Sign In Sign In

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Don't have account, Sign Up Here

Forgot Password Forgot Password

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.

Have an account? Sign In Now

Sorry, you do not have permission to ask a question, You must login to ask a question.

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Need An Account, Sign Up Here

Sorry, you do not have permission to ask a question, You must login to ask a question.

Continue with Google
or use

Forgot Password?

Need An Account, Sign Up Here

Please briefly explain why you feel this question should be reported.

Please briefly explain why you feel this answer should be reported.

Please briefly explain why you feel this user should be reported.

Sign InSign Up

Nuq4

Nuq4 Logo Nuq4 Logo
Search
Ask A Question

Mobile menu

Close
Ask a Question
  • Nuq4 Shop
  • Become a Member

Ali1234

Researcher
Ask Ali1234
0 Followers
1k Questions
  • About
  • Questions
  • Answers
  • Best Answers
  • Favorites
  • Groups
  • Joined Groups
  1. Asked: July 24, 2025

    فلم ’سیارہ‘ کے مرکزی اداکار آہان پانڈے اور انیت پاڈا کون ہیں؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 24, 2025 at 1:21 pm

    27 سالہ آہان پانڈے انڈیا کی معروف کاروباری شخصیت چکی پانڈے اور فٹنس کوچ و مصنفہ دیان پانڈے کے بیٹے ہیں۔ چکی پانڈے سینیئر اداکار چنکی پانڈے کے بھائی ہیں، یوں آہان اور اداکارہ اننیا پانڈے کزن ہیں۔ ان کی بہن الانا پانڈے بھی سوشل میڈیا پر ایک مشہور شخصیت ہیں۔ آہان پانڈے نے اوبرائے انٹرنیشنل سکول ممبئRead more

    27 سالہ آہان پانڈے انڈیا کی معروف کاروباری شخصیت چکی پانڈے اور فٹنس کوچ و مصنفہ دیان پانڈے کے بیٹے ہیں۔
    چکی پانڈے سینیئر اداکار چنکی پانڈے کے بھائی ہیں، یوں آہان اور اداکارہ اننیا پانڈے کزن ہیں۔ ان کی بہن الانا پانڈے بھی سوشل میڈیا پر ایک مشہور شخصیت ہیں۔
    آہان پانڈے نے اوبرائے انٹرنیشنل سکول ممبئی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ہے جس کے بعد یونیورسٹی آف ممبئی سے فنون لطیفہ، فلم اور ٹیلی وژن پروڈکشن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی
    اداکاری سے قبل آہان پانڈے نے مختلف فلموں میں ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ ان کی معاون ہدایت کاری میں بننے والی فلموں میں ’فریکے علی‘، ’راک آن ٹو‘، ’دی ریلوے مین‘ اور ’مردانی ٹو‘ شامل ہیں۔
    اداکاری کے ساتھ ساتھ آہان پانڈے کو دوسرے تخلیقی کاموں سے گہرا شغف ہے۔ وہ موسیقی، ہدایت کاری، ڈانس، فیشن اور ای سپورٹس میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔
    انیت پاڈا اکتوبر سنہ 2002 میں امرتسر کے ایک مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے نوعمری میں ماڈلنگ کا آغاز اشتہارات سے کیا اور دوران تعلیم ماڈلنگ جاری رکھی۔
    انیت پاڈا نے دہلی یونیورسٹی کے جیزز اینڈ میری کالج سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کی
    انیت پاڈا سنہ 2022 میں ریلیز ہونے والی فلم ’سلام ونکی‘ میں ایک مختصر کردار ادا کیا جبکہ سنہ 2022 میں ریلیز ہونے والی ویب سیریز ’بگ گرلز ڈانٹ کرائی‘ میں روحی آہوجا کے کردار سے شہرت حاصل کی۔
    اسی سال انہوں نے گلوکاری کے میدان میں بھی قدم رکھا اور اپنا پہلا گانا ’معصوم‘ ریلیز کیا۔ اس کے علاوہ وہ ٹی وی سیریل ’یوا سپنوں کا سفر‘ میں انیت کور کے کردار میں بھی جلوہ گر ہو چکی ہیں۔
    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  2. Asked: July 24, 2025

    شادی کا دعوت نامہ تک چھپ چکا، پھر سلمان خان اور سنگیتا بجلانی نے راہیں جُدا کیوں کرلیں؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 24, 2025 at 1:16 pm

    سلمان خان اور ان کی سابق گرل فرینڈ سنگیتا بجلانی ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ دبنگ خان کو بدھ کی رات سنگیتا بجلانی کی 65 ویں سالگرہ کی پارٹی میں دیکھا گیا تھا۔ اس تصویر کو اداکار ارجن بجلانی نے اپنے انسٹاگرام پر اپ پوسٹ کیا جس میں وہ سلمان، سنگیتا اور ان کی اہلیہ نیہا سوامی کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ سلماRead more

    سلمان خان اور ان کی سابق گرل فرینڈ سنگیتا بجلانی ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ دبنگ خان کو بدھ کی رات سنگیتا بجلانی کی 65 ویں سالگرہ کی پارٹی میں دیکھا گیا تھا۔ اس تصویر کو اداکار ارجن بجلانی نے اپنے انسٹاگرام پر اپ پوسٹ کیا جس میں وہ سلمان، سنگیتا اور ان کی اہلیہ نیہا سوامی کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔
    سلمان خان اور سنگیتا کی تصویر نے ایک بار پھر ان کے رشتے کی تمام یادیں تازہ کر دی ہیں۔ سنگیتا بجلانی کو سلمان کی پہلی گرل فرینڈ کہا جاتا ہے۔ دونوں نے 1986 میں ایک دوسرے کو ڈیٹ کرنا شروع کیا اور تقریباً آٹھ سال تک ساتھ رہے۔
    ان کا رشتہ ایک وقت پر عروج پر پہنچ گیا تھا اور وہ مئی 1994 میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے تھے۔ کارڈز چھپ چکے تھے اور بالی ووڈ کے حلقوں میں ان کی شادی کے چرچے تھے
    تاہم قسمت نے یاوری نی کی اور شادی چند ہفتے پہلے منسوخ کردی گئی تھی، کیونکہ سلمان خان کو دوسری لڑکی کے ساتھ پکڑ لیا گیا تھا۔ اس لڑکی کے بارے میں افواہ ہے کہ وہ سلمان کی دوسری گرل فرینڈ صومی علی ہے۔
    سلمان کا آن ریکارڈ اعتراف اور بریک اپ کے بعد کی زندگی
    ’کافی ود کرن‘ سیزن 4 کے دوران سلمان نے خود اس بات کا انکشاف کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ وہ شادی کرنا چاہتے تھے، لیکن یہ کام نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ انہوں نے سنگیتا کا نام لیا اور کہا کہ اُس نے انہیں رنگے ہاتھوں پکڑا اور شادی منسوخ ہوگئی۔ ’اس نے مجھے پکڑ لیا۔ میں پکڑا گیا۔ میں ایک بیوقوف ہوں۔‘
    صومی علی نے بھی ایک بار اس بات کی تصدیق کی تھی کہ انہیں سنگیتا بجلانی نے سلمان خان کے ساتھ ان کے فلیٹ میں پکڑا تھا۔ صومی نے کہا کہ ’شادی کے کارڈ چھپے ہوئے تھے، لیکن سنگیتا نے سلمان کو میرے فلیٹ میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔‘
    اور یہ بھی پہلا اور آخری موقع تھا جب سلمان خان شادی کے قریب تھے۔ اگرچہ انہوں نے دوسری عورتوں کے ساتھ تعلقات قائم کیے، لیکن یہ تعلقات کبھی شادی میں تبدیل نہیں ہوئے۔ کافی ود کرن شو میں سلمان نے خود اعتراف کیا کہ دوسری خواتین کے لیے انہیں ساری زندگی برداشت کرنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ایک اچھا بوائے فرینڈ ہوں، لیکن مجھے ساری زندگی برداشت کرنا مشکل ہے۔‘
    اگرچہ سلمان خان اور سنگیتا بجلانی کی شادی منسوخ ہو گئی تھی، لیکن دونوں نے جلد ہی اپنے ماضی کو دفن کر دیا اور باہمی احترام جاری رکھا۔ سنگیتا بجلانی نے 2001 میں ہٹ اینڈ رن کیس کے دوران بھی سلمان کا ساتھ دیا تھا۔ دونوں کو متعدد عوامی تقریبات اور شوز میں دیکھا گیا ہے۔

    سنگیتا نے سابق انڈین کرکٹر محمد اظہرالدین سے ڈیٹنگ شروع کی اور دونوں نے 1996 میں شادی کرلی (فوٹو: انڈین ایکسپریس)
    سنگیتا نے بعد میں سابق انڈین کرکٹر محمد اظہرالدین سے ڈیٹنگ شروع کی اور دونوں نے 1996 میں شادی کرلی۔ انہوں نے سنگیتا سے شادی کرنے سے پہلے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ اظہر کے ساتھ دوسری شادی تقریباً 14 سال تک چلی اور 2010 میں دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔
    سنگیتا نے اظہر سے علیحدگی کے بعد شادی نہیں کی۔ سلمان خان نے بھی کبھی شادی نہیں کی۔ سلمان اپنی اگلی ریلیز ’بیٹل آف گلوان‘ کی تیاری کر رہے ہیں جس کی ہدایت کاری اپوروا لاکھیا کریں گے۔ ریلیز کی تاریخ ابھی ظاہر نہیں کی گئی ہے، لیکن یہ ممکنہ طور پر اگلے سال عید کے آس پاس ریلیز ہوگی
    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  3. Asked: July 24, 2025

    رشمیكا مندانہ ’اینیمل‘ کے کردار رنوِجے جیسے شخص کو ڈیٹ کیوں کرنا چاہتی ہیں؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 24, 2025 at 1:13 pm

    داکارہ نے کہا کہ ’میں سچ میں یقین رکھتی ہوں کہ اگر آپ کسی سے محبت کرتے ہیں اور وہ آپ سے محبت کرتا ہے، تو وقت کے ساتھ تبدیلی ممکن ہے۔‘ برکھا دت نے ان کے جواب کے ردعمل میں کہا ’کیا آپ واقعی سوچتی ہیں کہ آپ کسی کو بدل سکتی ہیں؟ یہ ایک رومانوی اور کم عمر سوچ ہے۔‘ اس پر وضاحت کرتے ہوئے رشمیكا مندانہ نے جRead more

    داکارہ نے کہا کہ ’میں سچ میں یقین رکھتی ہوں کہ اگر آپ کسی سے محبت کرتے ہیں اور وہ آپ سے محبت کرتا ہے، تو وقت کے ساتھ تبدیلی ممکن ہے۔‘
    برکھا دت نے ان کے جواب کے ردعمل میں کہا ’کیا آپ واقعی سوچتی ہیں کہ آپ کسی کو بدل سکتی ہیں؟ یہ ایک رومانوی اور کم عمر سوچ ہے۔‘
    اس پر وضاحت کرتے ہوئے رشمیكا مندانہ نے جواب دیا کہ ’میں نے یہ اس لیے کہا کیونکہ جب آپ کسی کے ساتھ کم عمری سے رشتہ رکھتے ہیں تو دونوں اپنی شخصیت تشکیل دے رہے ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ دونوں کی پسند اور ناپسند بدلتی ہیں اور جب آپ ساتھ ساتھ بڑے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ بدلتے بھی ہیں۔‘
    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’شاید میں ان نایاب رشتوں یا خوش قسمت حالات کی بات کر رہی ہوں۔‘
    رشمیكا مندانہ کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر تنقید کی جارہی ہے۔ انٹرنیٹ صارفین نے ان پر غصے اور چڑچڑے پن کو معمول پر لانے اور ایک خطرناک کردار کی حمایت کرنے کا الزام لگایا ہے۔
    ایک صارف نے لکھا کہ ’افسوس کی بات ہے کہ ہماری سوسائٹی میں لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ لڑکوں کو بدلنے کی کوشش کریں۔ رشمیكا دراصل ہماری سوسائٹی کی عکاس ہے۔‘
    ایک اور صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’جو ریل لائف میں نہیں بدل سکی، وہ ریئل لائف میں کیا بدلے گی؟‘
    کسی نے کہا کہ ’محض اپنے فلمی کردار کا دفاع کرنے کے لیے اس طرح کے بیانات دینا ٹھیک نہیں، عورتیں کسی کو ٹھیک کرنے کی ذمہ دار نہیں ہوتیں۔‘
    ایک اور صارف کا تبصرہ تھا کہ ’یہ ایک ’پک می‘ گرل والی سوچ ہے۔‘
    اسی طرح سے ایک دوسرے ایک سمجھدار خاتون سے ایسے بیان کی امید نہیں تھی، یہ شرمناک ہے۔‘
    ایک اور صارف نے لکھا ’اسے یہاں خاموش رہنا چاہیے تھا۔ درست جواب یہ ہوتا کہ نہیں، میں حقیقی زندگی میں رنوِجے جیسے مرد سے کبھی ڈیٹ نہیں کروں گی۔‘
    یاد رہے کہ فلم ’اینیمل‘ سنہ 2023 میں ریلیز ہوئی تھی، اس کا بجٹ ایک ارب انڈین روپے تھا جبکہ اب تک اس فلم نے باکس آفس میں نو ارب 17 کروڑ سے زائد کا بزنس کیا ہے۔
    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  4. Asked: July 24, 2025

    What are the top 10 highest-grossing Bollywood films?

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 24, 2025 at 1:09 pm

    Defining "Bollywood films" strictly as Hindi-language films, and considering worldwide gross collections (not adjusted for inflation, as inflation-adjusted lists heavily favor older films due to significantly lower ticket prices in the past), here are the top 10 highest-grossing Bollywood films: DanRead more

    Defining “Bollywood films” strictly as Hindi-language films, and considering worldwide gross collections (not adjusted for inflation, as inflation-adjusted lists heavily favor older films due to significantly lower ticket prices in the past), here are the top 10 highest-grossing Bollywood films:

    1. Dangal (2016) – Approx. ₹2,024.6 crore
    2. Jawan (2023) – Approx. ₹1,148.32 – ₹1,159 crore
    3. Pathaan (2023) – Approx. ₹1,050.30 – ₹1,052.50 crore
    4. Bajrangi Bhaijaan (2015) – Approx. ₹900.90 – ₹969.06 crore
    5. Secret Superstar (2017) – Approx. ₹835–₹966 crore
    6. Animal (2023) – Approx. ₹905–917.82 crore
    7. Stree 2 (2024) – Approx. ₹837–₹874.58 crore
    8. Chhaava (2025) – Approx. ₹783–₹809 crore
    9. PK (2014) – Approx. ₹750.60 – ₹769.89 crore
    10. Gadar 2 (2023) – Approx. ₹687–₹691.08 crore

    It’s important to note that box office figures can vary slightly across different reporting sources. Also, the term “Indian films” often includes films from other regional languages like Telugu (e.g., “Baahubali 2,” “RRR,” “Pushpa 2”) or Kannada (e.g., “KGF: Chapter 2”), which would significantly alter the overall “highest-grossing Indian films” list, but the request was specifically for “Bollywood films” (Hindi language).

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  5. Asked: July 24, 2025

    امریش پوری بالی ووڈ کی لازوال شخصیت

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 24, 2025 at 1:00 pm

    بلندآواز‘ پرکشش شخصیت اور مکالموں کی بہترین انداز میں ادائیگی ‘چہرے کی سختی اور آنکھوں کے خوف کے سبب وہ ایک عرصہ تک بالی ووڈ میں بطور ویلن بے تاج بادشاہ بنے رہے ممبئی (یو این آئی) بحیثیت ویلن فلم انڈسٹری میں امریش پوری نے جومقام حاصل کیا‘ وہ ان کی بہترین اداکاری اور سخت محنت کا نتیجہ تھا۔اسٹیج سے اپRead more

    بلندآواز‘ پرکشش شخصیت اور مکالموں کی بہترین انداز میں ادائیگی ‘چہرے کی سختی اور آنکھوں کے خوف کے سبب وہ ایک عرصہ تک بالی ووڈ میں بطور ویلن بے تاج بادشاہ بنے رہے

    ممبئی (یو این آئی) بحیثیت ویلن فلم انڈسٹری میں امریش پوری نے جومقام حاصل کیا‘ وہ ان کی بہترین اداکاری اور سخت محنت کا نتیجہ تھا۔اسٹیج سے اپنی اداکاری کا سفر شروع کرنے والے امریش پوری نے اپنی ایسی پہچان بنائی کہ فلم میں ان کی موجودگی ناظرین کو سنیماہال تک کھینچ لے جاتی تھی۔بلندآواز‘ پرکشش شخصیت اور مکالموں کی بہترین انداز میں ادائیگی ‘چہرے کی سختی اور آنکھوں کے خوف کے سبب وہ ایک عرصہ تک بالی ووڈ میں بطور ویلن بے تاج بادشاہ بنے رہے۔’مُگیمبو خوش ہوا’…………. یہ الفاظ آج بھی لوگوں کے ذہن میں گونج رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری میں امریش پوری نے مگمیبو کے مشکل ترین کردار کو جس خوبی سے نبھایا ‘وہ ان کی بہترین اداکاری‘بلند قامت‘بھاری بھرکم شخصیت ‘پاٹ دار آواز کی دین تھا۔ بغیرامریش پوری مسٹر انڈیاکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ان کے اندر فن کارانہ صلاحیتیں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھیں۔جو رول بھی انہیں ملا‘اپنی لاجواب اور بہترین اداکاری کے ذریعہ انہوں نے اسے امر بنادیا۔امریش پوری نے اپنے کیرئیرکا آغاز اسٹیج سے کیا۔کئی برسوں تک وہ اس سے جڑے رہے۔ اس کے بعد انہیں فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔آہستہ آہستہ انہوں نے اپنی فن کارانہ صلاحیتوں سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ابتدا میں مختصرسا رول اداکرنے والے اس شخص کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ ایک دن شہرت کی بلندیوں کو چھولے گا اور ایک منجھے ہوئے اداکار کی شکل میں اپنی شناخت کرائے گا۔
    22جون 1922 کوانبالہ میں پیدا ہوئے امریش پوری کیریکٹر آرٹسٹ چمن پوری اور ویلن مدن پوری کے سب سے چھوٹے بھائی تھے۔کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے فلموں کا رخ کیا۔لیکن بطور ہیرو مسترد کردیئے جانے کے بعد وہ فطری طور پر بہت مایوس ہوئے۔بادل نخواستہ انہوں نے اپنی معاشی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے وزارت محنت میں ملازمت اختیار کرلی۔لیکن ان کا دل اداکاری کی طرف ہی اٹکا رہا۔آخر کار انہوں نے ایک دن ملازمت چھوڑدی اور اسٹیج اداکاری کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اسی دوران ان کی ملاقات ستیہ دیو دوبے سے ہوئی۔ اس ملاقات نے امریش پوری کی دنیا ہی بدل دی۔ستیہ دیو دوبے بہترین ہدایت کار تھے۔ انہوں نے امریش پوری کی اداکاری کو دیکھ کر ان کے اندرچھپی ہوئی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ ڈرامہ ’’اندھا یگ‘‘ میں امریش پوری کی اداکاری سے متاثر ہوکر انہوں نے تقریباً 50 ڈراموں میں انہیں کام دیا اور ان کے اندر چھپی ہوئی فن کارانہ صلاحیتوں کواجاگر کیا۔بقول ستیہ دیو دوبے:’’امریش جی کے بارے میں کیا کہوں۔بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک عمدہ ترین اداکار تھے‘‘۔
    اپنے زمانے کے مشہور ویلن کے این سنگھ امریش پوری کے آئیڈیل تھے۔انہی سے متاثر ہوکر انہوں نے اپنے آپ کو ویلن کے روپ میں ڈھالا اور وہ اس میں اس قدر کامیاب ہوئے کہ فلم انڈسٹری میں ویلن کو اہم مقام اور رتبہ دیا جانے لگا۔بقول گلشن گروور:
    ’’فلم انڈسٹری میں کھلنائک کواہم مقام دلانے میں امریش پوری کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔پہلے کھلنائک سیٹ پر ہی پنکھے کی ہوا کھاتے تھے۔لیکن امریش پوری نے کھلنائکوں کے لیے وینٹی وین کی شروعات کی۔ آج انہیں کی بدولت فلمی دنیا ہم وینٹی وین میں آرام کرپارہے ہیں‘‘۔
    ڈراموں میں ان کی بہترین اداکاری کو دیکھ کر پہلی مرتبہ سکھ دیو نے فلم ’ریشما اور شیرا‘ میں ایک رول کے لیے سائن کیا۔لیکن کنڑ فلم ’’کاڑو‘‘ سے امریش پوری کو فلمی دنیا میں پہچان ملی اور یہ فلم امریش پوری کے لیے سنگ میل ثابت ہوئی۔ مشہور آرٹ فلم ساز شیام بینیگل نے جب یہ فلم دیکھی تو وہ ان کی اداکاری کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے اور انہیں اپنی فلم’’ منتھن‘‘ اور’’ نشانت‘‘ میں کاسٹ کیا۔پھر تو ان کی کامیابی کا سفر شروع ہوگیا۔شیام بینیگل ان کی طلسماتی اداکاری سے بے حدمتاثر ہوئے اور انہوں نے اپنی ہر فلم میں امریش پوریکے لیے ایک رول مخصوص کیا۔وجیتا‘ کلیگ‘ سورج کا ساتواں گھوڑا میں امریش پوری آرٹ فلموں کے ایک مضبوط اور کامیاب اداکار کے طورپر ابھرے۔اب امریش پوری ہدایت کار اورناظرین دونوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔جس فلم میں بھی انہیں اداکاری کا موقع ملا‘ اس میں انہوں نے اپنیان مٹ چھاپ چھوڑی۔ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ناظرین ہیرو کے مقابلے انہیں زیادہ اہمیت دینے لگے۔ انہیں تقریباً ہر فلم میں امریش پوری کودیکھنے کی عادت سی پڑگئی تھی۔
    فیروز خان کی فلم ’قربانی‘ سے ان کا فلمی سفر آرٹ سے کمرشیل فلموں کی جانب بڑھا اور ان کی شہرت اس وقت بلندیوں کو چھونے لگی جب انہوں نے فلم ’’مسٹر انڈیا‘‘میں مگیمبوکا مشکل ترین کردار اس قدر جادوئی انداز میں نبھایا کہ لوگ انگشت بدنداں رہ گئے اور ہرخاص و عام کیزبان پر اس فلم کا ڈائیلاگ مگیمبو خوش ہوا عام ہوگیا۔اس فلم کے ہدایت کار شیکھر کپور کا کہنا ہے کہ لوگ مجھے مسٹر انڈیا کی بدولت جانتے ہیں اور امریش پور ی کو مسٹرانڈیا کے مگیمبو سے۔امریش پوری کے بغیر’’ مسٹر انڈیا‘‘کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔وہ اس رول میں اتنے رچ بس گئے کہ آج بھی لوگوں کو’’ مسٹر انڈیا‘‘ کا مگیمبویاد آتا ہے۔خود امریش پوری نے ’’مسٹر انڈیا‘‘کے بارے میں کہا تھا کہ یہ فلم میرے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس فلم نے میرے لیے کمرشیل فلموں کے دروازے کھول دیئے۔حالاں کہ میں نے اس سے قبل بھی ایک سے بڑھ کر ایک کردار نبھائے لیکن مگیمبو حقیقی معنوں میں چھایا رہا۔ مگیمبو کے کردار پر میں نے کافی محنت کی تھی۔ جب بچے بوڑھوں کی زبان پر’’مگیمبو خوش ہوا‘‘ چڑھ گیا تو مجھے بے پناہ مسرت ہوئی۔
    یہ بات قابل ذکر ہے کہ پران کے بعد فلم انڈسٹری ویلن کے تعلق سے ایک غیریقینی صورت حال سے دوچار تھی۔ ایک خلا سامحسوس کیا جارہا تھا ۔اس وقت کوئی ویلن ایسا نہیں آرہا تھا جو پران کی کمی کوپر کرے۔امریش پوری کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے نہ صرف اس کمی کو پورا کیا بلکہ جدید کھلنائکوں کے لیے باعث تقلید بھی بنے۔

    امریش پوری کی خاص بات یہ تھی کہ وہ کسی بھی رول کو ادا کرتے وقت اس میں پوری طرح رچ بس جاتے تھے۔ کئی دفعہ ان کے لیے کردار خصوصی طور پر تیار کئے جاتے تھے اور اس میں اپنی پوری فن کارانہ صلاحیتوں کو انڈیل دیتےتھے۔کسی بھی کردار کو ادا کرنے سے قبل وہ بڑے انہماک کے ساتھ اسے سمجھتے تھے اور نہ صرف پوری ایمان داری سے اس پر محنت کرتے تھے بلکہ اس رول میں رچ بس جاتے تھے۔اگر وہ خطرناک ڈان کا کردار نبھاتے تھے تولگتا تھاکہ اس سے خطرناک ڈان ہوہی نہیں سکتااور اگر وہ ایک ایمان دارپولیس افسر بنے توایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان سے زیادہ ایمان دار پولیس افسر کوئی ہوہی نہیں سکتا۔ان کو کسی بھی رول کو ادا کرنے کا ملکہ حاصل تھا۔ سبھاش گھئی نے اپنی فلم’’ ودھاتا‘‘ کے لیے جب امریش پوری کوویلن کے مرکزی کردار کے لیے سائن کیا تو کئی لوگوں کے ذہنوں میںیہ سوال اٹھا کہ کیا وہ شہنشاہ جذبات دلیپ کمار جیسے مشہور زمانہ چوٹی کے اداکار کے مقابلہ میں ٹک پائیں گے؟کیا وہ دلیپ کمار کے مقابلے میں اپنی اداکاری کا بھرپور مظاہرہ کرپائیں گے۔ لیکن امریش پوری نے ان خدشات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے فلم ’’ودھاتا‘‘ میں نہ صرف کامیاب اداکاری کی بلکہ دلیپ کمار کے مقابلے پورے دم خم کے ساتھ کھڑے نظر آئے ۔اسی طرح فلم’’ شکتی‘‘ میں بھی دو کامیاب ہیرو۔۔ دلیپ کمار اور امیتابھ بچن کے مقابلے بہترین اداکاری کا مظاہر ہ کیا۔یہ امریش پوری کے لیے بہت بڑی کامیابی تھی۔ ناظرین نے بھی امریش پوری کی اداکاری کی خوب تعریف کی اور امریش پوری نے اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔
    ویلن کے کردار میں وہ بہت مقبول ہوئے اور شہرت ان کے قدم چومنے لگی ۔یہاں تک کہ وہ ایک فلم کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے تک معاوضہ لیتے تھے۔انہوں نے ایمان دھرم‘آکروش‘ غدر‘ دامنی‘ دیو‘ جانی دشمن‘ دوستانہ‘ کلیگ‘ شکتی‘ دھرم ستیہ ‘ گاندھی‘ مسٹر انڈیا‘ شہنشاہ‘ وراثت‘ تریدیو‘ عجوبہ‘ سوداگر‘ مجھے کچھ کہنا ہے‘ دل والے دلہنیا لے جائیں گے ‘ چائنا گیٹ‘ گردش‘ پردیس‘ چاچی 420‘ لال بادشاہ‘ کوئلہ ‘ رام لکھن‘ گھائل‘ آج کا ارجن‘ میری جنگ‘ کرن ارجن‘ جھوٹ بولے کوا کاٹے‘ تال‘ ہلچل سمیت تقریباً دو سوفلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم کسنا میں بھی انہوں نے بہترین اداکاری کی لیکن افسوس کہ ان کییہ آخری فلم ثابت ہوئی اور وہ اس فلم کا دیدار نہ کرسکے۔
    پردے پر برائیوں کی ساری حدود توڑنے والا نیز غریبوں اور مظلوموں پرظلم کے پہاڑ توڑنے والا یہ شخص اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی نیک انسان تھا۔اکثروہ سماجی سرگرمیوں میں متحرک رہتے تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فلم انڈسٹری سے جڑے لوگوں کی شادی کی خوشی ہو یا موت کا غم‘ امریش پوری شریک ہونے والوں میں پہلے شخص ہوتے تھے۔یہ الگ بات ہے کہ زیادہ ترفلموں میں انہوں نے منفی رول ادا کئے۔جہاں کچھ فلموں میں انہوں نے حساس اور جذباتی اداکاری کی‘ وہیں انہوں نے’’ چاچی۴۲۰‘‘ اور’’ مسکراہٹ‘‘ میں مزاحیہ اداکاری کرکے ناظرین سے داد و تحسین وصول کی۔
    12جنوری کو جب ان کا جسد خاکی جوہوکے وردان بنگلہ میں رکھا ہوا تھا تو پاس ہی نصیرالدین شاہ اور اوم پوری جیسے بڑے اداکار اس طرح کھڑے تھے جیسے وہ یتیم ہوگئے ہوں۔یقیناً امریش پوری کا اس دارفانی سے کوچ کرجانافلم انڈسٹری کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں‘ لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے اپنی اداکاری کے ذریعے جو ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں ‘نئے اداکار ان سے ضرور مستفید ہوں گے اور ان کی ایک ایک حرکات و سکنات جدید اداکاروں کے لیے مشعل راہ ہوگی

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  6. Asked: July 24, 2025

    ممبئی ٹرین دھماکہ کیس میں اپیل پرجلد سماعت کیوں؟

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 24, 2025 at 12:57 pm

    نئی دہلی، 23 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ممبئی ٹرین بم دھماکہ کے کیس میں ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر جلد سماعت کی دوسری بار درخواست پر سوال اٹھایا۔مہاراشٹر حکومت کے وکیل نے چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس جائمالیہ باغچی کی بنچ کے سامنےاسRead more

    نئی دہلی، 23 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ممبئی ٹرین بم دھماکہ کے کیس میں ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر جلد سماعت کی دوسری بار درخواست پر سوال اٹھایا۔مہاراشٹر حکومت کے وکیل نے چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس جائمالیہ باغچی کی بنچ کے سامنےاس کیس کا ذکر کیا۔ اس پر بنچ نے سوال پوچھا کہ اس معاملے میں جلدبازی کی وجہ کیا ہے؟ بنچ نے کہا، “جلد بازی کیوں؟ آٹھ افراد کو پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے۔ رہائی پر روک کا حکم صرف نایاب ترین مقدمات میں لگایا جاتا ہے”۔

    درخواست گزار کے وکیل نے دلیل دی کہ عدالت اس ہفتے کیس کو درج فہرست کرنے پر راضی ہو گئی تھی، لیکن رجسٹری نے منگل کی سہ پہر تقریباً 3 بجے اس کی اپیل میں طریقہ کار کی خامی کی نشاندہی کی۔ وکیل نے کہا کہ اب ہم اس کا ذکر انتہائی احتیاط کے طور پر کر رہے ہیں۔جلد سماعت پر سوال اٹھاتے ہوئے بنچ نے پھر کہا کہ بری کرنے پر روک نادر معاملوں میں ہی لگائی جاتی ہے۔ اس پر وکیل نے کہا “شاید ہم (بنچ) کے ارکان کو قائل کر سکتے ہیں کہ یہ واقعی نادر ترین کیس ہے”۔

    مہاراشٹر حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے جس میں ممبئی ہائی کورٹ کے 21 جولائی کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں ممبئی میں 2006 کے ٹرین بم دھماکوں کے معاملے میں تمام 12 قصورواروں کو بری کر دیا گیا تھا۔سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے منگل کے روز درخواست کی تھی کہ اس معاملے کو فوری طور پر درج فہرست کیا جائے اور چیف جسٹس گوائی کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اس کی فوری سماعت کی جائے۔اس پر، بنچ نے جمعرات کے روز معاملے کو درج فہرست کرنے پر اتفاق کیا۔

    بمبئی ہائی کورٹ نے بروز پیر 21 جولائی 2025 کو اپنا فیصلہ سنایا۔ اس نے خصوصی مکوکا عدالت کے 2015 کے فیصلے کو پلٹ دیا اور اس کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا، جس میں پانچ ملزمان کو سزائے موت اور سات کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ مکوکا عدالت نے کمال انصاری (اب متوفی)، محمد فیصل شیخ، احتشام صدیقی، نوید حسین خان اور آصف خان کو سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے تنویر احمد ابراہیم انصاری، محمد ماجد شفیع، شیخ محمد، محمد ساجد مرغوب انصاری، مزمل عطاء الرحمن شیخ، سہیل محمود شیخ اور ضمیر احمد شیخ کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔واضح رہے کہ 11 جولائی 2006 کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سات بم دھماکے ہوئے تھے۔ اس المناک واقعے میں 189 افراد ہلاک اور 820 مسافر زخمی ہو گئے تھے۔ 

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  7. Asked: July 24, 2025In: Cambodia, Thailand

    What is the cause of the tension between Thailand and Cambodia?

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 24, 2025 at 8:31 am

    The tension between Thailand and Cambodia primarily stems from a long-standing border dispute, heavily focused on the area surrounding the 11th-century Preah Vihear temple. Here's a breakdown of the key causes: * Colonial-era border demarcation: The roots of the dispute lie in maps drawn by the FrenRead more

    تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟The tension between Thailand and Cambodia primarily stems from a long-standing border dispute, heavily focused on the area surrounding the 11th-century Preah Vihear temple.
    Here’s a breakdown of the key causes:
    * Colonial-era border demarcation: The roots of the dispute lie in maps drawn by the French colonial power in 1907, which were intended to delineate the border between then-Siam (Thailand) and French-controlled Cambodia. Thailand argues these maps are inaccurate and were not knowingly accepted, while Cambodia uses them as the basis for its territorial claims. The vagueness of the watershed line used in the mapping has allowed for competing interpretations.
    * The Preah Vihear Temple: This ancient Hindu temple, perched on a cliff in the Dângrêk Mountains, is the most prominent flashpoint.
    * ICJ Rulings: In 1962, the International Court of Justice (ICJ) ruled that the temple itself lies within Cambodian territory, based on the 1907 French map. However, Thailand continued to claim the surrounding land. In 2013, the ICJ reaffirmed its ruling, declaring that the land around the temple also belonged to Cambodia.
    * Nationalist Pride: For both countries, the temple is a powerful symbol of national identity and cultural heritage. This fuels strong nationalist sentiments, making it difficult to compromise on territorial claims.
    * UNESCO World Heritage Site: Cambodia’s successful bid to list Preah Vihear as a UNESCO World Heritage Site in 2008 further intensified tensions, as Thailand feared it would legitimize Cambodia’s control over the surrounding territory.
    * Unclear Borders Beyond Preah Vihear: While Preah Vihear is the most well-known, there are other ancient temple sites and areas along the 800km shared border where demarcation remains disputed, such as Ta Muen Thom and Ta Krabey temples.
    * Recent Escalations and Triggers:
    * Landmines: Recent clashes have been triggered by incidents involving landmines, with Thailand accusing Cambodia of newly planting them (which Cambodia denies, attributing them to remnants of past conflicts).
    * Political Instability: Domestic political upheaval in both nations can sometimes exacerbate border tensions, as leaders may use nationalist rhetoric for political gain.
    * Military Encounters: Direct military confrontations, including exchanges of fire and accusations of territorial incursions, frequently lead to diplomatic breakdowns and further escalate the situation.
    In essence, the tension is a complex mix of historical grievances, unresolved colonial-era border issues, the symbolic importance of cultural sites like Preah Vihear, and ongoing nationalistic sentiments.

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  8. Asked: July 24, 2025

    برطانوی شیفس نے دنیا کا سب سے بڑا اسکوچ ایگ تیار کرلیا

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 24, 2025 at 6:31 am

    دونوں شیفس نے مل کر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 دہائیوں پرانا 13 پونڈ اور 10 اونس کا ریکارڈ توڑا/ فوٹو سوشل میڈیا برطانوی شیفس نے دینا کا سب سے بڑا اسکوچ ایگ تیار کرلیا۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا پر مشہور شیفس فینکس راس اور اولی پیٹرسن نے دنیا کا سب سے بڑا اسکوچ ایگ تیارRead more

    برطانوی شیفس نے دنیا کا سب سے بڑا اسکوچ ایگ تیار کرلیادونوں شیفس نے مل کر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 دہائیوں پرانا 13 پونڈ اور 10 اونس کا ریکارڈ توڑا/ فوٹو سوشل میڈیا

    برطانوی شیفس نے دینا کا سب سے بڑا اسکوچ ایگ تیار کرلیا۔

    برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا پر مشہور شیفس فینکس راس اور اولی پیٹرسن نے دنیا کا سب سے بڑا اسکوچ ایگ تیار کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔

    دونوں شیفس نے مل کر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے  2 دہائیوں پرانا 13 پونڈ اور 10 اونس کا ریکارڈ توڑا ہے

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  9. Asked: July 24, 2025

    Men's artificial or crocodile tears really do affect other people,

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 24, 2025 at 6:29 am

    Yes, "artificial" or "crocodile tears" (meaning insincere tears used to manipulate) can absolutely affect other people, though not always in the way the crier intends. Here's how: 1. Initial Impact: Eliciting Sympathy and Help Genuine tears are a powerful social signal of distress, helplessness, andRead more

    مردوں کے مصنوعی یا مگرمچھ کے آنسو واقعی دیگر افراد پر اثرانداز ہوتے ہیں، تحقیقYes, “artificial” or “crocodile tears” (meaning insincere tears used to manipulate) can absolutely affect other people, though not always in the way the crier intends. Here’s how:
    1. Initial Impact: Eliciting Sympathy and Help
    Genuine tears are a powerful social signal of distress, helplessness, and a need for support. Observers are often wired to respond with empathy and a desire to help. When someone sheds “tears,” even if they are insincere, the initial reaction from others can still be one of concern, sympathy, and a willingness to provide assistance. This is the primary goal of someone using crocodile tears – to evoke a prosocial response.
    2. The Risk of Detection: Negative Backlash
    However, the ability to discriminate between genuine and fabricated emotional displays is crucial for social functioning. People are often subtly or overtly looking for cues to determine sincerity. If the “crocodile tears” are perceived as fake or manipulative, the impact can be highly negative:
    * Damaged Image: The crier may be perceived as manipulative, less reliable, less warm, and less competent.
    * Reduced Trust: Trust in the individual can be severely eroded, making future interactions difficult.
    * Emotional Detachment: Observers may feel a lack of empathic connection, in contrast to the feelings evoked by genuine crying.
    * Social Rejection: The person may be less welcomed as a friend, colleague, or in other social roles.
    * Professional Consequences: If the fake tears are used in professional or legal settings, the perceived deception can have serious repercussions (e.g., in court, during job interviews).
    3. Factors Influencing Perception of Sincerity:
    Several factors can influence whether “artificial tears” are believed:
    * Context: Tears shed in non-manipulative situations are more likely to be perceived as genuine.
    * Who is Crying: Surprisingly, tears from people less expected to cry (like men or individuals perceived as “less warm”) might be seen as more honest, precisely because it’s unexpected. This can inadvertently make “crocodile tears” from such individuals more effective if they go undetected.
    * Behavioral Cues: Research suggests that fake remorse or sadness can be accompanied by a broader range of emotional expressions and quicker shifts between emotions (emotional turbulence), as well as speech hesitations. Genuine displays tend to be more focused on the specific emotion and may return to a neutral state before expressing another emotion.
    In summary, while “artificial tears” might initially trigger sympathy, their effectiveness is highly dependent on whether the deception is detected. If it is, the long-term impact on relationships and reputation can be severely detrimental.

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
  10. Asked: July 24, 2025

    منگیتر کو لہنگا پسند نہ آنے پر دلہا نے دکان پر لہنگا کاٹ ڈالا

    Ali1234 Researcher
    Added an answer on July 24, 2025 at 6:26 am

    دکان دار کے انکار پر سیانی نامی نوجوان اس قدر طیش میں آ گیا کہ دکان میں داخل ہوتے ہی اس نے کپڑوں کو چاقو سے کاٹنا شروع کر دیا اور عملے کو دھمکیاں دیں__فوٹو: اسکرین گریب بھارت میں لہنگا واپس نہ کرنے پر  نوجوان نے کپڑے کی دکان پر ہنگامہ برپا کردیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ بھارتی ریاست مہRead more

    منگیتر کو لہنگا پسند نہ آنے پر دلہا نے دکان پر لہنگا کاٹ ڈالا، ویڈیو وائرلدکان دار کے انکار پر سیانی نامی نوجوان اس قدر طیش میں آ گیا کہ دکان میں داخل ہوتے ہی اس نے کپڑوں کو چاقو سے کاٹنا شروع کر دیا اور عملے کو دھمکیاں دیں__فوٹو: اسکرین گریب

    بھارت میں لہنگا واپس نہ کرنے پر  نوجوان نے کپڑے کی دکان پر ہنگامہ برپا کردیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر کلیان میں ایک نوجوان کی منگیتر نے لہنگا خریدا جو بعدازاں اسے کسی وجہ سے پسند نہ آیا، جب وہ واپس کرانے پہنچی تو دکان دار نے اسے واپس کرنے سے انکار کیا،  یہ جوڑا تقریباً 32 ہزار بھارتی روپے کا تھا۔

    دکاندار کی جانب سے لہنگا واپس کرنے سے انکار  پر سیانی نامی نوجوان اس قدر طیش میں آ گیا کہ دکان میں داخل ہوتے ہی اس نے کپڑوں کو چاقو سے کاٹنا شروع کر دیا اور عملے کو دھمکیاں دیں۔

    ویڈیو میں دیکھا گیا کہ وہ بلند آواز میں چیخ و پکار کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے اگر میرے پیسے واپس نہ کیے تو تمہیں بھی اسی طرح کاٹ ڈالوں گا، اس کے بعد وہ لہنگے کے چیتھڑے دکان میں پھینک کر باہر نکل گیا۔

    اس واقعے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے سامنے آرہے ہیں۔

    ایک نے لکھا کہ جب واپس کرنا ہو تو خریدا ہی کیوں جاتا ہے؟ ایک صارف نے لکھا، منگیتر کو خوش کرنے کے چکر میں پولیس کی مار کھانے والے ہیں

    See less
    • 0
    • Share
      Share
      • Share onFacebook
      • Share on Twitter
      • Share on LinkedIn
      • Share on WhatsApp
1 … 85 86 87 88 89 … 161

Sidebar

[the_ad_group id="2732"]

[the_ad id="17089"]

Explore

  • Nuq4 Shop
  • Become a Member

Footer

Get answers to all your questions, big or small, on Nuq4.com. Our database is constantly growing, so you can always find the information you need.

Download Android App

© Copyright 2024, Nuq4.com

Legal

Terms and Conditions
Privacy Policy
Cookie Policy
DMCA Policy
Payment Rules
Refund Policy
Nuq4 Giveaway Terms and Conditions

Contact

Contact Us
Chat on Telegram
We use cookies to ensure that we give you the best experience on our website. If you continue to use this site we will assume that you are happy with it.