Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Please briefly explain why you feel this question should be reported.
Please briefly explain why you feel this answer should be reported.
Please briefly explain why you feel this user should be reported.
میٹرک کے امتحان میں پوزیشن حاصل کرنیوالا طالبعلم ایک دن کیلئے اعزازی ڈی سی ننکانہ بن گیا
فیضان رضا کو ڈی سی کی کرسی پر بٹھاکر بریفنگ دی گئی، فیضان رضا نے شہریوں کے مسائل بھی سنے اور فائلوں پر دستخط کیے،فوٹو: ایکس لاہور بورڈ میں میٹرک کے امتحان میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والا شاہ کوٹ کے سبزی فروش کے فرزند فیضان رضا کو ایک دن کے لیے اعزازی ڈی سی ننکانہ صاحب بنا دیاگیا۔ اعزازی ڈی سی ننکاRead more
لاہور بورڈ میں میٹرک کے امتحان میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والا شاہ کوٹ کے سبزی فروش کے فرزند فیضان رضا کو ایک دن کے لیے اعزازی ڈی سی ننکانہ صاحب بنا دیاگیا۔
اعزازی ڈی سی ننکانہ صاحب فیضان رضا کے اعزاز میں تنگ گلیوں میں صفائی ستھرائی کے بعد قالین بچھا دیےگئے اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں، پروٹوکول کی گاڑیاں پہنچیں تو مقامی لوگ دنگ رہ گئے۔
مکمل پروٹوکول دیتے ہوئے ایک پولیس والے نے آگے بڑھ کرگاڑی کا دروازہ کھولا اور اسسٹنٹ کمشنر شاہ کوٹ ثنا شرافت اور دیگر افسران نے اعزازی ڈپٹی کمشنر کو سرکاری گاڑی میں بٹھایا اور وہ پروٹوکول والی گاڑیوں کے جھرمٹ میں ڈی سی آفس پہنچے.
یضان رضا کو ڈی سی کی کرسی پر بٹھاکر بریفنگ دی گئی، فیضان رضا نے شہریوں کے مسائل بھی سنے اور فائلوں پر دستخط کیے۔
اعزازی ڈپٹی کمشنر نے ایک اجلاس کی مشترکہ صدارت بھی کی اور اپنے اسکول کا دورہ بھی کیا۔
میڈیا سے گفتگو میں فیضان رضا نے اس اعزاز کو اپنے والدین کے نام کر دیا۔
شہریوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ اس طرح حوصلہ افزائی سے ہر طالب علم میں آگے بڑھنے کی جستجو بڑھےگی
See lessرویندر جڈیجا سے ہاتھ کیوں نہیں ملایا؟ بین اسٹوکس نے راز سے پردہ اٹھادیا
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب بین اسٹوکس نے میچ کے آخری دن کھیل کو ڈرا کرنے کی پیشکش کی، اُس وقت بھارتی کھلاڑی رویندر جڈیجا اور واشنگٹن سندر اپنی سنچریوں کے قریب تھے، اسی وجہ سے بھارتی کھلاڑیوں نے یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے کھیل جاری رکھا. بعد ازاں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس مRead more
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب بین اسٹوکس نے میچ کے آخری دن کھیل کو ڈرا کرنے کی پیشکش کی، اُس وقت بھارتی کھلاڑی رویندر جڈیجا اور واشنگٹن سندر اپنی سنچریوں کے قریب تھے، اسی وجہ سے بھارتی کھلاڑیوں نے یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے کھیل جاری رکھا.
بعد ازاں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا گیا کہ میچ کے بعد اسٹوکس نے تمام بھارتی کھلاڑیوں سے مصافحہ کیا لیکن جڈیجا سے نہیں کیا اور جڈیجا کی باری آتے ہی انہوں نے منہ موڑ لیا۔
ویڈیو کے اختتام پر دونوں کھلاڑیوں کے درمیان کچھ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس پر سوشل میڈیا پر بین اسٹوکس پر غصے کا اظہار کیا گیا۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں بین اسٹوکس نے وضاحت دی کہ جڈیجا اور سندر نے شاندار اننگز کھیلی، ہماری ٹیم نے میچ کو جیتنے کی آخری حد تک پہنچایا لیکن جب اندازہ ہوا کہ نتیجہ ممکن نہیں تو میں نے اپنے مرکزی بولرز کو مزید تھکانے کا خطرہ مول نہیں لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سنچری سے 10 رنز کم ہوں یا زیادہ، اصل بات یہ ہے کہ آپ نے اپنی ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالا، یہی اصل کامیابی ہے۔
بین اسٹوکس نے آخری اوورز میں ہیری بروک کو گیند تھمائی جو فُل ٹائم بولر نہیں ہیں جس پر سوشل میڈیا پر خاصی تنقید بھی ہوئی۔ انہوں نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی فٹنس اور اگلے میچ کی تیاری ان کے پیش نظر تھی۔
دوسری طرف بھارتی کوچ گوتم گمبھیر نے جڈیجا اور سندر کی سنچریوں کو روکنے کی کوشش پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بیٹرز اپنے 3 ہندسوں کے اسکور کے مکمل حقدار تھے، چاہے میچ کا نتیجہ کچھ بھی ہو۔
یاد رہے کہ انگلینڈ کو پانچ میچوں کی سیریز میں 1-2 سے برتری حاصل ہے، سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے 5 وکٹ سے فتح حاصل کی تھی۔
دوسرے میچ میں بھارت 336 رنز سے کامیاب ہوا تھا جبکہ تیسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ کو 22 رنز سے کامیابی ملی تھی، سیریز کا پانچواں اور آخری ٹیسٹ 31 جولائی سے اوول میں شروع ہوگا
See lessWhy is Microsoft's office in Pakistan closing after 25 years?
The closure of Microsoft's office in Pakistan after 25 years was part of a larger corporate restructuring strategy that the company has been implementing globally. While specific details about why the office in Pakistan was shut down are not fully disclosed, here are a few possible reasons that mayRead more
The closure of Microsoft’s office in Pakistan after 25 years was part of a larger corporate restructuring strategy that the company has been implementing globally. While specific details about why the office in Pakistan was shut down are not fully disclosed, here are a few possible reasons that may align with broader trends in corporate decisions:
1. Cost-Cutting Measures
Microsoft, like many global companies, periodically evaluates its operations to streamline costs and improve efficiency. If the company felt that maintaining an office in Pakistan was no longer as cost-effective as it once was, they may have decided to consolidate operations elsewhere.
2. Shift to Remote Work and Cloud Solutions
With the rise of remote work and cloud-based services, Microsoft has shifted many of its operations to be more digitally integrated, reducing the need for physical office spaces in certain regions. This trend could be a factor, especially as the company increasingly focuses on cloud computing and software services, which can be managed remotely.
3. Business Restructuring and Prioritization
Microsoft may be prioritizing other markets that offer more growth potential. They might have decided to focus on countries or regions that offer better strategic alignment with their future goals, such as emerging technology hubs or places where they see more long-term potential.
4. Changing Market Dynamics in Pakistan
The economic, political, and regulatory landscape in Pakistan could have influenced Microsoft’s decision. Factors such as inflation, government policies, or changes in the tech ecosystem may have impacted Microsoft’s ability to operate efficiently in the region.
5. Global Economic Conditions
The tech industry, in general, has seen significant layoffs and downsizing in recent years, driven by the post-pandemic economic slowdown, inflation, and other global challenges. Microsoft itself has undergone some workforce reductions and restructuring, which may have led to downsizing operations in certain regions, including Pakistan.
It’s also worth noting that Pakistan’s tech market is growing and Microsoft may continue to serve customers in the region through its global cloud and software services rather than maintaining a direct physical presence.
Do you have any particular thoughts on how this might impact the tech landscape in Pakistan?
See lessبلڈ شوگر ڈائیٹ کیا ہے اور اگر آپ کو ذیابیطس نہیں تو ڈاکٹر اس سے گریز کا مشورہ کیوں دیتے ہیں؟
پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان دنوں بازار میں شوگر مانیٹر ڈیوائس کے اشتہارات بھی بکثرت نظر آتے ہیں۔ وہ اکثر ان لوگوں کے لیے بھی تجویز کیے جاتے ہیں جن کو ذیابیطس نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شوگر مانیٹر ان لوگوں کے لیے ضروری نہیں ہے جوRead more
پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان دنوں بازار میں شوگر مانیٹر ڈیوائس کے اشتہارات بھی بکثرت نظر آتے ہیں۔ وہ اکثر ان لوگوں کے لیے بھی تجویز کیے جاتے ہیں جن کو ذیابیطس نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شوگر مانیٹر ان لوگوں کے لیے ضروری نہیں ہے جو ذیابیطس کا شکار نہیں ہیں۔ ایسا کرنے سے ان میں غذائیت کی کمی باعث بھی بن سکتا ہے۔
ذیابیطس کی نگرانی کرنے والے آلات کو اکثر لوگوں کی کھانے پینے اور غذائیت کے ایک اہم جزو کے طور پر فروغ دیا جاتا ہے اور اس عمل کو بلڈ شوگر ڈائٹ کا نام دیا جا رہا ہے۔
یہ اکثر سوشل میڈیا پر فروغ پاتے ہیں۔ برطانیہ میں زیڈ او ای جیسی کمپنیاں ایسے مانیٹر کے نظام کو فروغ دیتی ہیں۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز کے ذیابیطس کنسلٹنٹ پروفیسر پارتھاکر کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے کہ جن لوگوں کو ذیابیطس نہیں ہے ان میں ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں اس کا کوئی کردار ہے

ذیابیطس یا ’شوگر‘ کیا ہے اور آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
سستی اور پیاس ذیابیطس کی علامات ہو سکتی ہیں عمومی علامات بہت زیادہ پیاس لگنا معمول سے زیادہ پیشاب آنا، خصوصاً رات کے وقت تھکاوٹ محسوس کرنا وزن کا کم ہونا دھندلی نظر زخموں کا نہ بھرنا
سستی اور پیاس ذیابیطس کی علامات ہو سکتی ہیں
عمومی علامات
ذیابیطس یا ’شوگر‘ کیا ہے اور آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images ذیابیطس تاحیات ساتھ رہنے والے ایسی طبی حالت ہے جو ہر سال لاکھوں افراد کو ہلاک کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا اس کی پیچیدگی کی وجہ سے دل کے دورے، فالج، نابینRead more
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ذیابیطس تاحیات ساتھ رہنے والے ایسی طبی حالت ہے جو ہر سال لاکھوں افراد کو ہلاک کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔
یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا اس کی پیچیدگی کی وجہ سے دل کے دورے، فالج، نابینا پن، گردے ناکارہ ہونے اور پاؤں اور ٹانگیں کٹنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی بارے میں
’ہر چوتھا پاکستانی ذیابیطس کا شکار ہے‘
’ذیابیطس سے ہر سال ڈیڑھ سے دو لاکھ پاکستانی معذور‘
ہ تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے اور انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 53 کروڑ سے زیادہ افراد اس مرض کا شکار ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یہ تعداد 40 سال پہلے کے مقابلے میں پانچ گنا ہے۔
ذیابیطس کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ 2021 تک کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً سوا تین کروڑ بالغ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کا مریض ہے اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
پاکستان میں ہر برس ذیابیطس کے مرض کے باعث تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد معذور ہو جاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ذیابیطس پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہ بھی ہے اور 2005 کے مقابلے میں اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں میں 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
ان خطرات کے باوجود ذیابیطس کا شکار فیصد لوگوں کو اس بات کا علم نہیں کہ روزمرہ کے معمولات میں تبدیلی کئی معاملات میں بہتری لا سکتی ہے
پاکستان میں بچوں میں تیزی سے بڑھتا ذیابیطس کا مرض: ’ہم نے تو کبھی سُنا تک نہیں تھا کہ بچوں کو بھی شوگر ہو سکتی ہے‘
’پاکستان میں ہر دو لاکھ میں سے ایک بچہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو رہا ہے۔ اور ان مریض بچوں میں سے 90 فیصد بچے ٹائپ 2 ذیابیطس جبکہ 10 فیصد ٹائپ ون ذیابیطس کا شکار ہیں‘
’پاکستان میں ہر دو لاکھ میں سے ایک بچہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو رہا ہے۔ اور ان مریض بچوں میں سے 90 فیصد بچے ٹائپ 2 ذیابیطس جبکہ 10 فیصد ٹائپ ون ذیابیطس کا شکار ہیں‘






See lessپاکستان میں بچوں میں تیزی سے بڑھتا ذیابیطس کا مرض: ’ہم نے تو کبھی سُنا تک نہیں تھا کہ بچوں کو بھی شوگر ہو سکتی ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images ’میرا بیٹا 12 سال کا تھا۔ وہ دوسرے شہر کے سفر سے لوٹا تو تھکا تھکا رہنے لگا۔ بخار، قبض اور کمزوری کی شکایت ہو گئی۔ مجھے لگا یہ سب سفر کرنے سے ہوا ہے لیکن میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسے ذیابیطس کی بیماری ہو سکتی ہے۔‘ عمارہ خان دو سال سے اسی بے یقینی کی کیفیت میں ہRead more
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’میرا بیٹا 12 سال کا تھا۔ وہ دوسرے شہر کے سفر سے لوٹا تو تھکا تھکا رہنے لگا۔ بخار، قبض اور کمزوری کی شکایت ہو گئی۔ مجھے لگا یہ سب سفر کرنے سے ہوا ہے لیکن میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسے ذیابیطس کی بیماری ہو سکتی ہے۔‘
عمارہ خان دو سال سے اسی بے یقینی کی کیفیت میں ہیں۔ ان کی والدہ اور ساس دونوں اس مرض میں مبتلا ہیں لیکن چونکہ ان کے شوہر، وہ خود اور دیگر بڑے بچے صحت مند ہیں اس لیے انھیں یقین نہیں آیا کہ ان کا سب سے چھوٹا بیٹا احمد اس بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔
مجموعی آبادی میں ’ذیابیطس‘ کے مریضوں کے تناسب کی وجہ سے پاکستان دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔ ذیابیطس ایک ایسی حالت ہے جس میں جسم ضرورت کے لیے کافی انسولین نہیں بنا سکتا ہے یا عام طور پر انسولین کا استعمال نہیں کرسکتا ہے۔ اسلام آباد میں ذیابیطس کے ہسپتال ’دی ڈائبیٹیز سینٹر‘ کے چیئرمین ڈاکٹر اسجد حمید کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں ہر چوتھا فرد ذیابیطس کا مریض ہے۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان کا ہر دو لاکھ میں سے ایک بچہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو رہا ہے۔ اور ان مریض بچوں میں سے 90 فیصد بچے ٹائپ 2 ذیابیطس جبکہ 10 فیصد ٹائپ ون ذیابیطس کا شکار ہیں۔
پاکستان میں الیکٹرک بائیکس پر اربوں روپے کی سبسڈی دینے کا منصوبہ کیا ہے اور اس سے خریداروں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
’پاکستان میں 10 چینی کمپنیاں الیکٹرک سکوٹرز اور بائیکس اسمبل کر رہی ہیں جن کی ماہانہ سیلز یا فروخت 50 ہزار یونٹس سے زیادہ نہیں ہے‘
’پاکستان میں 10 چینی کمپنیاں الیکٹرک سکوٹرز اور بائیکس اسمبل کر رہی ہیں جن کی ماہانہ سیلز یا فروخت 50 ہزار یونٹس سے زیادہ نہیں ہے‘

See lessپاکستان میں الیکٹرک بائیکس پر اربوں روپے کی سبسڈی دینے کا منصوبہ کیا ہے اور اس سے خریداروں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
پاکستان میں سالانہ لگ بھگ 15 لاکھ بائیکس یعنی موٹر سائکلیں فروخت ہوتی ہیں اور کئی برسوں سے اس صنعت پر ملک کی سب سے بڑی موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی ’ایٹلس ہنڈا‘ کی اجارہ داری قائم رہی ہے۔ مگر اب پاکستان میں الیکٹرک وہیکل پالیسی کا مسودہ پیش کیے جانے کے بعد ہنڈا نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے پہلیRead more
پاکستان میں سالانہ لگ بھگ 15 لاکھ بائیکس یعنی موٹر سائکلیں فروخت ہوتی ہیں اور کئی برسوں سے اس صنعت پر ملک کی سب سے بڑی موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی ’ایٹلس ہنڈا‘ کی اجارہ داری قائم رہی ہے۔
مگر اب پاکستان میں الیکٹرک وہیکل پالیسی کا مسودہ پیش کیے جانے کے بعد ہنڈا نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے پہلی بار ملک میں رواں برس کے دوران الیکٹرک بائیکس متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی اردو کے فیچر اور تجزیے براہ راست اپنے فون پر ہمارے واٹس ایپ چینل سے حاصل کریں۔ بی بی سی اردو واٹس ایپ چینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں۔
الیکٹرک وہیکل پالیسی میں الیکٹرک بائیکس، سکوٹرز اور تھری وہیلرز کے لیے خصوصی سبسڈی کی تجویز دی گئی ہے۔ معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اس پالیسی کی اصولی منظوری دے چکے ہیں۔ ہارون اختر کے مطابق انھیں امید ہے کہ اگلے ایک ماہ میں یہ پالیسی کابینہ سے بھی منظور ہو جائے گی