Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Please briefly explain why you feel this question should be reported.
Please briefly explain why you feel this answer should be reported.
Please briefly explain why you feel this user should be reported.
وہ انوکھا پینٹ جو گھر کو 'پسینہ پسینہ' کرکے اے سی کے بغیر ٹھنڈک کا احساس دلاتا ہے
اس پینٹ کو گرم اور مرطوب موسم والے علاقوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے / فوٹو بشکریہ new atlas ائیر کنڈیشنر کے بغیر گھر کو ٹھنڈا رکھنا بہت جلد ممکن ہونے والا ہے۔ جی ہاں سنگاپور سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے ایسا انوکھا پینٹ تیار کیا ہے جو ایسا ممکن بنائے گا۔ یہ گھروں کو ٹھنڈا رکھنے والے ایسے دیگRead more
ائیر کنڈیشنر کے بغیر گھر کو ٹھنڈا رکھنا بہت جلد ممکن ہونے والا ہے۔
جی ہاں سنگاپور سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے ایسا انوکھا پینٹ تیار کیا ہے جو ایسا ممکن بنائے گا۔
یہ گھروں کو ٹھنڈا رکھنے والے ایسے دیگر پینٹس سے بالکل مختلف ہے۔
یہ نئی قسم کا پینٹ سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے جبکہ دیوار کی سطح کو پانی کے بخارات بننے کے عمل کو سست کرتا ہے۔
اس طرح یہ گرم اور مرطوب موسم والے علاقوں میں بھی کام کرتا ہے۔
Nanyang ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے تیار کردہ سیمنٹ پر مبنی پینٹ میں 3 کولنگ تکنیکس کو باہم ملا دیا گیا ہے۔
ایک ریڈی ایٹیو کولنگ، دوسری evaporative کولنگ اور تیسری سولر ریفلیکشن ہے۔
اس پینٹ کی آزمائش کے لیے ماہرین نے 3 چھوٹے گھروں کو استعمال کیا۔
ایک گھر پر عام سفید پینٹ کو استعمال کیا گیا، دوسرے میں ایک کمرشل کولنگ پینٹ کو استعمال کیا گیا جو ریڈی ایٹیو کولنگ میں مدد فراہم کرتا تھا۔
تیسرے گھر میں انہوں نے اپنے تیار کردہ پینٹ کو استعمال کیا۔
اس کے بعد 2 سال تک ان گھروں کا جائزہ لیا گیا، جس دوران پہلے 2 گھروں کے پینٹ بارش اور سورج کی روشنی میں رہنے سے زرد ہوگئے جبکہ نئے پینٹ کی رنگت بدستور برقرار رہی۔
ماہرین نے بتایا کہ ان کا تیار کردہ پینٹ مسام دار اسٹرکچر میں پانی کو برقرار رکھتا ہے اور سست روی سے خارج کرتا ہے، بالکل ایسی طرح جیسے جسم پسینہ خارج کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پینٹ سورج کی 88 سے 92 فیصد سورج کی روشنی کو منعکس کر دیتا ہے، یہاں تک کہ گیلا ہونے پر بھی یہ 95 فیصد حرارت کو پلٹا دیتا ہے۔
یعنی یہ پینٹ گھر کو اس طرح ٹھنڈا کرتا ہے جس طرح ہمارا جسم خود کو پسینہ خارج کرکے ٹھنڈا کرتا ہے جبکہ سفید رنگت بھی زیادہ وقت تک برقرار رہتی ہے۔
آزمائشی مراحل کے دوران ثابت ہوا کہ جس گھر پر اس پینٹ کا استعمال کیا گیا، وہاں ائیر کنڈیشنر کے لیے بجلی کے استعمال میں 30 سے 40 فیصد تک کمی آگئی۔
محققین نے بتایا کہ ابھی دنیا بھر میں 60 فیصد عمارات میں توانائی کا استعمال ان جگہوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے
See lessWhy do husbands in Japan give their entire salary to their wives?
روایتی طور پر جاپان میں بیویوں کے ہاتھوں میں تنخواہیں دینے کا رجحان دوسری In Japan, it is a traditional and common practice for husbands to give their entire salary to their wives, who then manage the household finances and provide the husband with an allowance (known as "kozukai"). This practice sRead more
روایتی طور پر جاپان میں بیویوں کے ہاتھوں میں تنخواہیں دینے کا رجحان دوسری In Japan, it is a traditional and common practice for husbands to give their entire salary to their wives, who then manage the household finances and provide the husband with an allowance (known as “kozukai”). This practice stems from a combination of historical, social, and practical factors:
See less* Traditional Gender Roles: Historically, Japanese society has had clearly defined gender roles, with men as the primary breadwinners and women as the primary caregivers and managers of the household. This division of labor extended to finances, with wives taking on the responsibility of budgeting, paying bills, and saving for the family’s future. While these roles are slowly evolving, the tradition persists in many households.
* Absence of Joint Bank Accounts: Japanese banking laws traditionally do not allow for joint bank accounts in the same way that Western countries do. This means that a couple cannot simply pool their income into a shared account. Therefore, a system evolved where one partner (typically the wife) takes charge of all the incoming funds and manages them.
* Financial Security for the Wife: In a system where only one person has access to the main income, if that person were to control all the accounts, it could leave the other partner with no financial stability. By the wife managing the salary, she has direct control over the household’s funds, providing her with financial security and the ability to manage daily expenses and savings.
* Efficiency and Budgeting: Many view this system as efficient for household budgeting. The wife, often being the one primarily responsible for daily household affairs, groceries, and children’s expenses, is in the best position to track and manage the family’s overall spending. This is also linked to the “kakeibo” budgeting method, a traditional Japanese system of meticulously tracking income and expenses, often maintained by the wife.
* Mutual Agreement and Trust: While it might seem unusual from a Western perspective, this arrangement is often based on mutual agreement and trust between spouses. It’s an established part of many marriages, where both partners understand and accept their respective financial roles. The “kozukai” (allowance) for the husband is then his personal spending money.
* “Hesokuri” (Secret Savings): An interesting aspect related to this practice is the concept of “hesokuri,” which refers to secret savings that wives might stash away without their husbands’ knowledge. This money is often for emergencies, long-term savings, or personal use, and it highlights the wife’s autonomy and foresight in managing finances.
While there are ongoing discussions about changing gender roles and financial independence in Japan, the practice of wives managing the family’s entire salary remains a significant part of Japanese household finance management.
The most common signs of intelligent people, do you have them too?
ذہین افراد کچھ وقت تنہائی میں رہنا پسند کرتے ہیں / فائل فوٹو عقلمند، حاضر جواب، ذی علم اور روشن دماغ لوگوں کی ذہانت کا تعین کرنے کے لیے استعمال ہونے والے چند الفاظ ہیں۔ ویسے تو ذہین افراد کی متعدد نشانیاں ہوسکتی ہیں مگر سائنس اس بارے میں کیا بتاتی ہے؟ لوگوں کی ذہانت کی سطح کا مکمل طور پر تعین کرنا اRead more
عقلمند، حاضر جواب، ذی علم اور روشن دماغ لوگوں کی ذہانت کا تعین کرنے کے لیے استعمال ہونے والے چند الفاظ ہیں۔
ویسے تو ذہین افراد کی متعدد نشانیاں ہوسکتی ہیں مگر سائنس اس بارے میں کیا بتاتی ہے؟
لوگوں کی ذہانت کی سطح کا مکمل طور پر تعین کرنا اتنا سادہ عمل نہیں۔
واشنگٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے جوزف جیبیل نے اس حوالے سے ایک تحقیق میں بتایا کہ ذہین افراد میں ایک نشانی مشترک ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ذہین افراد کچھ وقت تنہائی میں رہنا پسند کرتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ تنہائی کا یہ وقت ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ایسی عادت ہے جو بہت زیادہ ذہین افراد میں مشترک ہوتی ہے، بل گیٹس سے لے کر لیونارڈو ڈا ونچی تک، سب کچھ وقت تنہا رہ کر گزارنا پسند کرتے ہیں۔
اس طرح انہیں نئی تفصیلات کو جذب کرنے میں مدد ملتی ہے، دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں جبکہ تخلیقی صلاحیتیں زیادہ مؤثر انداز سے کام کرنے لگتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق مائیکرو سافٹ کے ابتدائی برسوں میں بل گیٹس ہر سال 2 بار ایک ہفتے تک ایک کیبن تک محدود ہوتے تھے، جہاں کتابوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔
بل گیٹس اسے سوچنے والا ہفتہ قرار دیتے تھے جس میں انہیں سیکھنے اور بلا رکاوٹ سوچنے میں مدد ملتی تھی۔
تحقیق کے مطابق تنہائی میں کچھ وقت گزارنا اس وقت بھی کارآمد ثابت ہوتا ہے جب آپ کو لگ رہا ہو کہ آپ ایک جگہ پھنس گئے ہیں، لیونارڈو ڈا ونچی گھنٹوں تک تنہائی میں اپنی ایک پینٹنگ کو گھورتے رہتے تھے اور پھر ایک برش اسٹروک کے بعد چلے جاتے تھے۔
جوزف جیبیل نے بتایا کہ ویسے تو یہ کہنا ممکن نہیں کہ کتنا وقت تنہائی میں گزارنا بہترین ہے بلکہ اس کا انحصار آپ پر ہے کہ آپ کتنا وقت تنہائی میں گزارنا پسند کرتے ہیں۔
درحقیقت ان کا کہنا تھا کہ کئی بار تو تنہائی چہل قدمی کے لیے نکل جانا بھی دماغ کو تازہ دم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے
See lessاس تصویر میں بلی سیڑھیوں پر اوپر جا رہی ہے یا نیچے اتر رہی ہے؟
یہ وہ تصویر ہے / فوٹو بشکریہ 9Gag لگ بھگ 10 سال پہلے یہ تصویر انٹرنیٹ پر پوسٹ ہوئی اور لوگوں کے ذہنوں کو گھما دیا۔ بس آپ کو یہ دیکھ کر بتانا ہے کہ تصویر میں بلی سیڑھیوں پر چڑھ رہی ہے یا نیچے اتر رہی ہے۔ جی ہاں واقعی بہت سادہ سا سوال ہے مگر تصویر ایسی ہے کہ اسے دیکھ کر سمجھ نہیں آتا کہ بلی اوپر جاRead more
لگ بھگ 10 سال پہلے یہ تصویر انٹرنیٹ پر پوسٹ ہوئی اور لوگوں کے ذہنوں کو گھما دیا۔
بس آپ کو یہ دیکھ کر بتانا ہے کہ تصویر میں بلی سیڑھیوں پر چڑھ رہی ہے یا نیچے اتر رہی ہے۔
جی ہاں واقعی بہت سادہ سا سوال ہے مگر تصویر ایسی ہے کہ اسے دیکھ کر سمجھ نہیں آتا کہ بلی اوپر جا رہی ہے یا نیچے اتر رہی ہے۔
کچھ افراد کو یہ نیچے جاتی ہوئے نظر آتی ہے تو کچھ کا اصرار ہوتا ہے کہ یہ اوپر جا رہی ہے۔
اس کا درست جواب کیا ہے یہ تو معلوم نہیں یا یوں کہہ لیں کہ اسی کو معلوم ہوگا جس نے اس تصویر کو کھینچا مگر جواب بتانا پسند نہیں کیا۔
ویسے اس کا درست جواب جو بھی ہو مگر اس کے حوالے سے ایک دلچسپ تحقیق کے نتائج آپ ضرور جان سکتے ہیں۔
کچھ عرصے قبل دی مائنڈ جرنل میں اس تصویر کو شائع کرکے کہا گیا تھا کہ اگر آپ کو اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ بلی اوپر جا رہی ہے تو آپ زندگی میں ہمیشہ پرامید رہنے والے فرد ہیں یا سیدھے سادے الفاظ میں مثبت سوچ کے مالک ہیں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ نیچے اتر رہی ہے تو پھر آپ مایوس یا منفی سوچ رکھنے والے فرد ہیں۔
البتہ جریدے میں شائع مضمون میں اس حوالے سے کوئی سائنسی وضاحت نہیں کی گئی تو آپ بے فکر ہوکر کہہ سکتے ہیں کہ بلی سیڑھیاں اتر رہی ہے اوپر نہیں جا رہی
See lessاس تصویر میں سر کھجانے پر مجبور کر دینے والی چھپی گڑبڑ پکڑ سکتے ہیں؟
بظاہر تو اوپر موجود تصویر میں ایسا لگتا ہے کہ 4 خواتین کسی سیاحتی مقام کی سیر سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔ مگر آپ جو دیکھ رہے ہیں وہ اتنا بھی سادہ نہیں۔ ایک ویب سائٹ میں پوسٹ ہونے والی اس تصویر نے کچھ سال قبل انٹرنیٹ پر لاکھوں صارفین کو اپنے سر کھجانے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس تصویر مRead more
بظاہر تو اوپر موجود تصویر میں ایسا لگتا ہے کہ 4 خواتین کسی سیاحتی مقام کی سیر سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔
مگر آپ جو دیکھ رہے ہیں وہ اتنا بھی سادہ نہیں۔
ایک ویب سائٹ میں پوسٹ ہونے والی اس تصویر نے کچھ سال قبل انٹرنیٹ پر لاکھوں صارفین کو اپنے سر کھجانے پر مجبور کر دیا تھا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ اس تصویر میں کچھ ایسا چھپا ہوا ہے جو آپ کی آنکھیں سرسری نظر میں نہیں دیکھ پاتیں
See lessاچانک ہر کوئی 27 پر کیوں چلانے لگا اے سی؟ جان لیا تو یقین آپ بھی کریں گے یہی کام، جم کر ہورہی بحث!
مانسون کے دنوں میں 27 ڈگری سیلسیس کو ایک آرام دہ اور موزوں درجہ حرارت سمجھا جاتا ہے۔ اس موسم میں اگر آپ بھی اے سی کو اس درجہ پر چلاتے ہیں تو اس کے فائدے ہیں ارش کے باوجود گرمی اور مرطوب ماحول کی وجہ سے لوگ اکثر پریشان رہتے ہیں۔ ایسی چپچپی اور مرطوب گرمی سے نجات پانے کے لیے اکثر لوگ اے سی کا سہارا لیRead more
مانسون کے دنوں میں 27 ڈگری سیلسیس کو ایک آرام دہ اور موزوں درجہ حرارت سمجھا جاتا ہے۔ اس موسم میں اگر آپ بھی اے سی کو اس درجہ پر چلاتے ہیں تو اس کے فائدے ہیں ارش کے باوجود گرمی اور مرطوب ماحول کی وجہ سے لوگ اکثر پریشان رہتے ہیں۔ ایسی چپچپی اور مرطوب گرمی سے نجات پانے کے لیے اکثر لوگ اے سی کا سہارا لیتے ہیں۔ عام طور پر، گھر کو جلدی اور مؤثر طریقے سے ٹھنڈا کرنے کے لیے اے سی کو 22 یا 24 ڈگری سیلسیس پر سیٹ کیا جاتا ہے۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ مسلسل ایک ماہ تک اے سی کو اسی کم درجہ حرارت پر چلائیں تو بجلی کے بل میں اتنا اضافہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی نیندیں اُڑ سکتی ہیں؟ تو سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ موجود ہے جس سے گھر ٹھنڈا رہے اور بجلی کا بل بھی کم آئے؟
اس کا جواب ہاں ہے۔ یہ طریقہ نہایت آسان ہے ۔ بس اپنے اے سی کا درجہ حرارت 27 ڈگری سیلسیس پر سیٹ کردیں۔ ماہرین کے مطابق مانسون جیسے موسم میں اے سی کا استعمال عموماً 26 سے 27 ڈگری کے درمیان کرنا بہتر ہوتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ 27 ڈگری کو کیوں بہترین سمجھا جاتا ہے۔
بجلی کی بچت : 27 ڈگری پر اے سی چلانے سے بجلی کی کھپت 22 یا 24 ڈگری کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ آپ کا بجلی کا بل نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔
ماحول دوست : کم بجلی کی کھپت کا مطلب کم کاربن کا اخراج ہے۔ اس طرح آپ نہ صرف اپنے اخراجات کم کرتے ہیں بلکہ ماحول کی آلودگی کو بھی کم کرتے ہیں ۔
صحت کے لیے مفید : بہت زیادہ ٹھنڈا ماحول صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ 22 ڈگری پر اے سی چلانے سے کمرے کا درجہ حرارت بہت جلد گرتا ہے، جو جسم کے درجہ حرارت کو بھی کم کر دیتا ہے اور اس سے قوت مدافعت کمزور ہو سکتی ہے، بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ جبکہ 27 ڈگری پر اے سی چلانے سے کمرہ نہ زیادہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ زیادہ گرم، جو آپ کی صحت کے لیے بہتر ہے۔
مانچسٹرمیں بھارت کی مشکلوں میں اضافہ،زخمی پنت آج بلے بازی کرنے اتریں گے یانہیں، ٹیم کے لیے بڑا سوال
ٹیم انڈیانے انگلینڈ کے خلاف چوتھے ٹیسٹ میں اچھی شروعات کی ہے۔ بھارت نے میچ کے پہلے دن 4 وکٹوں پر 264 رن بنا لیے ہیں۔ تاہم، پہلے دن کے آخری لمحات میں رشبھ پنت کے انجرڈ ہونے نے ٹیم انڈیا کوتشویش میں مبتلا کردیا ہے مانچسٹرٹیسٹ کے پہلے دن رشبھ پنت کے زخمی ہونے سے ٹیم انڈیا کی مشکلیں بڑھتی دکھائی دے رہیRead more
ٹیم انڈیانے انگلینڈ کے خلاف چوتھے ٹیسٹ میں اچھی شروعات کی ہے۔ بھارت نے میچ کے پہلے دن 4 وکٹوں پر 264 رن بنا لیے ہیں۔ تاہم، پہلے دن کے آخری لمحات میں رشبھ پنت کے انجرڈ ہونے نے ٹیم انڈیا کوتشویش میں مبتلا کردیا ہے
مانچسٹرٹیسٹ کے پہلے دن رشبھ پنت کے زخمی ہونے سے ٹیم انڈیا کی مشکلیں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔بڑا سوال یہی ہے کہ کیا انجرڈ پنت دوسرے دن بلے بازی کرنے میدان پر اتریں گے؟اور اگر نہیں توپھر؟اس طرح کے کئی سوالات ٹیم مینجمنٹ اورشائقین کے ذہن و دل میں ہیں۔
حالانکہ ٹیسٹ کے پہلے دن ٹیم انڈیا نے انگلینڈ کے خلاف 4 وکٹ کے نقصان پر 264 رن بنا لیے ہیں ۔ لیکن رشبھ پنت کے زخمی ہونے سے ٹیم انڈیا کو جھٹکا لگا ہے جوٹیم کو پریشان کرسکتا ہے۔رشبھ پنت سوھپ شارٹ کھیلتے ہوئے زخمی ہوئے اور انھیں میدان سے باہر جانا پڑا۔ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ وہ کھیل کے دوسرےدن بیٹنگ کے لیے میدان میں واپس آئیں گے یا نہیں۔
ادھر پہلے دن بھارت چار بلے بازوں کوگنوا چکا ہے۔ ان میں سے سائی سدرشن (61) اور یشسوی جیسوال (58) نے نصف سنچریاں بنائیں ۔ کے ایل راہل 46 اور شبمن گل 12 رن بنائے۔ رشبھ پنت 37 رن بنانے کے بعد ریٹائرڈ ہرٹ ہوئے۔ بہت سے سابق ہندوستانی کرکٹرز پنت کی چوٹ کو پہلے دن گرنے والی 4 وکٹوں سے بڑا جھٹکا سمجھ رہے ہیں۔ تاہم، کچھ سابق کرکٹرز بھی پنت سے دوبارہ بلے بازی کی توقع کر رہے ہیں۔
ہیمانگ بدانی کو امید ہے کہ رشبھ پنت دوسرے دن واپس آکر بلے بازی کریں گے لیکن اس وقت ان کی حالت تشویشناک ہے۔ سابق تیز گیند باز آر پی سنگھ نے کہا کہ اگر پنت کی چوٹ زیادہ سنگین نہیں ہے تو وہ بلے بازی کے لیے ضرور آئیں گے۔ ہاں اگر انجری سنگین ہے تو ٹیم انتظامیہ کوئی خطرہ مول نہیں لے گی۔
See lessBenazir Bhutto: From 'Pinky' to Prime Minister
Benazir Bhutto, affectionately known as "Pinky" in her youth, transformed from the privileged daughter of a political dynasty into the first woman to lead a democratic government in a Muslim-majority country, serving twice as Prime Minister of Pakistan. Her life was a testament to both remarkable acRead more
Benazir Bhutto, affectionately known as “Pinky” in her youth, transformed from the privileged daughter of a political dynasty into the first woman to lead a democratic government in a Muslim-majority country, serving twice as Prime Minister of Pakistan. Her life was a testament to both remarkable achievement and profound tragedy.
Early Life and the Origin of “Pinky”:
Born on June 21, 1953, in Karachi, Pakistan, Benazir Bhutto was the eldest child of Zulfikar Ali Bhutto, a prominent politician who would later become Prime Minister of Pakistan. Her mother, Nusrat Bhutto, hailed from a wealthy Persian family. The nickname “Pinky” was given to her by her family because she was an “unusually pink baby.”
Benazir’s upbringing was steeped in privilege and intellectual pursuits. She received her early education at Catholic schools in Pakistan before attending Radcliffe College at Harvard University, where she earned a B.A. cum laude in comparative government in 1973. She continued her studies at Oxford University, reading philosophy, political science, and economics, and famously became the first Asian woman to be elected president of the Oxford Union, a prestigious debating society. It was during her time at these esteemed institutions that her intellect and passion for political discourse began to flourish.
The Political Awakening and Rise to Power:
Her return to Pakistan in 1977 was quickly overshadowed by a military coup led by General Muhammad Zia-ul-Haq, who deposed and later executed her father in 1979. This devastating event propelled Benazir into the political spotlight. Along with her mother, she took charge of the Pakistan People’s Party (PPP), enduring frequent house arrest and periods of exile as she championed the restoration of democracy in Pakistan.
After Zia-ul-Haq’s death in a plane crash in 1988, free elections were held. Benazir Bhutto led the PPP to victory, and on December 2, 1988, at the age of 35, she made history by becoming the 11th Prime Minister of Pakistan. She was a beacon of hope for many, both within Pakistan and globally, as a symbol of female leadership and democratic aspirations in the Muslim world.
Tenure as Prime Minister and Challenges:
Bhutto served two non-consecutive terms as Prime Minister: from 1988 to 1990 and again from 1993 to 1996. During her time in office, she focused on social programs, aiming to improve healthcare, education, and access to electricity, particularly in rural areas. She also worked on improving Pakistan’s foreign relations and attracting foreign investment.
However, her premierships were marked by significant challenges, including a volatile relationship with the military establishment, political instability, and persistent allegations of corruption, which eventually led to her dismissals from office. Despite these setbacks, she remained a formidable figure in Pakistani politics, continuing to lead the PPP and advocate for democratic principles.
Return to Pakistan and Tragic Assassination:
After years of self-imposed exile, largely in London and Dubai, Benazir Bhutto returned to Pakistan in October 2007, following a deal with then-President Pervez Musharraf, with plans to participate in the upcoming general elections. Her return was met with a massive public outpouring of support but also with immediate danger. A suicide bomb attack on her motorcade in Karachi on the day of her return killed many of her supporters, though she narrowly escaped.
Tragically, on December 27, 2007, while campaigning in Rawalpindi, Benazir Bhutto was assassinated. She was shot and a suicide bomb was detonated immediately after, claiming her life and those of many others. Her death sent shockwaves across Pakistan and the international community, highlighting the perilous nature of political life in the country.
Benazir Bhutto’s journey from “Pinky,” the cherished daughter, to Prime Minister, the formidable leader, is a powerful narrative of ambition, resilience, and an unwavering commitment to democracy, tragically cut short. Her legacy continues to resonate in Pakistan and beyond as a symbol of courage and a pioneer for women in leadership.










See lessعمران خان کے بیٹوں کی گرفتاری سے متعلق بیان پر جمائما کا ردعمل: ’یہ سیاست نہیں، ذاتی دشمنی ہے‘
پاکستان کی حکومت نے جہاں ایک طرف عمران خان کی رہائی کے لیے ایک تحریک میں ان کے بیٹوں کی ممکنہ شمولیت کے خلاف متنبہ کیا ہے تو دوسری طرف جمائما خان نے اس معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان نے کہا ہے کہ ’میرے بچوں کو ان کے والد عمران خان سے فون پر بات نہیں کرنے دی جا رہی ہےRead more
پاکستان کی حکومت نے جہاں ایک طرف عمران خان کی رہائی کے لیے ایک تحریک میں ان کے بیٹوں کی ممکنہ شمولیت کے خلاف متنبہ کیا ہے تو دوسری طرف جمائما خان نے اس معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان نے کہا ہے کہ ’میرے بچوں کو ان کے والد عمران خان سے فون پر بات نہیں کرنے دی جا رہی ہے۔‘ انھوں نے عمران خان سے متعلق ایکس پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’انھیں تقریباً دو برس سے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔‘
جمائمہ خان نے کہا کہ حکومت پاکستان نے اب یہ کہا ہے کہ اگر عمران خان کے بیٹے انھیں ملنے آئیں گے تو پھر انھیں گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’ایک جمہوری ریاست میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہ سیاست نہیں ہے۔ یہ ذاتی دشمنی ہے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے ایک بار پھر ایک بڑی مزاحمتی تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا ہے جس کی منظوری خود عمران خان نے دی ہے لیکن اس بار کی تحریک میں ایک نیا عنصر عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کی ممکنہ شمولیت ہے جس کے ملکی سیاست اور تحریک انصاف پر پڑنے والے اثرات کی بازگشت پاکستان کی سیاست سمیت سوشل میڈیا پر بھی زور شور سے جاری ہے۔


What is the procedure for banning a political party in Pakistan?
The procedure for banning a political party in Pakistan is primarily governed by the Constitution of Pakistan (specifically Article 17, which guarantees the right to form associations and political parties, subject to reasonable restrictions) and the Election Act, 2017. Here's a breakdown of the typRead more
The procedure for banning a political party in Pakistan is primarily governed by the Constitution of Pakistan (specifically Article 17, which guarantees the right to form associations and political parties, subject to reasonable restrictions) and the Election Act, 2017.
Here’s a breakdown of the typical procedure:
Key Legal Considerations and Realities:
In summary, the formal procedure for a direct ban requires a declaration by the Federal Government, followed by its affirmation by the Supreme Court. However, governments in Pakistan have also used other regulatory and legal means, such as the ECP’s powers regarding party registration and symbols, to effectively cripple or marginalize political parties.
See less