Sign In Sign In

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Don't have account, Sign Up Here

Forgot Password Forgot Password

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.

Have an account? Sign In Now

Sorry, you do not have permission to ask a question, You must login to ask a question.

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Need An Account, Sign Up Here

Sorry, you do not have permission to ask a question, You must login to ask a question.

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Need An Account, Sign Up Here

Please briefly explain why you feel this question should be reported.

Please briefly explain why you feel this answer should be reported.

Please briefly explain why you feel this user should be reported.

Sign InSign Up

Nuq4

Nuq4 Logo Nuq4 Logo
Search
Ask A Question

Mobile menu

Close
Ask a Question
  • Nuq4 Shop
  • Become a Member

Ali1234

Researcher
Ask Ali1234
0 Followers
1k Questions
  • About
  • Questions
  • Answers
  • Best Answers
  • Favorites
  • Groups
  • Joined Groups
  1. Asked: July 28, 2025

    غزہ کی ’آنکھیں اور کان‘ بننے والے صحافی بھی بھوک کا شکار: ’زیادہ کام نہیں کر پاتا کیونکہ مجھے چکر آنے لگتے ہیں‘

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 28, 2025 at 1:02 am

    صحافیوں کو ان مشکلات کا ہی سامنا ہے جنھیں وہ خود رپورٹ کر رہے ہیں

    صحافیوں کو ان مشکلات کا ہی سامنا ہے جنھیں وہ خود رپورٹ کر رہے ہیں

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  2. Asked: July 28, 2025

    غزہ کی ’آنکھیں اور کان‘ بننے والے صحافی بھی بھوک کا شکار: ’زیادہ کام نہیں کر پاتا کیونکہ مجھے چکر آنے لگتے ہیں‘

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 28, 2025 at 1:00 am

    ،تصویر کا کیپشنصحافیوں کو ان مشکلات کا ہی سامنا ہے جنھیں وہ خود رپورٹ کر رہے ہیں غزہ میں موجود تین ایسے فری لانس فلسطینی صحافیوں نے، جن پر بی بی سی اپنی کوریج کے لیے انحصر کرتا ہے، بتایا ہے کہ وہ کس طرح اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اکثر ان کے دو یا اس سے بھی زیادہ دن بغیرRead more

    غزہ

    ،تصویر کا کیپشنصحافیوں کو ان مشکلات کا ہی سامنا ہے جنھیں وہ خود رپورٹ کر رہے ہیں

    غزہ میں موجود تین ایسے فری لانس فلسطینی صحافیوں نے، جن پر بی بی سی اپنی کوریج کے لیے انحصر کرتا ہے، بتایا ہے کہ وہ کس طرح اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اکثر ان کے دو یا اس سے بھی زیادہ دن بغیر کچھ کھائے گزر جاتے ہیں۔

    ان تینوں صحافیوں نے جو تمام کے تمام مرد ہیں، اس پورے عرصے میں اپنے کیمرے بند نہیں کیے اور ہمیں اہم فوٹیج بھیجتے رہے، یہاں تک کہ ان دنوں میں بھی جب ان کے قریبی رشتہ دار مارے گئے، ان کے گھر بار ان سے چھن گئے، یا وہ اپنے خاندانوں سمیت اسرائیلی فوجی پیش قدمی کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ در بدر ہوتے رہے۔

    ان میں سے ایک اس سے پہلے ایک اسائنمنٹ کے دوران اسرائیلی بمباری کی وجہ سے بری طرح زخمی بھی ہو چکے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ حالیہ وقت جو وہ گزار رہے ہیں ’وہ سب سے مشکل ہے۔ یہ مصائب اور محرومیوں کا بہت بڑا بحران ہے۔‘

    عالمی غذائی تحفظ کے ماہرین نے ابھی تک غزہ کی صورتحال کی قحط کے طور پر درجہ بندی نہیں کی لیکن اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر انسان کی طرف سے پیدا کی ہوئی غذائی قلت کا خطرہ ہے  وہ اس کا الزام اسرائیل پر عائد کرتے ہیں جو فلسطینی علاقوں میں داخل ہونے والے تمام سامان کو کنٹرول کرتا ہے لیکن اسرائیل نے اس سے انکار کیا ہے۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  3. Asked: July 28, 2025

    امریکہ اور یورپی یونین کا 15 فیصد ٹیرف پر اتفاق: کیا واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بھی تجارتی ڈیل ممکن ہے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 28, 2025 at 12:57 am

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین تجارتی معاہدے کے اعلان کے بعد ہاتھ ملا رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد دنیا کے دو سب سے بڑے اقتصادی شراکت داروں کے مابین کئی ماہ سے جاری تعطل کاRead more

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین تجارتی معاہدے کے اعلان کے بعد ہاتھ ملا رہے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین تجارتی معاہدے کے اعلان کے بعد ہاتھ ملا رہے ہیں۔

    امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد دنیا کے دو سب سے بڑے اقتصادی شراکت داروں کے مابین کئی ماہ سے جاری تعطل کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے سکاٹ لینڈ میں مذاکرات کے بعد اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین سے امریکہ برآمد کی جانے والی تمام اشیا پر 15 فیصد ٹیرف عائد ہو گا۔

    یہ اس 30 فیصد درآمدی ٹیکس کا نصف ہے جو ٹرمپ نے جمعہ سے لاگو کرنے کی دھمکی دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ امریکی برآمد کنندگان اپنی کچھ مصنوعات صفر فیصد ٹیرف کے ساتھ یورپی منڈیوں میں بیچ سکیں گے۔

    لیکن اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے بالآخر واشنگٹن اور برسلز کے رہنماؤں کو آمنے سامنے بیٹھنا پڑا۔

    یہی چیز ہم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے معاہدوں میں بھی دیکھی ہے – صدر ٹرمپ کی ذاتی شمولیت کے باعث ہی یہ معاہدے طے ہو پائے ہیں۔

    یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے لیے اہم ہے کیونکہ بہت سارے لوگوں کے کاروبار اور ملازمتوں کا انحصار اس لین دین پر منحصر ہے جسے یورپی یونین ’دنیا کا سب سے بڑا باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کا رشتہ‘ قرار دیتا ہے۔

    صدر ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین دونوں ہی اسے ایک فتح کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔

    یورپی یونین کی مصنوعات پر عائد 15 فیصد ٹیرف برطانیہ کے 10 فیصد ٹیرف معاہدے جتنی اچھی ڈیل تو نہیں لیکن یہ اِس سے بھی کہیں بدتر ہو سکتی تھی۔

    اس معاہدے سے ٹیرف ریونیو کی مد میں امریکی خزانے میں 90 ارب ڈالرز آنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ اب ملک میں 600 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔

    فی الحال ان سوالات کے جوابات نہیں ملے کہ یہ سرمایہ کاری کب اور کن شعبوں میں کی جائے گی۔

    اس معاہدے کو تاریخی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے لیکن یہاں تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔

    * پاکستان کا درآمدی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے کا فیصلہ: کیا قیمتیں کم ہوں گی یا صرف امیر طبقے کو فائدہ پہنچے گا؟

    * انڈیا کو برکس کے اندر امریکہ اور اسرائیل کا ’ٹروجن ہارس‘ کیوں کہا گیا؟

    واشنگٹن اور 27 ملکی اتحاد دونوں میں سے کوئی بھی آسانی سے ہار ماننے کو تیار نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ یہ مذاکرات آخری وقت تک جاری رہے۔

    لیکن کوئی بھی فریق نہیں چاہتا تھا کہ یہ مذاکرات یکم اگست کی ڈیڈ لائن سے آگے بڑھیں۔

    کئی برسوں سے، امریکی صدر یورپ کے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے خلاف آواز اٹھاتے آئے ہیں۔

    یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ صدر ٹرمپ دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کی باقی دنیا کے ساتھ تجارت کو نئی شکل دینے میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔

    یہ دیکھتے ہوئے کہ یورپی یونین 27 ممالک پر مشتمل ایک اتحاد ہے یہ صدر ٹرمپ کے لیے تجارتی معاہدوں میں سے ایک مشکل ترین معاہدہ تھا۔

    اس سے قبل امریکہ دیگر کئی ممالک بشمول جاپان، برطانیہ، انڈونیشیا اور کمبوڈیا کے ساتھ کامیابی سے تجارتی معاہدے طے کر چکا ہے۔ تاہم، اب بھی کئی مشکل مذاکرات رہتے ہیں جن میں چین، میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے شامل ہیں۔

    صدر ٹرمپ کے موڈ کو دیکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ شاید اگلے 48 گھنٹوں میں مزید اچھی خبر سننے کو ملے۔

    امریکہ اور چین کے درمیان سوموار اور منگل کو سوئیڈن میں تجارتی مذاکرات کا تیسرا دور ہونے جا رہا ہے۔

    کچھ لوگوں کو توقع ہے کہ شاید چینی مصنوعات ہر محصولات کا اطلاق مزید 90 روز کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔

    کچھ دن پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔ انھوں نے یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی تھی کہ نایاب دھاتوں کی برآمدات کے حوالے سے معاملات طے پا گئے ہیں۔

    یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کے بعد بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بیجنگ کے ساتھ بات چیت میں امریکہ کو برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

    تاہم امریکہ کے دیگر تجارتی شراکتداروں کے برعکس، چین کافی غیر لچکدارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔

    اور اگر دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو آنے والے مہینوں میں عالمی تجارت اب بھی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  4. Asked: July 28, 2025

    ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں افراد کربلا کی جانب پیدل سفر کیوں کرتے ہیں؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 28, 2025 at 12:54 am

    اربعین شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک اہم دن ہے۔ یہ اس واقعے کے چالیس روز مکمل ہونے کی یاد ہے جب امام حسین، ان کے خاندان اور ان کے ساتھیوں کو کربلا کے مقام پر یزیدی افواج نے قتل کیا تھا۔ 

    اربعین شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک اہم دن ہے۔ یہ اس واقعے کے چالیس روز مکمل ہونے کی یاد ہے جب امام حسین، ان کے خاندان اور ان کے ساتھیوں کو کربلا کے مقام پر یزیدی افواج نے قتل کیا تھا۔ 

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  5. Asked: July 28, 2025

    ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں افراد کربلا کی جانب پیدل سفر کیوں کرتے ہیں؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 28, 2025 at 12:51 am

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images ’اربعین‘پر کیا کیا جاتا ہے یہ فاطمہ کرنیب کو تب تک معلوم نہیں تھا جب تک کہ وہ پہلی بار سنہ 2012 میں عراق اس میں شرکت کے لیے نہیں گئی تھیں۔ فاطمہ نے بتایا کہ ’اس ایک دورے نے میری زندگی بدل دی اور مجھے معلوم ہوا کہ دنیا بس امام حسین کی محبت کے سوا کچھ نہیں۔‘ عراق سے بی بی سRead more

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’اربعین‘پر کیا کیا جاتا ہے یہ فاطمہ کرنیب کو تب تک معلوم نہیں تھا جب تک کہ وہ پہلی بار سنہ 2012 میں عراق اس میں شرکت کے لیے نہیں گئی تھیں۔

    فاطمہ نے بتایا کہ ’اس ایک دورے نے میری زندگی بدل دی اور مجھے معلوم ہوا کہ دنیا بس امام حسین کی محبت کے سوا کچھ نہیں۔‘

    عراق سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فاطمہ نے بتایا کہ ’یہ ایک شاندار، ناقابل بیان روحانی احساس ہے۔۔۔ یہاں آ کر ایسا محسوس ہوا جیسے پوری دنیا میرا خاندان بن گئی ہے اور یہ سوچ مجھ پر اتنی غالب ہوئی کہ میں اپنے اصل خاندان سے رابطہ کرنا ہی بھول گئی۔‘

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  6. Asked: July 28, 2025

    اربعین: پاکستانی زائرین پر بذریعہ سڑک ایران، عراق جانے پر پابندی، ’حکومت پہلے بتا دیتی تاکہ ہماری جمع پونجی برباد نہ ہوتی‘

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 28, 2025 at 12:50 am

    حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ زائرین کی حفاظت اور قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے  

    حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ زائرین کی حفاظت اور قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے

    Embassy of Iran

     

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  7. Asked: July 28, 2025

    اربعین: پاکستانی زائرین پر بذریعہ سڑک ایران، عراق جانے پر پابندی، ’حکومت پہلے بتا دیتی تاکہ ہماری جمع پونجی برباد نہ ہوتی‘

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 28, 2025 at 12:44 am

    صوبہ پنجاب کے ضلع سرگودھا سے تعلق رکھنے والے علی رضا کے مطابق انھوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران ’ایک، ایک پائی جوڑی‘ تھی تاکہ وہ اس سال اربعین پر ’امام حسین کی زیارت کا خواب‘ پورا کر سکیں۔ مگر اتوار کے روز انھیں یہ سُن کر ’گہرا صدمہ‘ پہنچا جب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا کہ اربعین جانےRead more

    getty

    صوبہ پنجاب کے ضلع سرگودھا سے تعلق رکھنے والے علی رضا کے مطابق انھوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران ’ایک، ایک پائی جوڑی‘ تھی تاکہ وہ اس سال اربعین پر ’امام حسین کی زیارت کا خواب‘ پورا کر سکیں۔

    مگر اتوار کے روز انھیں یہ سُن کر ’گہرا صدمہ‘ پہنچا جب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا کہ اربعین جانے کے خواہش مند زائرین کو رواں برس بذریعہ سڑک عراق و ایران جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وزارتِ خارجہ، حکومتِ بلوچستان اور سکیورٹی اداروں سے تفصیلی مشاورت کے بعد عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

    علی رضا نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ’اب میں بیگ پیک کیے بیٹھا ہوں اور جب سفر میں دو دن باقی ہیں تو خبر ملی ہے کہ میں عراق نہیں جا سکتا، اور یہ کہ اگر میں جانا چاہتا ہوں تو مجھے مزید تین لاکھ کا بندوبست کرنا ہو گا تاکہ فضائی سفر ممکن ہو سکے۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  8. Asked: July 27, 2025

    مالدیپ میں تعینات انڈین فوجیوں کی اتوار سے مرحلہ وار واپسی کا آغاز: کیا یہ مالدیپ میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا اظہار ہے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 27, 2025 at 11:49 pm

    ،تصویر کا ذریعہReuters مضمون کی تفصیل مصنف,انبراسن ایتھیراجان عہدہ,بی بی سی نیوز 8 مار چ 2024 مالدیپ کے چین سے قربت بڑھانے کے بعد انڈیا اتوار کے روز مالدیپ میں تعینات اپنے فوجی اہلکاروں کو واپس بلا رہا ہے۔ مالدیپ میں انڈیا کے تقریباً 80 فوجی اہلکار تعینات ہیں جن کا اب مرحلہ وار انخلا ہو گا۔ انڈین فوRead more

    معیزو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    مضمون کی تفصیل

      • مصنف,انبراسن ایتھیراجان
      • عہدہ,بی بی سی نیوز
    • 8 مار چ 2024

    مالدیپ کے چین سے قربت بڑھانے کے بعد انڈیا اتوار کے روز مالدیپ میں تعینات اپنے فوجی اہلکاروں کو واپس بلا رہا ہے۔

    مالدیپ میں انڈیا کے تقریباً 80 فوجی اہلکار تعینات ہیں جن کا اب مرحلہ وار انخلا ہو گا۔ انڈین فوجیوں کو چین نواز سمجھے جانے والے مالدیپ کے نئے صدر محمد معیزو کی طرف سے اس ضمن میں دی گئی ڈیڈ لائن کے مطابق واپس بلایا جا رہا ہے۔

    انڈیا نے کہا ہے کہ اس کے فوجی اہلکار مالدیپ میں دو امدادی اور جاسوس ہیلی کاپٹروں اور ایک چھوٹے طیارے کی دیکھ بھال اور انھیں چلانے کے لیے تعینات ہیں، یہ ہیلی کاپٹر اور طیارہ انڈیا نے برسوں پہلے مالدیپ کو عطیہ کیے تھے۔

    گذشتہ برس نومبر میں مالدیپ کے صدر منتخب ہونے والے محمد معیزو نے انڈین فوجیوں کو واپس ان کے ملک بھیجنے کا وعدہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔ انڈیا طویل عرصے سے مالدیپ پر اپنا اثر و رسوخ قائم کیے ہوئے ہے اور اس ملک کے سٹریٹجک محل وقوع کے باعث انڈیا کے لیے یہاں سے بحر ہند کے ایک اہم حصے کی نگرانی ممکن ہوتی ہے

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  9. Asked: July 27, 2025

    ’انڈیا آؤٹ‘ مہم سے ریڈ کارپٹ ویلکم تک: چین سے قربت رکھنے والے مالدیپ کو مودی کیوں نہیں کھونا چاہتے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 27, 2025 at 11:44 pm

    نریندر مودی مالدیپ کے 60ویں یوم آزادی پر مہمان خصوصی کے طور پر گئے ہیں 

    نریندر مودی مالدیپ کے 60ویں یوم آزادی پر مہمان خصوصی کے طور پر گئے ہیں 

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  10. Asked: July 27, 2025

    ’انڈیا آؤٹ‘ مہم سے ریڈ کارپٹ ویلکم تک: چین سے قربت رکھنے والے مالدیپ کو مودی کیوں نہیں کھونا چاہتے؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 27, 2025 at 11:40 pm

    ،تصویر کا ذریعہ@MEA ،تصویر کا کیپشننریندر مودی مالدیپ کے 60ویں یوم آزادی پر مہمان خصوصی کے طور پر گئے ہیں مالدیپ 1200 جزائر کا ایک مجموعہ ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے مالدیپ کو دنیا کا سب سے زیادہ بکھرا ہوا ملک کہا جاتا ہے۔ ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے تک جانے کے لیے فیری یعنی بڑی کشتیوں کا استعمال کرنا پڑتاRead more

    نریندر مودی مالدیپ

    ،تصویر کا ذریعہmEADnhiszJzFV

    ،تصویر کا کیپشننریندر مودی مالدیپ کے 60ویں یوم آزادی پر مہمان خصوصی کے طور پر گئے ہیں

    مالدیپ 1200 جزائر کا ایک مجموعہ ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے مالدیپ کو دنیا کا سب سے زیادہ بکھرا ہوا ملک کہا جاتا ہے۔

    ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے تک جانے کے لیے فیری یعنی بڑی کشتیوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ مالدیپ کی آبادی صرف 5.21 لاکھ ہے۔

    مالدیپ 1965 میں برطانیہ سے سیاسی طور پر مکمل طور پر آزاد ہوا۔ آزادی کے تین سال بعد مالدیپ ایک آئینی اسلامی جمہوریہ بن گیا۔

    آزادی کے بعد سے اسلام نے مالدیپ کی سیاست اور لوگوں کی زندگیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلام 2008 میں مالدیپ میں ریاستی مذہب بھی بن گیا۔ مالدیپ دنیا کا سب سے چھوٹا اسلامی ملک ہے۔

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
1 … 72 73 74 75 76 … 161

Sidebar

[the_ad_group id="2732"]

[the_ad id="17089"]

Explore

  • Nuq4 Shop
  • Become a Member

Footer

Get answers to all your questions, big or small, on Nuq4.com. Our database is constantly growing, so you can always find the information you need.

Download Android App

© Copyright 2024, Nuq4.com

Legal

Terms and Conditions
Privacy Policy
Cookie Policy
DMCA Policy
Payment Rules
Refund Policy
Nuq4 Giveaway Terms and Conditions

Contact

Contact Us
Chat on Telegram
We use cookies to ensure that we give you the best experience on our website. If you continue to use this site we will assume that you are happy with it.