Sign In Sign In

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Don't have account, Sign Up Here

Forgot Password Forgot Password

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.

Have an account? Sign In Now

Sorry, you do not have permission to ask a question, You must login to ask a question.

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Need An Account, Sign Up Here

Sorry, you do not have permission to ask a question, You must login to ask a question.

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Need An Account, Sign Up Here

Please briefly explain why you feel this question should be reported.

Please briefly explain why you feel this answer should be reported.

Please briefly explain why you feel this user should be reported.

Sign InSign Up

Nuq4

Nuq4 Logo Nuq4 Logo
Search
Ask A Question

Mobile menu

Close
Ask a Question
  • Nuq4 Shop
  • Become a Member

Ali1234

Researcher
Ask Ali1234
0 Followers
1k Questions
  • About
  • Questions
  • Answers
  • Best Answers
  • Favorites
  • Groups
  • Joined Groups
  1. Asked: July 31, 2025

    ٹرمپ اور انڈیا: تھوڑی خوشی، تھوڑا غم

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 2:01 am

    فی الحال سوال زیادہ ہیں اور جواب کم کیونکہ ابھی کسی کو یہ نہیں معلوم کہ وائٹ ہاؤس میں سکونت اختیار کرنے والے صدر وہی ٹرمپ ہوں گے جو انتخابی مہم میں نظر آئے تھے یا نئے عہدے کی بے پناہ ذمہ داریاں اور نئے سیاسی اور سفارتی تقاضے انھیں کچھ بدل دیں گے۔ روایتاً رپبلکن پارٹی کے دور اقتدار میں دونوں ملکوں کےRead more

    فی الحال سوال زیادہ ہیں اور جواب کم کیونکہ ابھی کسی کو یہ نہیں معلوم کہ وائٹ ہاؤس میں سکونت اختیار کرنے والے صدر وہی ٹرمپ ہوں گے جو انتخابی مہم میں نظر آئے تھے یا نئے عہدے کی بے پناہ ذمہ داریاں اور نئے سیاسی اور سفارتی تقاضے انھیں کچھ بدل دیں گے۔

    روایتاً رپبلکن پارٹی کے دور اقتدار میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں زیادہ گرمجوشی نظر آتی ہے لیکن صدر اوباما اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان بھی کافی قربت تھی۔ نریندر مودی اس بے تکلفی کا اظہار کرنے کے لیے پریس کانفرنس میں بھی صدر اوباما کو ’براک‘ کہہ کر پکارتے تھے اور گذشتہ برس امریکہ نے انڈیا کو ’اہم دفاعی پارٹنر‘ کا درجہ بھی دیا تھا۔

    امریکہ ہندوستان کو اپنا فطری حلیف سمجھتا ہے اور عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حکومتوں کے بدلنے سے ملکوں کی خارجہ پالیسیوں میں کوئی انقلابی تبیدلیاں نہیں آتیں، یہ ضرور ہے کہ نئی حکومتوں کی ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں۔

    جواب شاید یہ ہے کہ فی الحال تھوڑی خوشی تھوڑا غم ہی بہتر رہے گا، کیونکہ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے تین چار ایسی باتیں کہیں جو براہ راست ہندوستان پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

    صدر ٹرمپ اگر حسب وعدہ امیگریشن پر سخت حکمت عملی اختیار کرتے ہیں تو انڈیا سےسافٹ ویئر انجینیئروں اور دوسرے پروفیشنلز کے امریکہ جا کر کام کرنے یا وہاں پڑھنے جانے والے طلبہ کے لیے یہ بری خبر ہو گی۔ اگر وہ نوکریاں امریکہ واپس لانے کے لیے امریکی کمپنیوں کو ’آف شورنگ‘ ختم کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو انڈیا میں کال سینٹر بزنس پر اثر پڑے گا اور یہاں سرمایہ کاری متاثر ہو گی۔

    صدر ٹرمپ امریکی صنعت کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور وزیر اعظم مودی کا پسندیدہ پروگرام ہے ’میک ان انڈیا۔‘

    صدر ٹرمپ اگر چین کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کرتے ہیں تو یہ صرف انڈیا کے لیے نہیں دوسری ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے بھی بری خبر ہو گی۔

    اگر وہ مسئلہ کشمیر میں مصالحت کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ انھوں نے انتخابی مہم کے دوران عندیہ دیا تھا، تو یہ انڈیا کو منظور نہیں ہو گا۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران پاکستان میں شدت پسندی کے بارے میں بھی سخت زبان استمعال کی تھی اور انڈیا کو امید ہو گی کہ وہ پاکستان کے ساتھ زیادہ سخت موقف اختیار کریں گے

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  2. Asked: July 31, 2025

    کیا انڈیا جسٹن ٹروڈو کو نظر انداز کر رہا ہے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 1:59 am

    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سات روزہ سرکاری دورے پر انڈیا گئے ہوئے ہیں لیکن بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نریندر مودی کی حکومت ان کے دورے کو اتنی اہمیت نہیں دے رہی جتنی دی جانی چاہیے تھی 

    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سات روزہ سرکاری دورے پر انڈیا گئے ہوئے ہیں لیکن بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نریندر مودی کی حکومت ان کے دورے کو اتنی اہمیت نہیں دے رہی جتنی دی جانی چاہیے تھی 

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  3. Asked: July 31, 2025

    کیا انڈیا جسٹن ٹروڈو کو نظر انداز کر رہا ہے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 1:57 am

    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سات روزہ سرکاری دورے پر انڈیا گئے ہوئے ہیں لیکن بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نریندر مودی کی حکومت ان کے دورے کو اتنی اہمیت نہیں دے رہی جتنی دی جانی چاہیے تھی۔ تاثر یہ ہے کہ جسٹن ٹروڈو کے دورے کو حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں نے اب تک نظر انداز کیا ہے اور قیاس آرائی یہ ہے کہRead more

    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سات روزہ سرکاری دورے پر انڈیا گئے ہوئے ہیں لیکن بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نریندر مودی کی حکومت ان کے دورے کو اتنی اہمیت نہیں دے رہی جتنی دی جانی چاہیے تھی۔

    تاثر یہ ہے کہ جسٹن ٹروڈو کے دورے کو حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں نے اب تک نظر انداز کیا ہے اور قیاس آرائی یہ ہے کہ اس کی وجہ ان کی کابینہ میں شامل وہ چار سکھ وزرا ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں انڈیا میں بعض لوگوں کا الزام ہے کہ ان کی ہمدردی خالصتان کی علیحدگی پسند تحریک کے ساتھ رہی ہے۔

    جب مسٹر ٹروڈو اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ سنیچر کی رات دلی پہنچے تو ان کا استقبال کرنے کے لیے ہوائی اڈے پر وفاقی حکومت کے ایک جونیئر وزیر موجود تھے، لیکن گذشتہ ماہ جب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اس سے پہلے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور جاپان کے وزیر اعظم انڈیا آئے تھے تو نریندر مودی ان کا استقبال کرنے خود ائیر پورٹ پہنچے تھے اور نیتن یاہو اور شنزو آبے کو خود گجرات لے کر گئے تھے۔

    بنیامین نیتن یاہو آگرہ میں تاج محل دیکھنے گئے تو خود اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ان کے ساتھ موجود رہے۔ جسٹس ٹروڈو گئے تو انہیں ضلع میجسٹریٹ سے ہی کام چلانا پڑا۔

    تو سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی مسٹر ٹروڈو کو دانستہ طور پر نظر انداز کر رہی ہے اور اگر ہاں، تو کیوں؟

    کالم نگار وویک دہیجیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہہ مسٹر ٹروڈو کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ ایک جونیئر وزیر کو ان کے استقبال کے لیے بھیجا گیا

     

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  4. Asked: July 31, 2025

    خالصتان کا مسئلہ اب کیوں اٹھ رہا ہے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 1:56 am

    جب سے مسٹر ٹروڈو کینیڈا کے وزیر اعظم بنے ہیں انھوں نے سکھ انتہا پسندوں سے اپنی مبینہ قربت پر انڈین حکومت کی تشویش کو نظرانداز کیا ہے 

    جب سے مسٹر ٹروڈو کینیڈا کے وزیر اعظم بنے ہیں انھوں نے سکھ انتہا پسندوں سے اپنی مبینہ قربت پر انڈین حکومت کی تشویش کو نظرانداز کیا ہے 

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  5. Asked: July 31, 2025

    خالصتان کا مسئلہ اب کیوں اٹھ رہا ہے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 1:54 am

    جزیہ نگاروں کے مطابق جب سے مسٹر ٹروڈو کینیڈا کے وزیر اعظم بنے ہیں انھوں نے سکھ انتہا پسندوں سے اپنی مبینہ قربت پر انڈین حکومت کی تشویش کو نظرانداز کیا ہے کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو انڈیا کے آٹھ روزہ سرکاری دورے پر ہیں لیکن اس دوران ذکر صرف خالصتان کی تحریک کا ہی کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہےRead more

    جزیہ نگاروں کے مطابق جب سے مسٹر ٹروڈو کینیڈا کے وزیر اعظم بنے ہیں انھوں نے سکھ انتہا پسندوں سے اپنی مبینہ قربت پر انڈین حکومت کی تشویش کو نظرانداز کیا ہے

    کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو انڈیا کے آٹھ روزہ سرکاری دورے پر ہیں لیکن اس دوران ذکر صرف خالصتان کی تحریک کا ہی کیوں ہو رہا ہے؟

    اس کی وجہ یہ ہے کہ جسٹن ٹروڈو کی حکومت میں چار سکھ وزیر ہیں اور ان میں سے دو کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ خالصتان کی علیحدگی پسند تحریک سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ ان میں کینیڈا کے وزیر دفاع ہرجیت سجن بھی شامل ہیں جن سے گذشتہ برس پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ نے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

    تجزیہ نگاروں کے مطابق جب سے مسٹر ٹروڈو کینیڈا کے وزیر اعظم بنے ہیں انھوں نے سکھ انتہا پسندوں سے اپنی مبینہ قربت پر انڈین حکومت کی تشویش کو نظر انداز کیا ہے

    کینیڈا میں سکھوں کی بڑی آبادی ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ مسٹر ٹروڈو کی انتخابی کامیابی میں سکھ برادری نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

    اس کا مطلب یہ نہیں کہ کینیڈا میں رہنے والے تمام سکھ خالصتان کی تحریک کی حمایت کرتے ہیں لیکن یہ مانا جاتا ہے کہ وہاں کئی ایسی سکھ تنظیمیں سرگرم ہیں جو کبھی خالصتان کے قیام کے لیے آواز اٹھاتی ہیں اور کبھی سنہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے۔ اس کے علاوہ کچھ سکھ تنظیمیں خالصتان کے سوال پر ریفرینڈم کا مطالبہ بھی کر رہی ہیں۔

    مسٹر ٹروڈو سنہ 2015 میں کینیڈا کے وزیر اعظم بنے تھے۔ انھوں نے گذشتہ برس ایک خالصہ پریڈ میں شرکت کی تھی جس میں آپریشن ’بلو سٹار‘ میں ہلاک ہونے والے سکھ شدت پسندوں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ یہ آپریشن اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے حکم پر گولڈن ٹیمپل سے شدت پسندوں کو نکالنے کے لیے کیا گیا تھا۔

    انڈیا میں تاثر یہ ہے کہ سیاسی تقاضوں کے پیش نظر کینیڈا کی حکومت سکھ شدت پسندوں کی سرگرمیوں کو نظر انداز کر رہی ہے اور جب خود مسٹر ٹروڈو ان کی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں تو یہ پیغام جاتا ہے کہ وہ انڈیا کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔

    دوسرا نظریہ یہ ہے کہ ان کی حکومت میں چار سکھ وزیر ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکھوں کی حمایت کو وہ کتنا اہم مانتے ہیں اور اس لیے وہ طاقتور سکھ برادری کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔

    کینیڈا کے 16 گردواروں نے گذشتہ دسمبر انڈین اہلکاروں، سفارت کاروں اور یہاں تک کہ منتخب نمائندوں کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ میں بھی تقریباً 100 گردواروں نے اس پابندی پر عمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    گردواروں کا کہنا ہے کہ وہ فسادات کے ملزمان کو سزائیں دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انڈین حکومت کی جانب سے اس سمت میں کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے اس لیے حکومت کے نمائندوں کے داخلے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم وہ اپنی نجی حیثیت میں گردواروں میں جا سکتے ہیں۔

    انڈین پنجاب میں سنہ 1980 کے عشرے میں علیحدگی کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ سکیورٹی امور کے ماہر پروین سوامی کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ خالصتان کی تحریک کا اچانک دوبارہ ذکر شروع ہوا ہے کیونکہ بیرون ملک آباد بہت سی سکھ تنظیموں نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  6. Asked: July 31, 2025

    انڈین پنجاب میں حالیہ حملے اور گرفتاریاں: کیا انڈیا میں 'خالصتان تحریک' دوبارہ زور پکڑ رہی ہے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 1:52 am

    سکھوں کے سب سے مقدس مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل میں موجود اکال تخت کو 1984 کے فوجی آپریشن میں بہت نقصان پہنچا تھا

    سکھوں کے سب سے مقدس مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل میں موجود اکال تخت کو 1984 کے فوجی آپریشن میں بہت نقصان پہنچا تھا

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  7. Asked: July 31, 2025

    انڈین پنجاب میں حالیہ حملے اور گرفتاریاں: کیا انڈیا میں 'خالصتان تحریک' دوبارہ زور پکڑ رہی ہے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 1:49 am

    نڈیا کی ریاست پنجاب 1980 اور 90 کی دہائی میں شدت اختیار کرنے والی عسکریت پسند خالصتان تحریک کے بعد سے زیادہ تر پُرسکون رہی ہے تاہم گذشتہ دنوں میں پنجاب میں کچھ ایسی سرگرمیاں ہوئی ہیں جو پرانے دنوں کی یاد دلاتی ہیں۔ خالصتان تحریک سکھوں کے لیے ایک علیحدہ وطن بنانے کا مطالبہ تھا جس کے دوران پُرتشدد کارRead more

    نڈیا کی ریاست پنجاب 1980 اور 90 کی دہائی میں شدت اختیار کرنے والی عسکریت پسند خالصتان تحریک کے بعد سے زیادہ تر پُرسکون رہی ہے تاہم گذشتہ دنوں میں پنجاب میں کچھ ایسی سرگرمیاں ہوئی ہیں جو پرانے دنوں کی یاد دلاتی ہیں۔

    خالصتان تحریک سکھوں کے لیے ایک علیحدہ وطن بنانے کا مطالبہ تھا جس کے دوران پُرتشدد کارروائیاں ہوئیں اور درجنوں جانوں کا ضیاں ہوا۔

    رواں ماہ نو مئی کو موہالی میں پنجاب پولیس کے انٹیلیجنس ونگ پر آر پی جی سے فائرنگ کی گئی۔ موہالی میں ہوئے اس حملے سے ایک دن پہلے پنجاب پولیس نے سرحدی ضلع ترن تارن سے آر ڈی ایکس سے بھرے دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) برآمد کرنے کے دعوے کے بعد دو افراد کو گرفتار کیا۔

    اس سے تین دن پہلے ریاست ہریانہ کی پولیس نے کرنال سے تین دیسی ساختہ بم اور ایک پستول کی برآمدگی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کیا جبکہ اسی دوران ہمالیائی ریاست ہماچل پردیش کی اسمبلی پر خالصتان کا پرچم لگا ہوا ملا۔  سی دورانیے میں بیرون ممالک میں مقیم خالصتان تحریک سے منسلک کئی رہنماؤں نے بھی علیحدگی پسندی پر مبنی پیغامات بھی نشر کیے

    یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سبھی واقعات ایک مشترکہ کوشش کا حصہ ہیں یا علیحدہ علیحدہ واقعات ہیں لیکن تھوڑے سے عرصے میں یکے بعد دیگرے پیش آنے والے ان واقعات نے چند پریشان کُن سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ’توجہ حاصل کرنے کے لیے ہیں‘ کیونکہ خالصتان تحریک کی اب عام لوگوں میں حمایت موجود نہیں ہے۔

    گرو نانک دیو یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسر کلدیپ سنگھ کہتے ہیں کہ خالصتان کی ملک کے باہر سے حمایت کے باوجود ’مجھے پنجاب میں عسکریت پسندی کے دوبارہ زندہ ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کیونکہ میرا ماننا ہے کہ پنجاب میں ایسے گروہوں کے لیے اب کوئی حمایت نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ عوام کی حمایت کے بغیر کہیں بھی عسکریت پسندی زندہ نہیں رہ سکتی۔‘

    پنجاب یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسر رونکی رام بھی اُن سے اتفاق رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ان کی (خالصتان تحریک) مخالفت سول سوسائٹی کے طرف سے ہی نہیں بلکہ سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بھی ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتیں اس مسئلے کی مخالفت کے موضوع پر یک زبان ہیں۔‘

    ان معاملات کا جائزہ لینے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ خالصتان تحریک تھی کیا اور اب کہاں کھڑی ہے۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  8. Asked: July 31, 2025

    سدھو موسے والا کے قتل کے ملزمان لارنس بشنوئی اور گولڈی برار کون ہیں؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 1:46 am

    31 سالہ لارنس بشنوئی اس گروہ کا سرغنہ ہے اور کئی مقدموں میں نامزد ہے جن میں قتل، ڈکیتی اور حملے شامل ہیں

    31 سالہ لارنس بشنوئی اس گروہ کا سرغنہ ہے اور کئی مقدموں میں نامزد ہے جن میں قتل، ڈکیتی اور حملے شامل ہیں

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  9. Asked: July 31, 2025

    سدھو موسے والا کے قتل کے ملزمان لارنس بشنوئی اور گولڈی برار کون ہیں؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 1:43 am

    نجابی گلوکار اور کانگریس پارٹی کے رہنما سدھو موسے والا کو اتوار کی شام کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نہ وہ اپنی بلٹ پروف گاڑی میں جا رہے تھے اور نہ ہی ان کے سکیورٹی کمانڈوز ان کے ہمراہ تھے۔ ذرائع کے مطابق جائے واردات سے تین مختلف ہتھیاروں کی گولیوں کے 30 خالی شیل ملے ہیں۔Read more

    نجابی گلوکار اور کانگریس پارٹی کے رہنما سدھو موسے والا کو اتوار کی شام کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نہ وہ اپنی بلٹ پروف گاڑی میں جا رہے تھے اور نہ ہی ان کے سکیورٹی کمانڈوز ان کے ہمراہ تھے۔

    ذرائع کے مطابق جائے واردات سے تین مختلف ہتھیاروں کی گولیوں کے 30 خالی شیل ملے ہیں۔ حملے کے مقام سے ملنے والے یہ شیل نائن ایم ایم، سیون پوائنٹ سکس ٹو ایم ایم اور پوائنٹ تھری زیرو ایم ایم کے ہیں۔

    سدھو موسے والا کے قتل میں ’لارنس بشنوئی گروپ‘ کا نام لیا جا رہا ہے۔ پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل پولیس وی کے بھنوارہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ واقعہ ‘لارنس بشنوئی’ اور ‘لکی پٹیال’ نامی گروہوں کی لڑائی کا نتیجہ لگ رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’بشنوئی گروپ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اس نے وکی میتھوخیرہ کے قتل کا بدلہ لیا ہے۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  10. Asked: July 31, 2025

    سدھو موسے والا کو کیوں قتل کیا گیا؟ گینگسٹر گولڈی برار کی زبانی

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 31, 2025 at 1:41 am

    گولڈی برار کے مطابق بشنوئی اور موسے والا میں تنازع کا آغاز کبڈی کے ایک میچ سے ہوا تھا

    گولڈی برار کے مطابق بشنوئی اور موسے والا میں تنازع کا آغاز کبڈی کے ایک میچ سے ہوا تھا

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
1 … 46 47 48 49 50 … 161

Sidebar

[the_ad_group id="2732"]

[the_ad id="17089"]

Explore

  • Nuq4 Shop
  • Become a Member

Footer

Get answers to all your questions, big or small, on Nuq4.com. Our database is constantly growing, so you can always find the information you need.

Download Android App

© Copyright 2024, Nuq4.com

Legal

Terms and Conditions
Privacy Policy
Cookie Policy
DMCA Policy
Payment Rules
Refund Policy
Nuq4 Giveaway Terms and Conditions

Contact

Contact Us
Chat on Telegram
We use cookies to ensure that we give you the best experience on our website. If you continue to use this site we will assume that you are happy with it.