ہینڈشیک ڈرامہ‘ اور پاکستانی مداح کی شرٹ کا تنازع: ’ایسا کس اصول کی بنیاد پر کیا گیا؟
میچ کے آخری لمحات میں بین سٹوکس کی ڈرا کی پیشکش کو انڈین بلے بازوں کی جانب سے مسترد کر دیا گیا.
میچ کے آخری لمحات میں بین سٹوکس کی ڈرا کی پیشکش کو انڈین بلے بازوں کی جانب سے مسترد کر دیا گیا.
مانچسٹر ٹیسٹ کے اختتام پر ’ہینڈشیک ڈرامہ‘ اور پاکستانی مداح کی شرٹ کا تنازع: ’ایسا کس اصول کی بنیاد پر کیا گیا؟
جولائی 2025 مانچسٹر کے اولڈ ٹریفرڈ سٹیڈیم میں اتوار کو انڈیا اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا چوتھا کرکٹ ٹیسٹ میچ بےنتیجہ ختم ہوا تو انڈین ٹیم اور دنیا بھر میں موجود انڈین مداحوں نے جیت سے بڑھ کر اس کا جشن منایا لیکن ساتھ ہی پاکستانی مداح ایک تماشائی کو پاکستانی شرٹ پہننے پر گراؤنڈ سے جانے کا کہنے والRead more
مانچسٹر کے اولڈ ٹریفرڈ سٹیڈیم میں اتوار کو انڈیا اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا چوتھا کرکٹ ٹیسٹ میچ بےنتیجہ ختم ہوا تو انڈین ٹیم اور دنیا بھر میں موجود انڈین مداحوں نے جیت سے بڑھ کر اس کا جشن منایا لیکن ساتھ ہی پاکستانی مداح ایک تماشائی کو پاکستانی شرٹ پہننے پر گراؤنڈ سے جانے کا کہنے والے سکیورٹی گارڈ پر سیخ پا ہوئے۔
اِس پانچ روزہ مقابلے میں انگلینڈ کی ٹیم حاوی رہنے کے بعد بھی جیت سے محروم رہی اور انڈیا نے اپنی دوسری اننگز میں جو مزاحمت پیش کی اسے ’تاریخی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
پانچویں دن کھیل کے تیسرے اور آخری سیشن میں جب انگلینڈ کے کپتان بین سٹوکس نے مقررہ اوورز سے پہلے کھیل کو برابری (ڈرا) پر ختم کرنے کی پیشکش کی تو کریز پر موجود رویندر جڈیجہ نے اسے مسترد کر دیا جس نے کرکٹ کے حلقوں میں ’ریکارڈ کی اہمیت‘ اور ’جنٹلمینز گیم‘ کی پرانی بحث کو تازہ کر دیا.
افغانستان میں طالبان نے خواتین پر کب کون سی پابندیاں عائد کیں؟
ایسے 20 سے بھی زیادہ معاملات ہیں مگر کئی معاملات میں تو کسی حکم نامے یا سفارش کے بغیر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں. گئیں۔ موسیقی (اگست/ستمبر 2021) . . . . . . .
ایسے 20 سے بھی زیادہ معاملات ہیں مگر کئی معاملات میں تو کسی حکم نامے یا سفارش کے بغیر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں.
گئیں۔
موسیقی (اگست/ستمبر 2021)
.
.
.
.
.
.
.
افغانستان میں طالبان نے خواتین پر کب کون سی پابندیاں عائد کیں؟
15 اگست 2021 کو جب سے طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا ہے، تب سے اب تک خواتین پر پابندیوں کے کئی احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ ایسے 20 سے بھی زیادہ معاملات ہیں مگر کئی معاملات میں تو کسی حکم نامے یا سفارش کے بغیر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ طالبان کی جانب سے خواتین پر پابندیاں چار طرح کی ہیںRead more
15 اگست 2021 کو جب سے طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا ہے، تب سے اب تک خواتین پر پابندیوں کے کئی احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔
ایسے 20 سے بھی زیادہ معاملات ہیں مگر کئی معاملات میں تو کسی حکم نامے یا سفارش کے بغیر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
طالبان کی جانب سے خواتین پر پابندیاں چار طرح کی ہیں: سیاست سے بے دخلی، عوامی سرگرمیوں پر پابندیاں، تعلیم پر پابندی، اور کام کرنے کے حق پر پابندی۔
یہ وہ چار بنیادی پابندیاں ہیں جو طالبان نے خواتین پر عائد کر رکھی ہیں حالانکہ اُنھوں نے اپنے گذشتہ دورِ حکومت کے مقابلے میں زیادہ نرمی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
مردوں کی کابینہ (ستمبر 2021)
سنہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد کی دو دہائیوں میں حامد کرزئی اور محمد اشرف غنی نے خواتین کی سیاست میں زیادہ شمولیت کے لیے کوششیں کی تھیں۔ اس دوران خواتین نے پارلیمان میں جگہ بنائی، اُنھیں وزیر، سفیر، صوبوں کی گورنر اور کئی اہم سرکاری اداروں کی سربراہ بھی بنایا گیا تھا.
جب 15 اگست 2021 کو طالبان حکومت میں واپس آئے تو دنیا یہ دیکھنے کی منتظر تھی کہ یہ عسکریت پسند گروہ کس قدر تبدیل ہوا ہے۔
پھر 30 اگست کو آخری امریکی سپاہی کے افغانستان چھوڑنے کے بعد دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ خواتین حکومت میں سرگرم رہیں گی مگر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُنھیں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جائے گا۔‘
ایک ہفتے بعد طالبان نے اپنی ’عبوری کابینہ‘ کا اعلان کیا اور اس میں کوئی خاتون شامل نہیں تھی