Sign In Sign In

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Don't have account, Sign Up Here

Forgot Password Forgot Password

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.

Have an account? Sign In Now

Sorry, you do not have permission to ask a question, You must login to ask a question.

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Need An Account, Sign Up Here

Sorry, you do not have permission to ask a question, You must login to ask a question.

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Need An Account, Sign Up Here

Please briefly explain why you feel this question should be reported.

Please briefly explain why you feel this answer should be reported.

Please briefly explain why you feel this user should be reported.

Sign InSign Up

Nuq4

Nuq4 Logo Nuq4 Logo
Search
Ask A Question

Mobile menu

Close
Ask a Question
  • Nuq4 Shop
  • Become a Member

Ali1234

Researcher
Ask Ali1234
0 Followers
1k Questions
  • About
  • Questions
  • Answers
  • Best Answers
  • Favorites
  • Groups
  • Joined Groups
  1. Asked: July 31, 2025

    گرین لینڈ: 350 برسوں میں سب سے زیادہ برف کب پگھلی؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 12:38 am

    ذشتہ دو دہائیوں کے درمیان گرین لینڈ میں برف کی چادر میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کو جانچنے والے ناسا کے سیٹیلائٹ ’گریس‘ (دی گریویٹی ریکوری اینڈ کلائمیٹ ایکسپریمنٹ) نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2003 سے 2013 تک گرین لینڈ کی برفانی چادر میں چار گنا کمی واقع ہوئی ہے۔ پروسیڈنگز آف دی نیشنلRead more

    ذشتہ دو دہائیوں کے درمیان گرین لینڈ میں برف کی چادر میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کو جانچنے والے ناسا کے سیٹیلائٹ ’گریس‘ (دی گریویٹی ریکوری اینڈ کلائمیٹ ایکسپریمنٹ) نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2003 سے 2013 تک گرین لینڈ کی برفانی چادر میں چار گنا کمی واقع ہوئی ہے۔

    پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (پی این اے ایس) نامی جریدے میں شائع تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے بعد 12 سے 18 ماہ تک کے لیے برف پگھلنے کا عمل رک گیا ہے۔

    تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ مستقبل میں کس طرح گرین لینڈ کے مختلف علاقے سمندر کی سطح میں اضافہ کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔  کافی عرصے سے گرین لینڈ کے جنوب مشرقی اور شمال مغربی حصوں پر بڑھتی ہوئی سمندر کی سطح پر نظر رکھنے والے سائنسدان اس حوالے سے فکرمند ہیں کیونکہ یہاں برفانی تودوں سے برف کے بڑے بڑے ٹکڑے ٹوٹ کر بحراوقیانوس میں گر رہے ہیں۔ تاہم سنہ 2003 سے سنہ 2013 کے درمیان سب سے زیادہ برف میں کمی گرین لینڈ کے جنوب مغربی حصہ میں واقع ہوئی ہے جو بہت حد تک برف کے بڑے گلیشیئرز سے محروم ہیں

    س علاقے میں تیزی سے برف پگھلنے کی وجہ نارتھ اٹلانٹک اوسی لیشن (ناؤ) نامی موسمیاتی رحجان کہے جا سکتے ہیں۔

    ایسا خاص طور پر اس وقت ہوتا ہے جب یہ (منفی) مرحلے میں ہوتا ہے جس کے تحت موسمیاتی رحجان ناؤ کے سبب گرمیوں کی مدت میں اضافہ ہوجاتا ہے زمین تک پہنچنے والی سورج کی تابکاری برفباری میں کمی پیدا کر دیتی ہیں اور ایسا خصوصاً مغربی گرین لینڈ میں دیکھا گیا ہے۔

    محققین کا ماننا ہے کہ جنوب مغربی گرین لینڈ میں برف پگھلنے کی وجہ ناؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال اورموسمیاتی تبدیلی ہے۔

    پروفیسر بیوس کا کہنا ہے کہ ‘یہ برفانی دولن یا ارتعاش ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں لیکن یہ اب ہی کیوں بری طرح برف کو پگھلا رہے ہیں؟ اس کی جہ یہ ہے کہ ماحول کی بنیادی سطح اب زیادہ گرم ہے۔ اور ان پر عارضی طور پر نارتھ اٹلانٹک اوسی لیشن (ناؤ) مزید اثرات ڈال رہی ہیں۔’

    ان نتائج کا کیا مطلب ہے؟

    تحقیق سے حاصل شدہ نتائج کے مطابق گرین لینڈ کا جنوب مغربی حصہ جو ابتک اس حوالے سے بڑا خطرہ تصور نہیں کیا جا رہا تھا اس کے بارے میں اب یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں سمندر کی سطح بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  2. Asked: July 31, 2025

    موسمیاتی تبدیلی: قطب جنوبی پر سمندر میں کھدائی کی نئی مہم

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 12:35 am

    ’سنہ 2100 تک ہمالیہ،ہندوکش کے 36 فیصد گلیشیئر ختم ہو جائیں گے‘

    ’سنہ 2100 تک ہمالیہ،ہندوکش کے 36 فیصد گلیشیئر ختم ہو جائیں گے‘

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  3. Asked: July 31, 2025

    موسمیاتی تبدیلی: قطب جنوبی پر سمندر میں کھدائی کی نئی مہم

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 12:33 am

    گتا ہے کہ سائنسدانوں کی ایک ٹیم ایک ایسے سفر پر روانہ ہو گئی ہے جس کے راستے میں ان کا سامنا برف کی اتنی بڑی بڑی چٹانوں سے ہو گا جس کی مثال نہیں ملتی۔ ہو سکتا ہے ہمارے اس انداز بیان میں تھوڑی بہت مبالغہ آرائی بھی ہو، لیکن بین الاقوامی سائنسدانوں کی ٹیم قطب جنوبی کے جس سفر پر نکلی ہے وہاں وہ خود کو ایRead more

    گتا ہے کہ سائنسدانوں کی ایک ٹیم ایک ایسے سفر پر روانہ ہو گئی ہے جس کے راستے میں ان کا سامنا برف کی اتنی بڑی بڑی چٹانوں سے ہو گا جس کی مثال نہیں ملتی۔

    ہو سکتا ہے ہمارے اس انداز بیان میں تھوڑی بہت مبالغہ آرائی بھی ہو، لیکن بین الاقوامی سائنسدانوں کی ٹیم قطب جنوبی کے جس سفر پر نکلی ہے وہاں وہ خود کو ایسے تنگ سمندری راستے پر پائے گی جسے ’برفیلی چٹانوں کی تنگ گلی‘ کہنا کچھ غلط بھی نہیں ہو گا۔

    یہ سائنسدان اینٹارکٹِک یا قطب جنوبی پر پہنچ کر سمندر کی تہہ میں کھدائی کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس مہم کے دوران انھیں سمندر میں تیرتے ہوئے برف کے بڑے بڑے تودوں کا سامنا ہو سکتا ہے

    امید ہے کہ یہ لوگ سمندر کی تہہ سے جو مواد نکالیں گے اس سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ یہ ’سفید براعظم` کن تبدیلوں سے گزرا ہے اور اس کی سطح پر موجود برف کی دبیز تہہ پر بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے کیا اثرات ہونے جا رہے ہیں۔

    سمندر میں تحقیق کے ایک بین الاقوامی منصوبے ’ انٹرنیشل اوشن ڈسکوری پروگرام` کی اس مہم کو ’ایکسپڈیشن 382 ‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ پیر 25 مارچ کو چلی کی ایک بندرگاہ سے روانہ ہوئی۔ یہ ٹیم ’برفیلی چٹانوں کی تنگ گلی‘ یا ’آئیس برگ ایلی‘ کے عین درمیان میں پہنچ کر کئی مقامات پر سمندر میں کھدائی کرے گی۔ یہ ٹیم ’جے آر‘ نامی بحری جہاز پر سوار ہے جس میں سمندر میں کھدائی کی صلاحیت موجود ہے۔

    اس مہم میں جب بحری جہاز جزیرہ نما سے بحرِ اوقیانوس کے جنوبی کونے کی جانب بڑھے گا تو سائنسدان اصل میں اس ملبے کو تلاش کر رہے ہوں گے جو گذشتہ لاکھوں برسوں میں بڑی بڑی برفانی چٹانوں سے ٹوٹ کر سمندر میں گرتا رہا ہے۔

    مٹی اور چٹانوں کے ٹکڑوں سے بننے والا یہ ملبہ اصل میں براعظم انٹارکٹا سے صدیوں پہلے اس وقت الگ ہوا تھا جب یہ پورا براعظم ایک بہت بڑا گلیشئئر تھا۔

    اور عرضیاتی کیمیا کے میدان میں جس قدر ترقی گذشتہ عرصے میں ہوئی ہے، اس کے طفیل اب یہ بتانا ممکن ہو گیا ہے کہ فلاں برفانی چٹان گلیشیئر سے کب الگ ہوئی تھی۔، بلکہ یہ بھی بتایا جا سکتا ہے کہ یہ انٹارکٹا کے کس حصے سے ٹوٹی تھی۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  4. Asked: July 31, 2025

    ماحولیاتی تبدیلی کیا ہے؟ ایک آسان گائیڈ

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 12:31 am

    کسی ایک علاقے کی آب و ہوا اُس کے کئی سالوں کے موسم کا اوسط ہوتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اس اوسط میں تبدیلی کو کہتے ہیں۔

    کسی ایک علاقے کی آب و ہوا اُس کے کئی سالوں کے موسم کا اوسط ہوتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اس اوسط میں تبدیلی کو کہتے ہیں۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  5. Asked: July 31, 2025

    ماحولیاتی تبدیلی کیا ہے؟ ایک آسان گائیڈ

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 12:29 am

    دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ زمین کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔ یہ جاننے کی ضرورت بھی ہے کہ موحولیاتی تبدیلی ہے کیا اور ہمارے ماحول پر یہ کیسے اثر انداز ہو رہیRead more

    دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ زمین کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔

    یہ جاننے کی ضرورت بھی ہے کہ موحولیاتی تبدیلی ہے کیا اور ہمارے ماحول پر یہ کیسے اثر انداز ہو رہی ہے؟

    انسانی سرگرمیوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اضافہ کیا ہے، جو درجہ حرارت کو بڑھاتا ہے۔ موسم میں شدت اور قطبی برف کا پگھلنا اس کے ممکنہ اثرات میں شامل ہیں۔ کسی ایک علاقے کی آب و ہوا اُس کے کئی سالوں کے موسم کا اوسط ہوتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اس اوسط میں تبدیلی کو کہتے ہیں

    زمین اب بہت تیزی سے ماحولیاتی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے اور عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلی کا کیا مطلب ہوگا؟

    لوگ

    آب و ہوا کی تبدیلی ہمارے طرز زندگی کو بدل دے گی، جس سے پانی کی قلت پیدا ہو گی اور خوراک پیدا کرنا مشکل ہو جائے گا۔

    کچھ خطے خطرناک حد تک گرم ہو سکتے ہیں اور دیگر سمندر کی سطح میں اضافے کی وجہ سے رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

    موسم میں شدت کی وجہ سے پیش آنے والے واقعات جیسے گرمی کی لہر، بارشیں اور طوفان بار بار آئیں گے اور ان کی شدت میں اضافہ ہو جائے گا، یہ لوگوں کی زندگیوں اور ذریعہ معاش کے لیے خطرہ ہو گی۔

    غریب ممالک کے شہریوں کے پاس حالات کے مطابق ڈھلنے کا امکان کم ہوتا ہے اس لیے وہ سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔

    ماحولیات

    قطبی برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ نشیبی ساحلی علاقوں کے ساتھ ساتھ سمندروں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

    جب سائبیریا جیسی جگہوں پر منجمد زمین پگھلتی ہے، وہاں میتھین جو ایک گرین ہاؤس گیس ہے فضا میں خارج ہوتی ہے، جس سے موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے۔

    جنگل کی آگ کے لیے سازگار موسمی حالات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    قدرت

    جب ان کے علاقے میں تبدیلیاں آئیں گی، جانوروں کی کچھ اقسام نئے علاقوں میں منتقل ہو جائیں گی۔

    لیکن موسمیاتی تبدیلی اتنی تیزی سے ہو رہی ہے کہ بہت سی اقسام کے ناپید ہونے کا امکان ہے۔

    قطبی ریچھوں کے غائب ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ برف جس پر وہ انحصار کرتے ہیں تیزی سے پگھل رہی ہے۔

    بحر اوقیانوس کی سالمن مچھلی کی آبادی تباہ ہوسکتی ہے کیونکہ جن دریاؤں میں اُن کی افزائش ہوتی ہے اُن کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

    کورل ریف غائب ہو سکتی ہیں کیونکہ زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی وجہ سے سمندر میں تیزابیت بڑھ رہی ہے۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  6. Asked: July 31, 2025

    چین: کوئلے کی کان میں پھنسے 33 کان کنوں کی ہلاکت کی تصدیق

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 12:23 am

    چین میں کانوں میں حقاظتی معیار بڑھانے کے باوجود کانوں میں حادثات ہونے کی ایک تاریخ ہے۔

    چین میں کانوں میں حقاظتی معیار بڑھانے کے باوجود کانوں میں حادثات ہونے کی ایک تاریخ ہے۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  7. Asked: July 31, 2025

    چین: کوئلے کی کان میں پھنسے 33 کان کنوں کی ہلاکت کی تصدیق

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 12:22 am

    چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ جنشانگو کوئلہ کان میں پھنسے 33 کان کن ہلاک ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز اس کان میں ایک دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد 20 کان کن کی تلاش جاری تھی۔ پیر کی صبح جنوب مغربی علاقے میں نجی ملکیت کی کوئلے کی کان میں گیس لیک ہونے کی وجہ سے دھماکہ ہوا تھا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسیRead more

    چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ جنشانگو کوئلہ کان میں پھنسے 33 کان کن ہلاک ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز اس کان میں ایک دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد 20 کان کن کی تلاش جاری تھی۔

    پیر کی صبح جنوب مغربی علاقے میں نجی ملکیت کی کوئلے کی کان میں گیس لیک ہونے کی وجہ سے دھماکہ ہوا تھا۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن ساری رات کان میں پھنسے افراد کو بچانے کے لیے کوشاں رہے تاہم اس حادثے میں صرف دو کان کن زندھ بچ پائے ہیں۔

    مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کان میں سے تمام لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    مقامی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور علاقے میں دیگر کانوں کو عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔

    اس سے پہلے رواں سال جنوری میں چار کان کنوں کو ایک کان میں 36 روز تک پھنسے رہنے کے بعد زندہ نکال لیا گیا تھا۔ اس کان کے مالک نے حادثے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔

    چین دنیا میں کوئلہ پیدا کرنے اور اسے استعمال کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ جس کان میں حادثہ پیش آیا ہے وہاں سے سالانہ 60,000 ٹن کوئلہ نکالا جا سکتا ہے۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  8. Asked: July 31, 2025

    بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں مسلسل ہلاکتیں کیوں ہو رہی ہیں؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 12:20 am

    چیف انسپیکٹر مائنز بلوچستان افتخار احمد نے بتایا کہ چمالانگ میں یہ حادثہ ایک کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے پیش آیا۔ 

    چیف انسپیکٹر مائنز بلوچستان افتخار احمد نے بتایا کہ چمالانگ میں یہ حادثہ ایک کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے پیش آیا۔ 

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  9. Asked: July 31, 2025

    بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں مسلسل ہلاکتیں کیوں ہو رہی ہیں؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 12:18 am

    2018 پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 90 سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے تلخ یادوں کے ساتھ رخصت ہوا لیکن 2019 کا آغاز بھی ان کے لیے اچھا نہیں تھا اور سال کے دوسرے ہی روز ایک حادثے میں چار کان کن ہلاک ہو گئے۔ یہ ہلاکتیں ضلع دکی کی حدود میں چمالانگ کے علاقے میں پیRead more

    2018 پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 90 سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے تلخ یادوں کے ساتھ رخصت ہوا لیکن 2019 کا آغاز بھی ان کے لیے اچھا نہیں تھا اور سال کے دوسرے ہی روز ایک حادثے میں چار کان کن ہلاک ہو گئے۔

    یہ ہلاکتیں ضلع دکی کی حدود میں چمالانگ کے علاقے میں پیش آئیں۔ چیف انسپیکٹر مائنز بلوچستان افتخار احمد نے بتایا کہ چمالانگ میں یہ حادثہ ایک کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے پیش آیا۔

    گزشتہ دس روز کے دوران چمالانگ اور دکی کوئلہ کانوں میں رونما ہونے والا یہ چوتھا واقعہ تھا۔ ان واقعات میں مجموعی طور پر دس کان کن ہلاک ہوئے۔

    مجموعی طور پر سنہ 2018 بلوچستان کی کوئلے کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوا۔

    پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل لالہ سلطان نے بتایا کہ سنہ 2018 میں بلوچستان میں مجموعی طور پر 93 کان کن ہلاک ہوئے۔

    لالہ سلطان نے اس کی سب سے بڑی وجہ حفاظتی انتظامات کے فقدان کو قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کوئلے کی کانوں میں حادثات سے بچنے کے لیے چار پانچ حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ کان میں کام شروع کرنے سے پہلے زہریلی گیس کو چیک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کان کے اندر آکسیجن کی موجودگی کو یقینی بنانا ہوتا ہے جبکہ ایک کان کے اندر متبادل راستہ بنانا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں کانکنوں کو نکالنے میں آسانی ہو۔

    مزدور رہنما کے مطابق بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں ان انتظامات کو یقینی نہیں بنایا جاتا، جس کے باعث کانوں میں حادثات ایک معمول بن گئے ہیں

    لالہ سلطان نے اس کی ایک بڑی وجہ ٹھیکیداری کے نظام کو بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ اپنے نام پر مائننگ کے لیے اراضی الاٹ کراتے ہیں لیکن خود اس پر کام کرنے کی بجائے ان کو ٹھیکیداروں کے حوالے کرتے ہیں۔ بڑے ٹھیکیدار پھر ان کو پیٹی ٹھیکیداروں کو دیتے ہیں۔‘

    لالہ سلطان کے مطابق ٹھیکیدار اور پیٹی ٹھیکیدار انسانوں کو بچانے کے لیے حفاظتی انتظامات کا خیال رکھنے کے بجائے زیادہ تر اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ کوئلہ کیسے نکالیں۔

    انھوں نے بتایا کہ دکی اور چمالانگ میں اس وقت سب سے زیادہ حادثات پیش آرہے ہیں۔

    مزدور رہنما کا دعویٰ ہے کہ کوئلے کی کانیں بااثر لوگوں کی ہیں۔ حادثات کی صورت میں نہ صرف ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ ان کو سیفٹی کے لوازمات کو یقینی بنانے کا بھی پابند نہیں بنایا جاتا۔

    بلوچستان میں جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کان کنی یہاں کی سب سے بڑی صنعت ہے۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  10. Asked: July 31, 2025

    موحولیاتی تبدیلی: انڈیا کوئلے کے بغیر کیوں نہیں رہ سکتا؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 12:17 am

    انڈیا کی 70 فیصد سے زیادہ توانائی کا انحصار کوئلے پر ہے 

    انڈیا کی 70 فیصد سے زیادہ توانائی کا انحصار کوئلے پر ہے 

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
1 … 48 49 50 51 52 … 161

Sidebar

[the_ad_group id="2732"]

[the_ad id="17089"]

Explore

  • Nuq4 Shop
  • Become a Member

Footer

Get answers to all your questions, big or small, on Nuq4.com. Our database is constantly growing, so you can always find the information you need.

Download Android App

© Copyright 2024, Nuq4.com

Legal

Terms and Conditions
Privacy Policy
Cookie Policy
DMCA Policy
Payment Rules
Refund Policy
Nuq4 Giveaway Terms and Conditions

Contact

Contact Us
Chat on Telegram
We use cookies to ensure that we give you the best experience on our website. If you continue to use this site we will assume that you are happy with it.