Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Please briefly explain why you feel this question should be reported.
Please briefly explain why you feel this answer should be reported.
Please briefly explain why you feel this user should be reported.
دنیااسرائیلی وزیر دفاع کی ایک بار پھر ایرانی سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کی دھمکی
تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹس نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک بار پھر براہِ راست دھمکی دے دی۔ اسرائیل کاٹس نے کہا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل کو دوبارہ دھمکانے کی کوشش کی تو تہران پر دوبارہ اسرائیلی حملے ہوں گے اور اس بار نشانہ خامنہ ای خود ہوں گے۔ اسرائیل کاٹس کے دفتر کRead more
تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹس نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک بار پھر براہِ راست دھمکی دے دی۔
اسرائیل کاٹس نے کہا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل کو دوبارہ دھمکانے کی کوشش کی تو تہران پر دوبارہ اسرائیلی حملے ہوں گے اور اس بار نشانہ خامنہ ای خود ہوں گے۔
اسرائیل کاٹس کے دفتر کے مطابق اسرائیل کی رامون ائربیس کا دورہ کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ میں آیت اللہ خامنہ ای کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر انہوں نے اسرائیل کو دھمکانا جاری رکھا تو اسرائیل کے لمبے ہاتھ مزید شدت کے ساتھ تہران اور آپ تک پہنچیں گے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ ختم ہونے کے ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے۔
خیال رہے کہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع نےکہا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو مزید زندہ نہیں رہنے دینا چاہیے، خامنہ ای اسرائیل کی تباہی کو اپنا ہدف سمجھتے ہیں، وہ ذاتی طور پر اسپتالوں پر حملے کے احکامات دیتے ہیں، اس لیے ایسا شخص اب مزید دنیا میں موجود نہیں رہ سکتا
See lessاسلام آباد میں ’’گدھے کے گوشت‘‘ کی فروخت کا معاملہ، سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان
اسلام آباد کے ریسٹورنٹس میں گدھے کے گوشت کی فروخت کا انکشاف ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر میمز اور مزاحیہ تبصروں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ برس قبل لاہور میں گدھے کا گوشت ہوٹلوں میں فروخت ہونے کی خبر نے پورے پاکستان میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ تب سے لے کر آج تک لاہور والے ’’گدھا گوشت پارٹی‘‘ کRead more
اسلام آباد کے ریسٹورنٹس میں گدھے کے گوشت کی فروخت کا انکشاف ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر میمز اور مزاحیہ تبصروں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ برس قبل لاہور میں گدھے کا گوشت ہوٹلوں میں فروخت ہونے کی خبر نے پورے پاکستان میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ تب سے لے کر آج تک لاہور والے ’’گدھا گوشت پارٹی‘‘ کے طعنے سہتے آرہے ہیں۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ لاہور اس ’’اعزاز‘‘ میں تنہا نہیں رہا کیونکہ اسلام آباد بھی اسی فہرست میں شامل ہوچکا ہے!
تازہ ترین خبروں کے مطابق اسلام آباد کے علاقے ترنول میں فوڈ اتھارٹی نے 25 ٹن گدھے کا گوشت پکڑ لیا جو مختلف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو سپلائی کیا جانا تھا۔ اس انکشاف نے عوام کو شدید حیران ہی نہیں بلکہ ششدر کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام نے جہاں افسوس کا اظہار کیا، وہیں طنز و مزاح کا دروازہ بھی کھول دیا.
گدھوں کے گوشت کی خبر پر ردعمل میں سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے۔ کچھ دلچسپ تبصرے پڑھیے: ایک صارف نے لکھا ’’مبارک ہو، اب اسلام آباد بھی لاہور بن چکا ہے!‘‘، ایک اور کمنٹ میں کہا گیا ’’اب لاہور والوں کو کچھ مت کہنا، اسلام آباد نے بھی گدھا گوشت کھا لیا‘‘، جبکہ ایک تیسرے صارف نے شاندار ترکیب پیش کی کہ ’’اسلام آباد والوں کےلیے نئی ڈش: گدھا شنواری تیار کریں!‘‘
جب سے پاکستان میں اس غیر معمولی گوشت‘‘ کا کاروبار بے نقاب ہوا ہے، عوام ہوٹل اور ریسٹورنٹس کوشک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ لاہور کی طرح اب اسلام آباد بھی اس مذاق کا حصہ بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے تو یہاں تک کہنا شروع کردیا ہے کہ ’’ہوٹلوں میں نہ پوچھو کون سا گوشت ہے، پوچھو کہ کیا گوشت گدھے کا تو نہیں ہے؟‘‘
اس خبر نے جہاں لوگوں کو تشویش میں مبتلا کیا، وہیں طنز و مزاح کا نیا در کھول دیا ہے۔ عوام یہ سوال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ہوٹلوں میں دیسی کھانے کے ساتھ گوشت بھی دیسی ہے یا کسی اور نسل کا؟
اگر آپ اسلام آباد کے کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے جارہے ہیں، تو ہوسکتا ہے کہ آپ کی پلیٹ میں ’’خالص گدھا گوشت‘‘ ہو… یا پھر کم از کم سوشل میڈیا پر یہی سمجھا جائے!
کیا پنجاب میں اسکول 15 اگست سے نہیں کھل رہے؟
پنجاب کے اسکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اختتام 15 اگست کو ہو جائے گا تاہم والدین انتظار کر رہے ہیں کہ صوبائی حکومت چھٹیوں میں توسیع کا اعلان کرتی ہے یا نہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مئی میں جاری کیے گئے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری و نجی اسکول 15 اگست 2025 کو کھل جائیں گے اور تعلیمی سرگرRead more
پنجاب کے اسکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اختتام 15 اگست کو ہو جائے گا تاہم والدین انتظار کر رہے ہیں کہ صوبائی حکومت چھٹیوں میں توسیع کا اعلان کرتی ہے یا نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مئی میں جاری کیے گئے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری و نجی اسکول 15 اگست 2025 کو کھل جائیں گے اور تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: یکم اگست سے اسکولوں کے نئے اوقات کار جاری
15 اگست کو اسکولوں میں کم حاضری متوقع ہے اور اگر موسم گرما کی چھٹیوں میں توسیع نہ کی گئی تو ویک اینڈ کے بعد 18 اگست کو باقاعدہ تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔
تاہم صوبائی حکومت نے گرمیوں کی تعطیلات میں توسیع کے کسی ارادے کا اعلان نہیں کیا کیونکہ فیصلہ موسم کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
اسکولوں کے اوقات کار (سنگل شفٹ)
پنجاب حکومت نے صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں کیلیے اوقات کار کا اعلان کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سنگل شفٹ صبح 7:30 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک ہوگی جبکہ جمعے کے روز صبح 11:30 بجے تعلیمی ادارے بند ہوں گے۔
اسکولوں کے اوقات کار (ڈبل شفٹ)
صبح کی شفٹ (پیر سے جمعرات) صبح 7:30 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک
صبح کی شفٹ (جمعہ) صبح 7:30 بجے سے 11:30 بجے تک
شام کی شفٹ (پیر سے جمعرات) دوپہر 2:00 بجے سے شام 6:00 بجے تک
شام کی شفٹ (جمعہ) دوپہر 2:30 بجے سے شام 5:30 بجے تک
See lessفرانس کے ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلہ سے برطانیہ پر دباؤ میں اضافہ کیوں ہوا ہے؟
فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اپنے ارادے کے اعلان نے برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر پر اُن کی پیروی کرنے یعنی کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اپنے ارادے کے اعلان نے برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر پر اُن کی پیروی کرنے یعنی کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
پاکستان میں کرپٹو کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی اور یہ ملک کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہو گا؟
بلال ثاقب کہتے ہیں کہ ایک بہترین ریگولیٹری فریم ورک پاکستان میں ڈیجیٹیل اثاثوں کے شعبے میں غیر ملک سرمایہ کاری کو لا سکتا ہے

بلال ثاقب کہتے ہیں کہ ایک بہترین ریگولیٹری فریم ورک پاکستان میں ڈیجیٹیل اثاثوں کے شعبے میں غیر ملک سرمایہ کاری کو لا سکتا ہے
See lessپاکستان میں کرپٹو کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی اور یہ ملک کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہو گا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images ،تصویر کا کیپشنوزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پہلے پاکستان بینکنگ سمٹ سے خطاب میں کہا کہ ڈیجیٹیل بینکنگ فروغ پا رہی ہے اور کرپٹو کرنسی کا غیر رسمی مارکیٹوں میں استعمال ہو رہا ہے پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت تو حاصل نہیں لیکن حکومت ڈیجیٹل کرنسی میں اب کافی دلچRead more
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنوزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پہلے پاکستان بینکنگ سمٹ سے خطاب میں کہا کہ ڈیجیٹیل بینکنگ فروغ پا رہی ہے اور کرپٹو کرنسی کا غیر رسمی مارکیٹوں میں استعمال ہو رہا ہے
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت تو حاصل نہیں لیکن حکومت ڈیجیٹل کرنسی میں اب کافی دلچسپی لیتی ہوئی نظر آ رہی ہے جس کا ثبوت ملک میں کرپٹو کونسل کا قیام ہے۔
حکومت کی جانب سے کرپٹو کونسل بنانے کا مقصد کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے تجاویز اوران پر غور وفکر کے لیے کرپٹو ٹریڈ کی بلاک چین ٹیکنالوجی میں کام کرنے والے ویب تھری شعبے کے مشیر اور انویسٹر بلال بن ثاقب کو پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا چیف ایڈوائزر مقرر کیا گیا ہے۔
گزشتہ دس دن میں پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے شعبے میں بہت تیزی سے ہونے والی پیشرفت ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آ رہی ہے، جب پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا کاروبار تو ہو رہا ہے لیکن اسے کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے چیف ایڈوائزر بلال بن ثاقب نے اپنی تقرری کے بعد کہا کہ پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جو تیزی سے کرپٹو کرنسی کو اپنا رہے ہیں اور جہاں اس شعبے میں مزید جدت لانے کی گُنجائش بھی باقی ہے۔
شمالی کوریا کے ہیکرز نے تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو چوری کیسے یقینی بنائی؟
ہیکرز کے جرائم پیشہ گروہ 'لازارس گروپ' کے بارے میں خیال ہے کہ وہ شمالی کوریا کے لیے کام کرتے ہیں اور اس گروہ سے منسلک افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں


ہیکرز کے جرائم پیشہ گروہ ‘لازارس گروپ’ کے بارے میں خیال ہے کہ وہ شمالی کوریا کے لیے کام کرتے ہیں اور اس گروہ سے منسلک افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں
See lessشمالی کوریا کے ہیکرز نے تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو چوری کیسے یقینی بنائی؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images ،تصویر کا کیپشنعالمی سطح پر ہونے والی کوششوں کے باوجود ہیکرز چوری شدہ ڈیجیٹل کرنسی میں سے 30 کروڑ ڈالرز کو قابل استعمال کرنسی میں تبدیل کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں ہیکرز کے ایک جرائم پیشہ گروہ نے 1.5 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی کی تاریخی چوری کے بعد اس میں سے کم از کم 30 کروRead more
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنعالمی سطح پر ہونے والی کوششوں کے باوجود ہیکرز چوری شدہ ڈیجیٹل کرنسی میں سے 30 کروڑ ڈالرز کو قابل استعمال کرنسی میں تبدیل کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں
ہیکرز کے ایک جرائم پیشہ گروہ نے 1.5 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی کی تاریخی چوری کے بعد اس میں سے کم از کم 30 کروڑ ڈالرز کامیابی سے ناقابل واپسی فنڈز میں تبدیل کر لیے ہیں۔
ہیکرز کے اس جرائم پیشہ گروہ کا نام ’لازارس گروپ‘ ہے اور ان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ براہِ راست شمالی کوریا کی حکومت کے لیے کام کر رہے تھے۔
اس جرائم پیشہ گروہ نے دو ہفتے قبل کرپٹو ایکسچینج ’بائے بٹ‘ کو ہیک کر کے یہاں سے 1.5 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل ٹوکن چوری کیے تھے، جو کرپٹو کرنسی کی تاریخ میں سب سے بڑی چوری تھی۔
اس بڑی واردات کے بعد سے اِن ہیکرز کو ٹریک اور بلاک کرنے کی کوشش کی جاتی رہی تاکہ وہ کرپٹو کرنسی کو استعمال ہونے والی کرنسی میں تبدیل کروانے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ تاہم اس کوششوں کے باوجود وہ 30 کروڑ ڈالرز کو قابل استعمال کرنسی میں تبدیل کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
انڈین کرپٹو ایکسچینج سے 23 کروڑ ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثے کیسے چوری ہوئے اور اس کی تحقیقات اتنی پیچیدہ کیوں ہیں؟
یہ انڈیا میں کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری تھ


یہ انڈیا میں کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری تھ
See lessانڈین کرپٹو ایکسچینج سے 23 کروڑ ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثے کیسے چوری ہوئے اور اس کی تحقیقات اتنی پیچیدہ کیوں ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images مضمون کی تفصیل مصنف,نیاز فارووقی عہدہ,بی بی سی اردو، انڈیا 2 گھنٹے قبل یہ انڈیا میں کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری تھی۔ انڈیا میں ’وزیرایکس‘ نامی ایک متحرک کرپٹو ایکسچینج سے دو ہزار کروڑ روپے کے ٹوکنز (ڈیجیٹل اثاثے) منٹوں میں غائب ہو گئے اور سوال اٹھنے لگے کہ یہ مRead more
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مضمون کی تفصیل
یہ انڈیا میں کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری تھی۔
انڈیا میں ’وزیرایکس‘ نامی ایک متحرک کرپٹو ایکسچینج سے دو ہزار کروڑ روپے کے ٹوکنز (ڈیجیٹل اثاثے) منٹوں میں غائب ہو گئے اور سوال اٹھنے لگے کہ یہ محفوظ نظام کیسے ہیک ہو گیا اور چور کون تھا۔
18 جولائی 2024 کو مبینہ طور پر ہیکرز نے ’وزیرایکس‘ کے ذخائر کا تقریباً 45 فیصد چرا لیا تھا۔
یہ اُس وقت انڈیا کا سب سے بڑا کرپٹو ایکسچینج سمجھا جاتا تھا، جس کے صارفین کی تعداد 1.6 کروڑ سے زیادہ تھی