Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Please briefly explain why you feel this question should be reported.
Please briefly explain why you feel this answer should be reported.
Please briefly explain why you feel this user should be reported.
حکومت نے عمران خان کی جماعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیوں کیا؟
،تصویر کا کیپشنپی ٹی آئی نے غیرملکی فنڈنگ کے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے پاکستانی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔ جہاں ایک طرف حکومتی وزرا اور مسلم لیگ ن کے رہRead more
،تصویر کا کیپشنپی ٹی آئی نے غیرملکی فنڈنگ کے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے
پاکستانی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔ جہاں ایک طرف حکومتی وزرا اور مسلم لیگ ن کے رہنما تحریک انصاف پر ’انتشار کی سیات کرنے‘ کا الزام لگاتے ہیں وہیں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا مقصد جماعت پر دباؤ بڑھانا ہے۔
پیر کو ایک پریس کانفرنس میں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے یہ بھِی اعلان کیا کہ ان کی حکومت عمران خان، سابق صدر عارف علوی اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری پر آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ’غداری‘ کا مقدمہ بنائے گی۔
حکومت کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تین دن قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ایک پارلیمانی جماعت تسلیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دی جائیں۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف حکومت نے نظرِ ثانی کی اپیل دائر کی ہے۔

Has any political party been banned in Pakistan in the past?
Yes, several political parties have been banned in Pakistan's history, often during periods of military rule or intense political crackdowns by civilian governments. This has been a recurring feature of Pakistan's tumultuous political landscape. Here are some notable examples: Communist Party of PakRead more
Yes, several political parties have been banned in Pakistan’s history, often during periods of military rule or intense political crackdowns by civilian governments. This has been a recurring feature of Pakistan’s tumultuous political landscape.
Here are some notable examples:
The banning of political parties in Pakistan has often been a tool used by powerful establishments, particularly military dictatorships, to suppress political opposition and consolidate power. These actions frequently lead to challenges to democratic norms and human rights concerns.
See less’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کیا ہے اور پاکستان فوج کی جانب سے یہ اصطلاح کیوں استعمال کی جاتی ہے؟
،تصویر کا کیپشنایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے سوموار کے دن ایک پریس کانفرنس میں فوج کے ادارے اور اس کی قیادت پر مبینہ فیک نیوز کی مدد سے تنقید کرنے والوں کو ’ڈیجیٹل دہشت گرد‘ قرار دیتےRead more
،تصویر کا کیپشنایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی
پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے سوموار کے دن ایک پریس کانفرنس میں فوج کے ادارے اور اس کی قیادت پر مبینہ فیک نیوز کی مدد سے تنقید کرنے والوں کو ’ڈیجیٹل دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو قانون اور سزائیں ہی روک سکتی ہیں۔
اس بیان کی اہم بات یہ تھی کہ پاکستان فوج کے شعبہ ابلاغ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل احمد شریف چودھری نے شدت پسندوں اور ’ڈیجیٹل دہشت گردوں‘ کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’دونوں کا ہدف فوج ہے۔‘
’انھوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دہشت گرد فوج، فوج کی قیادت، فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور کرنے کے لیے فیک نیوز کی بنیاد پر حملے کر رہے ہیں۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے یہ بھی کہا کہ ’جس طرح ایک دہشت گرد ہتھیار پکڑ کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح ڈیجیٹل دہشت گرد موبائل، کمپیوٹر، جھوٹ، فیک نیوز اور پراپیگنڈے کے ذریعے اضطراب پھیلا کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے یہ بیان ایک ایسے دن سامنے آیا جب اسلام آباد میں پولیس اور ایف آئی اے کی مشترکہ کارروائی میں تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن کی گرفتاری کے بعد پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی ’ریاست مخالف پروپیگنڈا‘ میں ملوث ہے۔


عمران خان، فوج اور کنٹینرز: اقتدار کی جاری جنگ کا پاکستان کے لیے کیا مطلب ہے؟
کئی ہفتے گزر گئے مگر اسلام آباد کی سڑکوں کے کنارے آج بھی کنٹینر پڑے ہیں تاکہ کسی بھی احتجاج کی بِھنک پڑے تو فوراً انھیں سڑکوں کے بیچ رکھ کر راستے بند کیے جا سکیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اِس شہر کے باسی بھی اب عادی ہو گئے ہیں کہ جیسے ہی شہر کی انتظامیہ کو کسی ناخوشگوار صورتحال کی کوئی اُڑتی خبر ملے وہ شہرRead more
کئی ہفتے گزر گئے مگر اسلام آباد کی سڑکوں کے کنارے آج بھی کنٹینر پڑے ہیں تاکہ کسی بھی احتجاج کی بِھنک پڑے تو فوراً انھیں سڑکوں کے بیچ رکھ کر راستے بند کیے جا سکیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اِس شہر کے باسی بھی اب عادی ہو گئے ہیں کہ جیسے ہی شہر کی انتظامیہ کو کسی ناخوشگوار صورتحال کی کوئی اُڑتی خبر ملے وہ شہر سیل کر دیتے ہیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں رہنے والے جانتے ہیں کہ کسی بھی لمحے وہ کہیں بھی پھنس سکتے ہیں۔
گذشتہ اتوار کو ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے کے پیش نظر راتوں رات شہر کی اہم شاہراوں پر کنٹینر رکھ کر 29 سڑکوں کو بلاک کر دیا گیا تھا۔ مگر یہ کنٹینر پاکستان تحریکِ انصاف کے حامیوں کا راستہ روکنے میں ناکام رہے، جو سڑکوں سے کنٹینر ہٹاتے، تمام رکاوٹیں دور کرتے، جھنڈے اور بینر لہراتے ہزاروں کی تعداد میں اسلام کے نواح میں ہونے والے جلسے میں پہنچے۔ جلسے میں پہنچنے والوں نے چہرے پر سابق وزیراعظم کے ماسک پہن رکھے تھے جبکہ اُن کے سروں پر غباروں سے بندھے عمران خان کے پوسٹر لہرا رہے تھے۔
مران خان ایک سال سے زائد عرصے سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ اُن پر کرپشن اور ریاستی راز افشا کرنے جیسے الزامات ہیں۔
عمران خان اپنے خلاف تمام الزامات کو سیاسی مقدمات قرار دیتے ہیں۔ زیادہ تر مقدمات میں انھیں دی گئی سزائیں معطل ہو چکی ہیں اور اقوام متحدہ کے ایک ورکنگ گروپ نے بھی اعلان کیا ہے کہ انھیں ’جبری حراست میں رکھا گیا ہے‘ مگر اس سب کے باوجود مستقبل قریب میں اُن کے جیل سے باہر آنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی ہے۔
زیادہ تر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے جب تک پاکستان کی ’سیاسی طور پر طاقتور‘ فوج نہیں چاہیے گی، خان باہر نہیں آ سکتے۔
مگر اس حقیقت کا ادراک ہونے کے باوجود اتوار کو پی ٹی آئی رہنما عمران خان کے چاہنے والوں سے سیاسی وعدے کرنے سے باز نہیں آئے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے سٹیج سے اعلان کیا ’سنو پاکستانیو، اگر ایک سے دو ہفتوں کے اندر اندر عمران کو قانونی طور پر رہا نہ کیا گیا تو خدا کی قسم ہم خود عمران خان کو رہا کروائیں گے


پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات: کیا واقعی معاملات ’مائنس عمران خان‘ تک پہنچ چکے ہیں؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر اختلافات کی خبریں گذشتہ کئی عرصے سے گردش کر رہی ہیں اور قائدین کی ایک دوسرے پر تنقید اور اب علیمہ خان کا ’مائنس عمران خان‘ کے حوالے سے بیان ان خبروں کو تقویت دے رہا ہے۔ اڈیالہ جیل کے باہر ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم کی بہن علیمہ خان کاRead more
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر اختلافات کی خبریں گذشتہ کئی عرصے سے گردش کر رہی ہیں اور قائدین کی ایک دوسرے پر تنقید اور اب علیمہ خان کا ’مائنس عمران خان‘ کے حوالے سے بیان ان خبروں کو تقویت دے رہا ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم کی بہن علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ اب (عمران خان) مائنس ہی ہو گئے ہیں۔‘
ایک اور صحافی نے انھیں بتایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں صوبائی بجٹ عمران خان کی اجازت کے بغیر ہی منظور کر لیا گیا اور اراکین پارلیمنٹ کہتے ہیں کہ وہ علی امین گنڈاپور کو نہ نہیں کہہ سکتے۔ اس بات کا جواب دیتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ’اگر بوجھ نہیں اُٹھا سکتے تو گھر چلے جائیں۔‘
علیمہ خان کی اس گفتگو کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ امین گنڈاپور کا بھی ایک ویڈیو پیغام منظرِ عام پر آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’مائنس عمران خان اس وقت ہی ہو گا جب ہم زندہ نہیں ہوں گے



کیا شاہ محمود قریشی مستقبل قریب میں کوئی سیاسی کردار ادا کر سکتے ہیں؟
پاکستان میں سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین حالیہ عدالتی فیصلوں کے بعد یہ قیاس آرائیاں کرتے یا سوال پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ اگر شاہ محمود قریشی باقی مقدمات میں بھی بری ہونے کے بعد رہا ہو جاتے ہیں تو کیا وہ پی ٹی آئی کے اندر یا باہر سیاسی طور پر کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں بھی تجزیہ نRead more
پاکستان میں سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین حالیہ عدالتی فیصلوں کے بعد یہ قیاس آرائیاں کرتے یا سوال پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ اگر شاہ محمود قریشی باقی مقدمات میں بھی بری ہونے کے بعد رہا ہو جاتے ہیں تو کیا وہ پی ٹی آئی کے اندر یا باہر سیاسی طور پر کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں بھی تجزیہ نگار ماجد نظامی کا خیال ہے کہ شاہ محمود قریشی کے لیے کوئی ایسا کردار ادا کرنا مشکل ہو گا جس میں پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر نقصان ہوتا نظر آ رہا ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کے اندر کوئی نئی حکمرانی لانا یا کوئی نیا گروپ وغیرہ بنانا بہت مشکل ہو گا۔ ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں یا پنجاب کے اندر جب بھی اس قسم کی کوشش کی گئی ہے اس کا نتیجہ ان کی سیاسی تباہی کی صورت میں نکلا ہے۔‘
ماجد نظامی کے خیال میں شاہ محمود قریشی عمران خان کی مرضی اور منشا کے بغیر پارٹی کے اندر بھی کوئی ایسا کردار ادا نہیں کر پائیں گے جس سے وہ پی ٹی آئی کو تقسیم کر پائیں یا اپنے اختیار میں کر پائیں۔
صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی بھی کہتے ہیں کہ ’ایسی کسی کوشش کو پی ٹی آئی کا ورکر یا ووٹر اور سپورٹر تسلیم نہیں کرے گا۔‘ ان کے خیال میں جب تک شاہ محمود قریشی پر عمران کن کا ہاتھ نہیں ہو گا ان کے لیے پی ٹی آئی کے اندر کوئی کردار ادا کرنا مشکل نظر آتا ہے۔
’تاریخ میں کبھی بھی مائنس ون کا فارمولا کامیاب نہیں ہوا۔ یہاں پی ٹی آئی میں بھی عمران خان کی ہی تمام ویلیو ہے۔‘
ماضی کے کچھ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلمان غنی کہتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی کی سیاسی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ زیادہ تر ’مزاحمت کے سیاست دان نہیں رہے۔‘ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’حال ہی میں ان کے بیٹے اور پی ٹی آئی لیڈر زین قریشی بارگین کر چکے ہیں اور وہ اس وقت ملک میں موجود بھی نہیں ہیں۔‘
ان کے خیال میں اس بات کے امکانات کم ہیں کہ شاہ محمود قریشی جیل سے باہر آ جائیں کیونکہ اگر وہ باہر آ جائیں تو بھی اس بات کے امکانات مزید کم ہیں کہ وہ سیاسی کردار ادا کر پائیں گے
Punishments to PTI leaders: Is anything going to change inside or outside Imran Khan's party?
The recent wave of convictions and arrests of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) leaders, particularly those linked to the May 9, 2023, riots, is having a significant and multifaceted impact on Imran Khan's party, both internally and externally. Internal Changes within PTI: Leadership Vacuum and CommuniRead more
The recent wave of convictions and arrests of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) leaders, particularly those linked to the May 9, 2023, riots, is having a significant and multifaceted impact on Imran Khan’s party, both internally and externally.
Internal Changes within PTI:
External Perception and Impact on PTI’s Stance:
In essence, the punishments are a severe blow to PTI’s organizational structure and immediate political maneuvering. While the party maintains a defiant public stance and aims to mobilize its base, the ongoing legal battles, incarceration of key figures, and alleged efforts by the establishment to weaken it will undoubtedly continue to shape its internal dynamics and external perception in the coming months. The party’s ability to maintain unity and rally support despite these challenges will be crucial for its future.
See lessایئرانڈیا کے تباہ ہونے والے طیارے کی 21 سالہ ایئرہوسٹس: ’وہ خاندان کی پہلی لڑکی تھی جس نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا‘
’وہ بطور ایئر ہوسٹس اپنی ملازمت سے بہت خوش تھی۔ یہ اُس کا خواب تھا۔ ابھی وہ کالج ہی میں زیر تعلیم تھی جب اس نے ایئر ہوسٹس بننے کا امتحان پاس کیا اور ایئرلائن میں نوکری حاصل کر لی۔ اُس وقت اُس کی عمر صرف 19 سال تھی۔ وہ ابھی کچھ دن پہلے ہی گھر آئی تھی لیکن اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔‘ سنتومبھا شرما جRead more
’وہ بطور ایئر ہوسٹس اپنی ملازمت سے بہت خوش تھی۔ یہ اُس کا خواب تھا۔ ابھی وہ کالج ہی میں زیر تعلیم تھی جب اس نے ایئر ہوسٹس بننے کا امتحان پاس کیا اور ایئرلائن میں نوکری حاصل کر لی۔ اُس وقت اُس کی عمر صرف 19 سال تھی۔ وہ ابھی کچھ دن پہلے ہی گھر آئی تھی لیکن اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔‘
سنتومبھا شرما جب ہمیں اپنی 21 سالہ بھانجی نگانتھوی شرما کی کہانی سُنا رہی تھیں تو اُن کے چہرے پر اداسی تھی اور آنکھیں نم تھیں۔
21 سالہ ایئرہوسٹس نگانتھوی شرما ایئرانڈیا کی اس پرواز پر اپنی خدمات سرانجام دے رہی تھیں جو 12 جون کو ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس بدقسمت طیارے پر سوار صرف ایک شخص ہی زندہ بچ پایا تھا جبکہ دیگر 241 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں اپنی بھانجی کو یاد کرتے ہوئے سنتومبھا شرما نے کہا کہ ’میری بھانجی اپنے تین بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھیں۔ اس کی ایک بڑی بہن اور ایک چھوٹا بھائی ہے جو دسویں کلاس میں پڑھتا ہے۔

ایئر انڈیا کے طیارے میں ہلاک ہونے والا خاندان جو برسوں بعد ایک ساتھ رہنے کا خواب لیے لندن جا رہا تھا
،تصویر کا کیپشنطیارے میں سوار ہونے کے بعد ڈاکٹر پراتیک کی لی گئی یہ سیلفی حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی انڈیا کی ریاست گجرات کے احمد آباد میں طیارہ حادثہ کئی جانیں لے گیا۔ اس حادثے سے متعلق کئی پوسٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں سے ایک تصویر ہنستے مسکراتے مستقبل کے حوالے سے نئے خواب آنکRead more
،تصویر کا کیپشنطیارے میں سوار ہونے کے بعد ڈاکٹر پراتیک کی لی گئی یہ سیلفی حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی
انڈیا کی ریاست گجرات کے احمد آباد میں طیارہ حادثہ کئی جانیں لے گیا۔ اس حادثے سے متعلق کئی پوسٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں سے ایک تصویر ہنستے مسکراتے مستقبل کے حوالے سے نئے خواب آنکھوں میں سجائے ایک خاندان کی بھی ہے۔
یہ اس خاندان کی آخری سیلفی تھی جو انھوں نے جہاز میں سوار ہونے کے بعد بنائی اور شاید اپنے خاندان کو روانگی سے قبل بھیجی تھی۔
تصویر میں تین بچوں اور ان کے والدین کو مسکراتے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ ایک ایسا خاندان تھا جو کئی سالوں کے بعد ایک ساتھ رہنے کے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے برطانیہ منتقل ہو رہا تھا۔ پرواز سے پہلے لی گئی یہ سیلفی اب ان کے اہل خانہ کے لیے ان کی آخری یاد بن گئی ہے۔ اس المناک حادثے میں ڈاکٹر پراتیک جوشی، ان کی اہلیہ ڈاکٹر کومی ویاس، ان کی آٹھ سالہ بیٹی میرا اور پانچ سالہ جڑواں بیٹے پردیوت اور نکول کی موت ہو گئی۔




How will the Air India plane crash investigation be conducted?
The investigation into the Air India plane crash will be conducted primarily by the Aircraft Accident Investigation Bureau (AAIB) of India, which is the designated authority for such investigations in the country. The AAIB operates under the Aircraft (Investigation of Accidents and Incidents) Rules,Read more
The investigation into the Air India plane crash will be conducted primarily by the Aircraft Accident Investigation Bureau (AAIB) of India, which is the designated authority for such investigations in the country. The AAIB operates under the Aircraft (Investigation of Accidents and Incidents) Rules, 2017, and is an independent body under the Ministry of Civil Aviation.
Here’s a breakdown of how the investigation is typically conducted:
It’s important to note that throughout the process, the AAIB aims for transparency and impartiality, although there can be external pressures and differing interpretations of preliminary findings, as seen with some media reports and statements from pilot associations regarding the recent Air India crash.




See less